• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

امریکا میں بنگلادیشی طالبہ ناہیدہ سلطانہ برسٹی کی لاش کی تصدیق

فوٹو: بنگلادیشی میڈیا
فوٹو: بنگلادیشی میڈیا 

امریکا میں بنگلادیشی پی ایچ ڈی طالبہ ناہیدہ سلطانہ برسٹی کی لاش کی تصدیق ہوگئی، میت وطن منتقل کرنے کیلئے تیاریاں کی جاری ہیں۔

امریکا میں یونیورسٹی آف ساؤتھ فلوریڈا میں پڑھنے والے دو طلبہ جس میں ایک طالبہ بھی شامل تھی، 16 اپریل کو لاپتہ ہوئے تھے جس میں سے جمیل لیمون کی لاش 24 اپریل کو پل کے قریب ایک کچرے کے تھیلے سے ملی، جبکہ طالبہ ناہیدہ برسٹی کی باقیات بھی برآمد کرلی گئیں، حکام  طالبہ کی لاش کی با ضابطہ تصدیق  کردی۔

امریکا میں بنگلادیشی سفارتخانے کے پریس منسٹر غلام مرتضیٰ نے میڈیا کو بتایا کہ فلوریڈا پولیس نے شناخت کیلئے ناہیدہ برسٹی کے بھائی سے رابطہ کرنے کے بعد لاش کی تصدیق کی۔

مقتولہ ناہیدہ برسٹی کے  خاندانی ذرائع کے مطابق اہلِ خانہ نے میت کو بنگلا دیش منتقل کرنے کی درخواست کی ہے۔ اس سلسلے میں امریکا میں بنگلادیشی سفارتخانے کے حکام سے رابطے میں ہیں اور میت کی منتقلی کا عمل شروع کردیا گیا ہے۔

دوسری جانب اسی واقعے میں ایک اور طالب علم جمیل لیمون کی میت بھی 4 مئی کو ڈھاکا لائی جائے گی، حکام کے مطابق جمیل کی میت حضرت شاہ جلال انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر  صبح 8 بج کر 40  پر اماراتی ایئرلائنز کی پرواز کے ذریعے پہنچے گی۔ ان کی میت کو اورلینڈو سے 2 مئی کی رات دبئی کے راستے روانہ کیا جائے گا۔

جمیل لیمون اور ناہیدہ برسٹی دونوں امریکی یونیورسٹی میں پی ایچ ڈی کے طالب علم تھے جو 16 اپریل کو لاپتہ ہوئے تھے۔ تحقیقات کے مطابق لیمون کو آخری بار اس رہائشی کمپلیکس میں دیکھا گیا جہاں وہ مرکزی ملزم کے ساتھ رہائش پذیر تھے۔

پولیس نے موبائل فون لوکیشن اور گاڑیوں کی نگرانی کے نظام کی مدد سے شواہد حاصل کیے، جس کے بعد 24 اپریل کو ایک پل کے قریب جمیل لیمون کی لاش برآمد ہوئی۔ استغاثہ کے مطابق ان کے جسم پر چاقو کے متعدد زخم تھے اور انہیں باندھا گیا تھا۔

بعد ازاں 26 اپریل کو قریبی آبی گزرگاہ سے ایک اور لاش ملی، جس کی شناخت اب برسٹی کے طور پر کی گئی۔

پولیس نے ملزم حشام ابو غربہ کو ان دونوں طلبہ کے قتل کے الزام میں گرفتار کرلیا، جو کہ مقتول جمیل لیمون کا روم میٹ بھی تھا، پراسیکیوٹر نے بتایا کہ ملزم نے چیٹ جی پی ٹی سے مبینہ طور پر انسانی لاش کو ٹھکانے لگانے کے طریقوں سے متعلق سوالات پوچھے تھے۔

بین الاقوامی خبریں سے مزید