یوکرین نے روس کے زیرِ قبضہ زاپوریزہیا جوہری پلانٹ اور بالٹک سمندر کی اہم بندرگاہ پریمورسک پر ڈرون حملے کیے ہیں، دونوں ممالک نے ایک دوسرے پر شہری ہلاکتوں کے الزامات بھی عائد کیے ہیں۔
عرب میڈیا کے مطابق بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی کا کہنا ہے کہ ایک یوکرینی ڈرون نے روسی جوہری پلانٹ کے قریب واقع ریڈی ایشن کنٹرول لیبارٹری کو نشانہ بنایا تاہم جانی نقصان کی تصدیق نہیں ہو سکی۔
یوکرین نے روسی بندرگاہ پریمورسک پر حملے کی ذمے داری قبول کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ بندرگاہ کے بنیادی ڈھانچے اور تیل کی تنصیبات کو شدید نقصان پہنچا ہے۔
دوسری جانب روسی حکام کا کہنا ہے کہ حملے سے آگ لگی تھی جسے بجھا دیا گیا ہے اور تیل کا رساؤ نہیں ہوا ہے۔
یوکرینی صدر نے دعویٰ کیا ہے کہ روس کے ایک جنگی جہاز، گشت پر مامور کشتی اور تیل بردار جہاز کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے جبکہ بحیرۂ اسود میں نووروسیسک کے قریب 2 ٹینکروں پر بھی حملہ کیا گیا ہے۔
عرب میڈیا کے مطابق روسی حکومت نے یوکرین کے حملوں کے جواب میں خبردار کیا ہے کہ تیل کی تنصیبات پر حملوں سے عالمی قیمتوں میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے جو پہلے ہی 120 ڈالرز فی بیرل سے زائد ہیں۔
ادھر روس اور یوکرین کے درمیان ڈرون حملوں کا سلسلہ بھی جاری ہے۔
روسی حملوں میں یوکرین کے مختلف علاقوں میں کم از کم 3 افراد ہلاک ہوئے جبکہ اوڈیسا اور خیرسون میں بھی جانی و مالی نقصان کی اطلاعات ہیں۔
عرب میڈیا کے مطابق یوکرینی فضائیہ کا دعویٰ ہے کہ روس نے ایک رات میں 268 ڈرون اور ایک بیلسٹک میزائل داغا جبکہ مشرقی محاذ پر روسی افواج پیش قدمی جاری رکھے ہوئے ہیں۔