دبئی /تہران ((اے ایف پی /نیوز ڈیسک ) متحدہ عرب امارات نے اوپیک اور اوپیک پلس سے علیحدگی کا اعلان کردیا ہے جس سے عالمی توانائی مارکیٹ میں ہلچل مچ گئی ہے ‘اماراتی نیوز ایجنسی وام کے مطابق اس فیصلے کا اطلاق یکم مئی بروزجمعہ سے ہو گا۔یواے ای کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ تنظیم میں شمولیت کے دوران ہم نے سب کے فائدے کے لیے اہم کردار ادا کیا اور بڑی قربانیاں دیں تاہم اب وقت آ گیا ہے کہ ہم اپنی کوششیں ان امور پر صرف کریں جو ہمارے قومی مفاد کا تقاضا ہیں تاہم امارات عالمی توانائی منڈی کے استحکام کے لیے اپنا فعال کردار جاری رکھے گااورتیل کی پیداوار میں بتدریج اورمتوازن انداز میں اضافہ کرے گاجبکہامریکی وزیر خارجہ مارکوروبیو کا کہنا ہے کہ ایران آبنائے ہرمز کو بطور معاشی ایٹمی ہتھیار استعمال کر رہا ہے‘ایران کو جوہری ہتھیار سے روکنا کسی بھی معاہدے کی بنیادی شرط ہےجبکہ ایران کے نائب وزیردفاع بریگیڈیئر جنرل رضا طلائی نیک کا کہنا ہے کہ واشنگٹن آزاد ممالک پر اپنی پالیسیاں مسلط کرنے کے قابل نہیں رہا۔ادھرخلیجی ممالک کا سربراہی اجلاس منگل کو جدہ میں ہوا جس میں خطے کی تازہ ترین صورتِ حال پر غورکیاگیا۔ امریکی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق ٹرمپ نے ایران کی جانب سے جنگ کے خاتمے کے لیے پیش کی گئی حالیہ تجویز پر شکوک کا اظہار کیا ہے‘امریکی عہدیدار نے بتایاکہ ٹرمپ نے اس پیشکش کو مکمل طور پر مسترد تو نہیں کیا تاہم ایرانی قیادت کی نیت پر عدم اعتماد ظاہر کیا ہے ۔ وال اسٹریٹ جرنل اورنیو یارک ٹائمز کے مطابق ٹرمپ اس تجویز سے مطمئن نہیں ہیں۔تفصیلات کے مطابق اماراتی وزیرتوانائی سہیل المزروعی نے برطانوی خبر رساں ادارے کو بتایا کہ اوپیک اور اوپیک پلس سے علیحدگی کا فیصلہ توانائی ‘تیل اور دیگر شعبوں کے ایک محتاط اور جامع اسٹریٹجک جائزے کے بعد کیا گیا ہے۔ان کا کہناتھاکہ یہ قدم ایک موزوں وقت پر اٹھایا جا رہا ہے اور خصوصاً آبنائے ہرمز میں موجود پابندیوں کے تناظر میں اس سے منڈی پر کوئی بڑا اثر نہیں پڑے گا۔