آبنائے ہرمز سے کبھی دنیا کا تقریباً پانچواں حصہ گیس اور تیل کا گزرتا تھا، یہ بحری راستہ اس وقت امریکا اور ایران کے متضاد اقدامات کے باعث عملی طور پر بند ہو چکا ہے۔
الجزیرہ کی خصوصی رپورٹ کے مطابق بحری محاصرہ جنگ کی قدیم ترین حکمتِ عملیوں میں شامل ہے جس کے ذریعے دشمن کی رسد کاٹ کر اسے کمزور کیا جاتا ہے۔
اسرائیل نے 2007ء سے غزہ کا زمینی، فضائی اور بحری محاصرہ کر رکھا ہے جس سے 2.3 ملین افراد شدید انسانی بحران کا شکار ہیں۔
غزہ میں 2023ء کے بعد حالات مزید خراب ہوئے اور ماہی گیروں پر سخت پابندیاں عائد کر دی گئیں، امدادی بحری بیڑے بھی روکے گئے یا حملوں کا نشانہ بنے۔
نائیجیریا نے علیحدگی اختیار کرنے والے علاقے بیافرا کا مکمل محاصرہ کیا جس سے قحط پھیلا اور اندازاً 1 سے 2 ملین افراد ہلاک ہوئے۔
برطانیہ نے روڈیشیا کو تیل کی فراہمی روکنے کے لیے طویل بحری کارروائی کی مگر یہ زیادہ مؤثر ثابت نہ ہو سکی اور اخراجات بہت زیادہ آئے۔
امریکا نے سوویت میزائلوں کی تنصیب روکنے کے لیے کیوبا کے گرد بحری گھیراؤ کیا، 13 دن تک دنیا ایٹمی جنگ کے دہانے پر رہی اور پھر معاہدہ طے پایا اور بحران ختم ہوا۔
کوریائی جنگ میں اقوامِ متحدہ کی افواج نے شمالی کوریا کی اہم بندرگاہ کو تقریباً ڈھائی سال تک بند رکھا تھا جس سے دشمن کی سپلائی شدید متاثر ہوئی تھی۔
امریکا نے آبدوزوں کے ذریعے جاپان کی تجارتی جہاز رانی تباہ کر دی تھی، 1945ء تک تیل اور خوراک کی شدید قلت پیدا ہوئی جس کے بعد جاپان نے ہتھیار ڈال دیے۔
اتحادی طاقتوں نے سلطنتِ عثمانیہ کی سپلائی روک دی جس سے لبنان اور شام میں شدید قحط پڑا اور تقریباً 5 لاکھ افراد ہلاک ہوئے۔
برطانیہ نے جرمنی کا سمندری راستہ بند کر دیا تھا جس سے خوراک کی قلت اور بیماریوں کے باعث لاکھوں شہری ہلاک ہوئے۔
یہ تمام مثالیں ظاہر کرتی ہیں کہ بحری محاصرے ناصرف جنگی حکمتِ عملی بلکہ بڑے انسانی اور معاشی بحرانوں کا سبب بھی بنتے ہیں۔