• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

پاکستان کی تعلیمی کہانی غفلت کی نہیں بلکہ ادھورے منصوبوں اور ٹوٹے ہوئے خوابوں کی ایک طویل داستان ہے۔ قیامِ پاکستان سے لے کر آج تک، ہم نے جتنے ماڈل تعلیمی منصوبے شروع کیے اور جتنی اصلاحات کا شور مچایا، شاید ہی کسی دوسرے ترقی پذیر ملک میں اس کی مثال ملے۔ مگر تلخ حقیقت یہ ہے کہ سات دہائیوں بعد بھی ہم وہیں کھڑے ہیں جہاں سے چلے تھے۔ آج بھی کروڑوں بچے اسکولوں سے باہر ہیں، اور جو اسکولوں میں ہیں، ان میں سے پانچویں جماعت کے تقریباً نصف طلبہ دوسری جماعت کا سادہ متن بھی روانی سے نہیں پڑھ سکتے۔ اصل سوال یہ نہیں کہ ہم نے کیا شروع کیا، بلکہ یہ ہے کہ ہم اسے برقرار کیوں نہ رکھ سکے۔ہماری تعلیمی تاریخ ایک واضح اور مایوس کن پیٹرن دکھاتی ہے، ہم بڑے جوش و خروش سے ادارے قائم کرتے ہیں، بین الاقوامی امداد سے عمارتیں اور سہولیات مہیا کرتے ہیں، مگر چند سال بعد انہیں اپنی ہی بے توجہی کے حوالے کر دیتے ہیں۔ کچھ عرصہ بعد انہی اداروں کو نئی اصلاحات کے نام پر دوبارہ زندہ کرنے کی ناکام کوشش کی جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ’’ماڈل‘‘ اسکول رفتہ رفتہ عام اور خستہ حال سرکاری اسکولوں میں بدل جاتے ہیںیہ محض انتظامی ناکامی نہیں بلکہ ایک قومی المیہ ہے۔1950ء کی دہائی میں ٹیکنیکل ہائی اسکولز کا تجربہ اسی وژن کے تحت کیا گیا تھا کہ نوآبادیاتی ’’بابو کلچر‘‘ کو ختم کر کے ہنرمند افرادی قوت تیار کی جائے۔ کولمبو پلان کے تحت قائم ان اداروں میں جدید ورکشاپس، تربیت یافتہ اساتذہ اور عملی تعلیم کا مضبوط نظام موجود تھا۔ مگر دو دہائیوں میں یہ ماڈل دم توڑ گیا۔ اس کی بنیادی وجہ ہمارا معاشرتی رویہ تھا، جہاں فنی تعلیم کو روایتی تعلیم سے کمتر سمجھا گیا۔ متوسط طبقہ سفید پوشی کی علامت ڈگریوں کے پیچھے بھاگتا رہا، جبکہ صنعت سے عدم ربط کے باعث طلبہ بے روزگار ہوتے گئے۔ جیسے ہی بیرونی امداد ختم ہوئی، یہ ادارے بھی زوال کا شکار ہو گئے۔ اس تجربے نے واضح کیا کہ تعلیمی نظام صرف عمارتوں سے نہیں بلکہ مارکیٹ اور معاشرتی اقدار سے جڑا ہوتا ہے۔1960ء کی دہائی میں شریف کمیشن کی سفارشات پر کمپری ہنسیو ہائی اسکولز کا تصور پیش کیا گیا، جہاں سائنس، آرٹس اور کامرس کو ایک ہی چھت تلے لایا گیا۔ یہ ایک جدید اور ہمہ جہت تصور تھا، مگر روایتی امتحانی نظام اور رٹّا کلچر نے اسے ناکام بنا دیا۔ جب کامیابی کا معیار محض یادداشت رہ جائے تو عملی اور تخلیقی تعلیم بوجھ بن جاتی ہے۔ نتیجتاً ’’کمپری ہنسیو‘‘ کا تصور صرف نام تک محدود ہو کر رہ گیا۔ اسی طرح لاہور کا سنٹرل ماڈل اسکول، جو ایک صدی تک اعلیٰ تعلیمی اداروں کی نرسری رہا، اپنی خود مختاری ختم ہونے کے بعد زوال کا شکار ہو گیا۔ حالیہ ’’سنٹر آف ایکسی لینس‘‘کی کوششیں بھی اس لیے کامیاب نہ ہو سکیں کہ ہم نے اداروں کی روح یعنی ان کی روایات، خود مختاری اور نظم و ضبط کو نظر انداز کر دیا۔آج پاکستان کا تعلیمی بجٹ تقریباً 2.2 ٹریلین روپے تک پہنچ چکا ہے، جسکا بڑا حصہ صوبوں کے پاس ہے۔ پنجاب اور سندھ بھاری رقوم وصول کر رہے ہیں، مگر زمینی حقیقت یہ ہے کہ اس بجٹ کا 80 سے 90 فیصد حصہ تنخواہوں میں خرچ ہو جاتا ہے۔ ترقیاتی کام، تحقیق اور جدید سہولیات کیلئے بہت کم گنجائش بچتی ہے۔ اسی تناظر میں پبلک اسکولز ری آرگنائزیشن پروگرام (PSRP) کو دیکھا جا سکتا ہے، جسکے تحت کمزور اسکول نجی شعبے کے حوالے کیے جا رہے ہیں۔ یہ ریاستی ذمہ داری سے دستبرداری نہیں بلکہ خدمات کی فراہمی کو مؤثر بنانے کیلئے ایک شراکتی ماڈل کی طرف پیش رفت ہےبشرطیکہ اس میں مضبوط نگرانی اور معیار کا سخت احتساب یقینی بنایا جائے۔ بصورت دیگر یہ بھی ماضی کی طرح ناکام ہو جائیگا۔تعلیمی اصلاحات کی ناکامی کی ایک بڑی وجہ ہمارا نصاب بھی ہے، جو جدید عالمی تقاضوں سے ہم آہنگ نہیں۔ان تمام تجربات کا نچوڑ چار بنیادی نکات میں سامنے آتا ہے۔

پہلا، تسلسل کا فقدان: ہر نئی حکومت نئی پالیسی لاتی ہے، جس سے نظام غیر مستحکم ہو جاتا ہے۔ تعلیم کو سیاست سے بالاتر ایک مستقل قومی پالیسی کے طور پر اپنانا ہوگا۔دوسرا، نصاب کی فرسودگی: ہم آج بھی پرانے مضامین پڑھا رہے ہیں جبکہ دنیا مہارتوں اور تخلیقی سوچ پر مبنی تعلیم کی طرف جا چکی ہے۔

تیسرا، وسائل کا غیر مؤثر استعمال: بجٹ کا بڑا حصہ تنخواہوں تک محدود ہے، جبکہ تحقیق، تربیت اور جدید سہولیات کو مسلسل نظر انداز کیا جاتا ہے۔چوتھا، اساتذہ کا کردار: استاد کو محض ایک کلرک بنا دیا گیا ہے۔ اساتذہ کو عزت، بہتر تربیت اور مؤثر احتساب تینوں کی ضرورت ہے۔اصل مسئلہ عمارتوں، نئے ناموں یا وقتی منصوبوں کا نہیں بلکہ ایک مربوط قومی وژن کا ہے۔ جب تک تعلیمی اداروں کو سیاسی مداخلت سے پاک، خود مختار اور جدید نصاب سے لیس نہیں کیا جائیگا، اصلاحات ناکام ہوتی رہیں گی۔ اگر ہم نے اب بھی سبق نہ سیکھا تو ہم صرف نام بدلتے رہیں گے، نظام نہیںاور یہ آنے والی نسلوں کے ساتھ سب سے بڑی ناانصافی ہوگی۔وقت آ گیا ہے کہ ہم تعلیم کو ڈگریوں کی تقسیم سے نکال کر مہارتوں، تنقیدی سوچ اور جدید علوم سے جوڑیں۔ کیونکہ تعلیم صرف حکومت کا نہیں بلکہ پوری قوم کا مشترکہ فریضہ ہے۔

تازہ ترین