لوک کہانیاں بڑی دلچسپ ہوتی ہیں۔ پتا نہیں آپ نے ’گامن سُچیار‘ کا نام سنا ہے یا نہیں۔’سُچیار‘ کا مطلب ہے سچا۔یہ سرائیکی لوک کہانیوں کا پرانا کردار ہے جسے اس کی عقلمندی، کھرے پن اور بذلہ سنجی کی وجہ سے جانا جاتاہے۔آپ اسے ملا نصیر الدین ٹائپ کا کوئی بندہ سمجھ سکتے ہیں۔گامن سچیار کی باتیں لوگوں کو قہقہے لگانے پر مجبور کر دیتی تھیں اس لیے مشہور ہے کہ بہاولپور کے نواح میں اِس کے مزار پر کوئی پوری سنجیدگی کے ساتھ قبر کے سات پھیرے نہیں لگا سکتا کیونکہ اسی دوران اس پر ہنسی کا دورہ پڑجاتاہے۔ میں کئی دفعہ بہاولپور جا چکا ہوں لیکن بدقسمتی سے گامن سُچیار کے نام سے منسوب مزار پر نہیں جاسکا ورنہ یہ تجربہ آپ سے ضرور شیئر کرتا۔ تاہم احباب کا کہنا ہے کہ اس کی نفسیاتی وجہ بھی ہوسکتی ہے۔جب آپ کو کوئی بتائے کہ فلاں جگہ جنات کا بسیرا ہے تو وہاں جاکر آپ یقین نہ کرتے ہوئے بھی ایک انجانے سے خوف میں مبتلا ہوجاتے ہیں۔اسی طرح جب گامن سُچیار کی قبر کے بارے میں ہنسنے والی باتیں مشہور ہوں گی تو ممکن ہے بے اختیار ہنسی نکل جاتی ہو۔میرا بہت دل چاہتاہے کہ کاش گامن سُچیار زندہ ہوتا اور میں اُس کی محفل کا لطف اُٹھا سکتا۔میرا ذاتی مشاہدہ ہے کہ مسکراہٹوں میں رمز ہوتی ہے، تخلیقیت ہوتی ہے، عجز ہوتاہے، اندازِ بیان بدل جاتا ہے اور کسی بھی مسئلے کو سمجھنا اور سیکھنا زیادہ آسان ہوجاتا ہے۔سنجیدگی میں بین السطور تلخی ہوتی ہے، اعصاب چوکنے ہوتے ہیں، غرور کی آمیزش ہوتی ہے اور مخاطب اپنے لیے ایک دباؤ کی کیفیت محسوس کرتاہے۔ہم خود اپنی زندگی میں ہر ایسے بندے سے بات کرنے میں زیادہ سہولت محسوس کرتے ہیں جس کے چہرے پر مسکراہٹ یا گفتگو میں شرارتی پن ہو۔لیکن یہ بھی سچ ہے کہ ہمارے معاشرے میں جس بندے کے بارے میں مشہورہوکہ ’وہ کسی کی بات نہیں سنتا‘۔ ا سے ہم بہت ایماندار اور جرات مند تصور کرلیتے ہیں۔ایسے ایماندار آپ کو اکثر سرکاری دفتروں میں مل جائیں گے جو سلام تک کا جواب دینا گوارا نہیں کرتے اوراپنے تئیں اپ رائٹ بنے ہوتے ہیں۔
٭ ٭ ٭
آپ کبھی آدھی رات کے وقت کسی کھانے والی جگہ پرجائیں۔ پوری امید ہے کہ کوئی نہ کوئی آٹھ نو سال کا بچہ مسکین سی شکل بنائے آپ کے سامنے ہاتھ پھیلائے کھڑا ہوگا۔ اگر آپ پوچھیں کہ اتنی رات کو یہاں کیا کررہے ہو تو یا تو وہ بھاگ جائے گا یا دانت نکالتا ہوا دوسری طرف نکل جائے گا۔ یہ بچہ اکیلا نہیں ہوتا۔دادا سمیت پوری فیملی ایک ہی مشن پر نکلی ہوئی ہوتی ہے۔ کچھ بھکاریوں کو رٹے رٹائے جملے یاد ہوتے ہیں مثلاً’میں توصرف جمعرات کو ہی بھیک مانگتاہوں‘۔گویا ہفتے کے باقی دن موصوف آئی ٹی کی کلاسز پڑھاتے ہیں۔میں نے آج تک کسی فقیر کو کسی غریب کی مدد کرتے نہیں دیکھا۔یہ طے کرکے نکلتے ہیں کہ کسی کو سکون سے نہیں بیٹھنے دیں گے۔آپ کہیں آؤٹ ڈور بیٹھے کھانا کھا رہے ہیں تو یہ آپ کو یوں حسرت بھری نظروں سے دیکھنا شروع کر دیں گے کہ نوالہ حلق میں پھنستا ہوا محسوس ہوگا۔اِ ن کے نزدیک ہر وہ شخص جو اپنی فیملی کے ساتھ کھانا کھانے آیا ہوا ہے ایک نمبر کا دونمبر ہے اور حرام کے پیسوں سے کھانا کھا رہاہے لہٰذا اسے چاہیے کہ وہ فوراً اپنا کھانا اِن کو دے کر بٹوہ خالی کرے اور نکل جائے۔ہرچیز پر ٹیکس لگاتی حکومت کو چاہیے کہ بھیک پر بھی ٹیکس لگائے تو شائد کبھی آئی ایم ایف سے امداد نہ مانگنی پڑے۔پہلے فقیر اچھے تھے۔ خیرات ملتی تھی تو کم ازکم دعاتو کردیتے تھے۔اب تو آپ فقیر کے ہاتھ پر نوٹ رکھتے ہیں او روہ مہربانی کہنا بھی گوارا نہیں کرتا۔
٭ ٭ ٭
لاہور میں پچاس ارب کی لاگت سے ’فلم سٹی‘ تعمیر ہونے جارہا ہے جہاں پروڈکشنز کی تمام اعلیٰ ترین سہولیات دستیاب ہوں گی۔ ہمارے ہاں مسئلہ فلموں کی مقدارکا نہیں معیارکا ہے۔ جن کے پاس پیسہ ہے ان کی اکثریت ذاتی دشمنیوں کو بنیاد بنا کر فلمیں بنواتی ہے جس میں اپنی ذات برادری کو بطور ہیرو دکھایا جاتا ہے اور دشمن کی پھٹیاں اکھیڑ دی جاتی ہیں۔ فلم انڈسٹری نئے موضوعات کی متقاضی ہے۔ سوشل ایشوز کا انبار ہے جن پر ابھی تک کیمرے کی نظر نہیں پڑی۔اس فلم سٹی کی کمان ایسے نابغہ روزگار ڈائریکٹرز کے حوالے کرنی چاہیے جو اسکرپٹ کو سمجھنے کی صلاحیت رکھتے ہوں، جنہیں پتا ہو کہ فلم کیا ہوتی ہے اور کیسے بنتی ہے۔ کلچر کے نام پر بیہودہ رقص اور بڑھکیں ہی سنانی ہیں تو فلم سٹی کا کوئی فائدہ نہیں۔پہلے ہی لوگ ہماری زیادہ تر فلمیں دیکھ کر کہنے لگے ہیں ’فلموں بس کریں اویار‘۔پنجاب حکومت کو چاہیے کہ شعیب منصور جیسے باکمال ڈائریکٹرز پر مشتمل کمیٹی قائم کرے جو فلم کی تکنیک سے مکمل واقفیت ہونے کے ساتھ ساتھ لٹریچر کا بھی بہترین ذوق رکھتے ہیں۔اچھی فلمیں اچھے بجٹ سے نہیں اچھے موضوع سے بنتی ہیں۔سینماؤں میں ’شارٹ فلمز‘ کو بھی جگہ دی جائے۔مختلف یونیورسٹیز کے اسٹوڈنٹس شارٹ فلمز بنائیں اور سینما میں دس پندرہ فلموں پر مشتمل ایک فلم پیش کی جائے تاکہ نئے خیالات کو بھی دیکھنے والوں تک پہنچایا جاسکے۔پڑوسی ملک میں ایسے کئی تجربات ہوتے رہتے ہیں۔ آج کل’اوٹی ٹی‘ پلیٹ فارمز کا دور ہے، لوگ گھر بیٹھے موبائل پر فلمیں دیکھ رہے ہیں تو سینماکی ٹکٹ نہایت کم کردیجئے تاکہ غریب بندہ بھی فیملی کے ساتھ کوئی شام انجوائے کر سکے ورنہ فی الوقت تو سینماؤں میں بھی جو چند لوگ جاتےہیں انکا تعلق ایلیٹ کلاس سے ہوتا ہے۔ ویسے یہ بھی طے کرنا ہوگا کہ پنجاب حکومت نے سینمابحال کروانے ہیں یا فلموں کا معیار۔اگر سینما بحال کروانے ہیں تو دنیا کے کسی بھی ملک کی فلم سینما میں لگانے کی اجازت دیں اور اگرصرف مقصد معیاری فلمیں بنانا ہے تویہ کام ڈیجیٹل میڈیا کے ذریعے بھی کیا جاسکتاہے۔موجودہ دور میں یہی سب سے بڑا سینما گھر ہے۔