سندھ میں محکمۂ بورڈز و جامعات کی مبینہ مداخلت اور انتظامی اختلافات کے باعث 2 تعلیمی بورڈز کے چیئرمین اپنے عہدوں سے مستعفی ہو گئے جس سے تعلیمی نظام میں بے چینی بڑھ گئی۔
کراچی میٹرک بورڈ کے چیئرمین غلام حسین سہو نے گزشتہ شام اپنا استعفیٰ سیکریٹری بورڈز و جامعات عباس بلوچ کو پیش کر دیا۔
اس سے قبل حیدرآباد بورڈ کے چیئرمین شجاع احمد مہیسر بھی اپنے عہدے سے استعفیٰ دے چکے ہیں، یوں سندھ کے 2 تعلیمی بورڈز کے چیئرمین مستعفی ہو چکے ہیں۔
ذرائع کے مطابق محکمۂ بورڈز و جامعات کی مبینہ غیر ضروری مداخلت، تقرریوں میں اثر و رسوخ اور انتظامی فیصلوں میں رکاوٹوں کے باعث مزید ایک چیئرمین کے مستعفی ہونے کا بھی امکان ہے۔
غلام حسین سہو نے اپنے استعفے میں مؤقف اختیار کیا ہے کہ میں نے 3 اپریل 2025ء کو عہدہ سنبھالنے کے بعد ادارے میں اصلاحات کا آغاز کیا جن میں نظام کی خودکاری، آن لائن ادائیگی کا اجراء، شکایات کے ازالے کا نظام، امتحانی عملے کی تربیت اور گریڈنگ سسٹم میں بہتری جیسے اقدامات شامل تھے۔
ان کے مطابق مسلسل بدعنوانی، نااہلی اور انتظامی جمود نے اصلاحاتی عمل کو شدید نقصان پہنچایا جبکہ ایس او پیز اور قواعد بھی مؤثر ثابت نہ ہو سکے۔
دوسری جانب حیدرآباد بورڈ کے سابق چیئرمین شجاع احمد مہیسر نے 16 اپریل کو استعفیٰ دیا تھا، وہ 4 ماہ تک معطل بھی رہے۔
ذرائع کے مطابق ان کے دور میں دسویں اور بارہویں جماعت کے نتائج کو شفاف قرار دیا گیا تاہم نویں اور گیارہویں جماعت کے نتائج کے معاملے پر اختلافات شدت اختیار کر گئے تھے۔
ذرائع یہ بھی بتاتے ہیں کہ محکمہ کی مداخلت کے باعث ناصرف فیصلوں میں رکاوٹیں آئیں بلکہ انتظامی سطح پر تنازعات بھی بڑھتے گئے جس کے نتیجے میں تعلیمی بورڈز کی کارکردگی اور ساکھ متاثر ہوئی ہے۔