• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

امریکا: بنگلادیشی طلبہ کا قتل، اوپن اے آئی کیخلاف تحقیقات شروع

فوٹوز: بنگلادیشی میڈیا
فوٹوز: بنگلادیشی میڈیا 

امریکی ریاست فلوریڈا میں دو بنگلادیشی طلبہ کے قتل کیس میں حکام نے مصنوعی ذہانت کی کمپنی اوپن اے آئی کے خلاف فوجداری تحقیقات شروع کردیں۔

امریکا میں یونیورسٹی آف ساؤتھ فلوریڈا میں پڑھنے والے دو طلبہ جس میں ایک طالبہ بھی شامل تھی، 16 اپریل کو لاپتہ ہوئے تھے جس میں سے جمیل لیمون کی لاش 24 اپریل کو پل کے قریب ایک کچرے کے تھیلے سے ملی، جبکہ طالبہ ناہیدہ برسٹی کی باقیات نہر سے برآمد ہوئی، تاہم حکام نے ابھی تک ان باقیات کو طالبہ کی لاش سے متعلق با ضابطہ تصدیق نہیں کی۔

پولیس نے ملزم حشام ابو غربہ کو ان دونوں طلبہ کے قتل کے الزام میں گرفتار کرلیا، جو کہ مقتول جمیل لیمون کا روم میٹ بھی تھا، پراسیکیوٹر نے بتایا کہ ملزم  نے چیٹ جی پی ٹی  سے مبینہ طور پر انسانی لاش کو ٹھکانے لگانے کے طریقوں سے متعلق سوالات پوچھے تھے۔

عدالت میں جمع کروائی گئی دستاویزات کے مطابق، ملزم اور چیٹ جی پی ٹی کے درمیان مبینہ گفتگو میں ایسے سوالات شامل تھے، جیسے لاش کو کچرے کے تھیلے میں رکھنے کا طریقہ، سر میں گولی لگنے کے بعد زندہ بچنے کے امکانات،  گاڑی کا شناختی نمبر تبدیل کرنا، صبح سویرے پارک میں گاڑیوں کی چیکنگ اور کیا پڑوسی گولی کی آواز سن سکتے ہیں۔

تحقیقات کے مطابق یہ سوالات واردات سے چند دن قبل سے لے کر لاش کی دریافت سے کچھ گھنٹے پہلے تک کیے گئے، حکام کا کہنا ہے کہ ملزم جو مقتول لیمون کا روم میٹ تھا، پہلی لاش ملنے کے چند گھنٹوں بعد گرفتار کیا گیا۔

فلوریڈا  کے اٹارنی جنرل جیمز اتھمیر نے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں کہا کہ "ہم اوپن اے آئی کے خلاف اپنی فوجداری تحقیقات کو یونیورسٹی آف ساؤتھ فلوریڈا  قتل کیس تک وسعت دے رہے ہیں، کیونکہ ہمیں معلوم ہوا ہے کہ مرکزی ملزم نے چیٹ جی پی ٹی استعمال کیا۔"

دوسری جانب مقتولین کے اہل خانہ نے انصاف کا مطالبہ کیا ہے۔ لیمون کے بھائی نے کہا کہ یہ سانحہ نہ صرف ان کے خاندان بلکہ تمام بین الاقوامی طلبہ کے لیے تشویش کا باعث ہے۔

ریاستی حکام اب اس بات پر غور کر رہے ہیں کہ آیا اوپن اے آئی کو اس کیس میں باضابطہ طور پر طلب  کیا جائے یا نہیں جو امریکا میں اے آئی کمپنیوں کی ممکنہ قانونی ذمہ داری کے حوالے سے ایک اہم نظیر بن سکتا ہے۔

بین الاقوامی خبریں سے مزید