• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

جدید دور میں سوشل میڈیا کے آنے کے بعد لوگوں کے اخلاق تیزی سے تباہ ہو رہے ہیں۔ آئیے! دیکھتے ہیں کہ قرآن و حدیث اس حوالے سے ہماری کیا رہنمائی کرتے ہیں۔ اخلاقیات کا لفظ عربی زبان کے لفظ خلق سے ماخوذ ہے، جس کے معنی ’’عادات، اطوار یا کردار‘‘ کے ہیں۔ لغوی اعتبار سے اخلاقیات سے مراد وہ اصول اور عادات ہیں جو کسی شخص کے اندرونی کردار کی عکاسی کریں۔ قرآن مجید نے اخلاقیات پر بہت زیادہ زور دیا ہے اور متعدد آیات میں اچھے اخلاق کا ذکر کیا گیا ہے۔ اللّٰہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ’’بے شک اللّٰہ عدل اور احسان کا حکم دیتا ہے اور بے حیائی، برائی اور سرکشی سے روکتا ہے۔ ’’(سورۃ النحل، آیت 90)اسلامی تعلیمات میں اخلاقیات کی کئی اقسام بیان کی گئی ہیں، جن میں انفرادی، اجتماعی اور روحانی اخلاقیات شامل ہیں۔ انفرادی اخلاقیات سے مراد وہ اصول ہیں جو انسان کو اپنے ذاتی معاملات میں نیک کردار اور صحیح رویے کی طرف رہنمائی کرتے ہیں۔ ان اخلاقیات میں دیانت داری، انصاف، عفت اور پاک دامنی وغیرہ شامل ہیں۔ دیانت داری کو اسلام میں ایک عظیم صفت قرار دیا گیا ہے اور اس کی اہمیت کو نبی کریم ﷺ نے احادیث میں بیان فرمایا ہے۔ آپﷺ کا فرمان ہے:’’جو شخص دیانت دار ہے، وہ نبیوں، صدیقوں اور شہیدوں کے ساتھ اٹھایا جائے گا۔‘‘(ترمذی شریف)دوسرے نمبر پر اجتماعی اخلاقیات آتی ہیں۔ اس سے مراد وہ اصول ہیں جو معاشرتی زندگی میں انسان کے کردار کو بہتر بناتے ہیں۔ ان اصولوں میں بندوں کے حقوق، انصاف، عدل، احترام، بھائی چارہ اور مساوات شامل ہیں۔ قرآن مجید میں اجتماعی اخلاقیات پر بہت زور دیا گیا ہے۔ اللّٰہ تعالیٰ فرماتے ہیں:‘‘نیکی اور تقویٰ میں ایک دوسرے کی مدد کرو، اور گناہ اور زیادتی میں تعاون نہ کرو۔’’(سورۃ المائدہ، آیت 2)تیسرے نمبر پر روحانی اخلاقیات کا ذکر آتا ہے۔ یہ وہ اصول ہیں جو انسان کی روحانی زندگی کو بہتر بنانے کیلئے ضروری ہیں۔ ان اصولوں میں اخلاص، تقویٰ اور صبر شامل ہیں۔ قرآن مجید نے روحانی اخلاقیات پر بھی زور دیا ہے۔ اللّٰہ تعالیٰ فرماتے ہیں:’’بے شک اللّٰہ تقویٰ اختیار کرنے والوں کے ساتھ ہے۔‘‘(سورۃ البقرہ، آیت 194)اسلام نے جن اخلاقیات پر زور دیا ہے وہ دیگر مذاہب کے مقابلے میں بہت بالاتر ہیں۔ عیسائیت میں بھی اخلاقیات کو بنیادی اہمیت حاصل ہے، جیسا کہ بائبل میں حکم ہے:’’اپنے پڑوسی سے اپنے نفس کی طرح محبت کرو۔‘‘(متی 22:39) اسلام بھی اسی تعلیم پر زور دیتا ہے۔ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’تم میں سے کوئی شخص اس وقت تک مومن نہیں ہو سکتا جب تک وہ اپنے بھائی کے لیے وہی پسند نہ کرے جو اپنے لیے پسند کرتا ہے۔‘‘(بخاری شریف)قرآن مجید نے روزمرہ اخلاقیات کے حوالے سے بہت واضح، فیصلہ کن اور حتمی ہدایات دی ہیں۔ قرآن مجید انصاف کا حکم دیتا ہے۔ اللّٰہ تعالیٰ فرماتے ہیں:‘‘بے شک اللّٰہ عدل اور احسان کا حکم دیتا ہے۔’’(سورۃ النحل، آیت 90) قرآن مجید انسانوں کو عفو و درگزر کا بھی حکم دیتا ہے۔ اللّٰہ تعالیٰ فرماتے ہیں:’’بھلائی اور برائی برابر نہیں ہو سکتی، برائی کو بہتر طریقے سے دور کرو، پھر وہی شخص جو تمہارا دشمن تھا گہرا دوست بن جائے گا۔‘‘(سورۃ حم السجدہ، آیت 34) حضرت یوسف علیہ السلام کا اپنے بھائیوں کو معاف کر دینا اس کی بہترین مثال ہے، جہاں انہوں نے اپنے بھائیوں کے ظلم کے باوجود انہیں معاف فرما دیا۔ (سورۃ یوسف، آیت 92) قرآن مجید سچائی اور امانت داری کا بھی حکم دیتا ہے۔ اللّٰہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:’’اے ایمان والو! اللّٰہ سے ڈرو اور سچ بولنے والوں کے ساتھ ہو جاؤ۔‘‘(سورۃ التوبہ، آیت 119) اسی طرح عدل و انصاف کے بارے میں فرمایا:’’بے شک اللّٰہ تمہیں حکم دیتا ہے کہ امانتیں امانت داروں کے سپرد کرو اور جب لوگوں کے درمیان فیصلہ کرو تو عدل سے فیصلہ کرو۔‘‘(سورۃ النساء، آیت 58) قرآن مجید صبر و برداشت کی بھی تعلیم دیتا ہے۔ اللّٰہ تعالیٰ فرماتے ہیں:’’اور ہم ضرور تمہیں خوف، بھوک، جان و مال کے نقصان اور آمدنیوں کے گھاٹے سے آزمائیں گے اور صبر کرنے والوں کو خوش خبری دے دو۔‘‘(سورۃ البقرہ، آیت 155)قرآن مجید نے انبیاء کرام کے اعلیٰ اخلاق اور اوصاف کو بھی بطورِ خاص ذکر فرمایا ہے۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کو حلیم اور بردبار قرار دیا گیا اور ان کے صبر، قربانی اور توکل پر روشنی ڈالی گئی۔ حضرت یوسف علیہ السلام کا کردار بھی قرآن مجید میں اعلیٰ اخلاق، صبر اور عفت کا مثالی نمونہ ہے، اسی لیے ان کے قصے کو’’ احسن القصص‘‘ کہا گیا۔صحابہ کرام کے اچھے اخلاق کا ذکر بھی قرآن مجید میں موجود ہے۔ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللّٰہ عنہ کی صداقت، سخاوت اور استقامت کو قرآن نے سراہا، اور اللّٰہ کی رضا کے لیے مال خرچ کرنے والوں کا ذکر فرمایا۔ (سورۃ اللیل، آیات 18-19)احادیثِ نبویہ میں بھی اخلاقیات پر بے شمار تعلیمات ملتی ہیں۔ حضورﷺ کو قرآن مجید نے اخلاقِ حسنہ کا بہترین نمونہ قرار دیا ہے۔ فتح مکہ کے موقع پر آپ ﷺنے اپنے سخت ترین دشمنوں کو معاف فرما کر فرمایا:’’جاؤ، تم سب آزاد ہو۔‘‘(بخاری شریف، حدیث 4286)آپ ﷺ نے اپنے اہلِ خانہ کے ساتھ حسنِ سلوک کا بھی بہترین نمونہ پیش فرمایا، گھریلو کاموں میں ہاتھ بٹاتے، اہلِ خانہ کے ساتھ وقت گزارتے اور ان کی دل جوئی فرماتے۔جدید دور میں تیز رفتار معاشرتی تبدیلیوں نے مسلمانوں کے اخلاق پر گہرا اثر ڈالا ہے۔ بدقسمتی سے بد اخلاقیاں بڑھتی جا رہی ہیں، جس کے نتیجے میں ناچاقیاں اور اختلافات پیدا ہو رہے ہیں۔ ٹیکنالوجی کے بے جا استعمال نے گھریلو زندگی، اداروں اور اخلاقی اقدار کو متاثر کیا ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ ہم قرآن و حدیث کی اخلاقی تعلیمات کو اپنی زندگیوں میں نافذ کریں، اور حضور ﷺ کے اخلاقِ حسنہ کو عملی نمونہ بنا کر پیش کریں۔

تازہ ترین