بھارت کے پہلے وزیر اعظم اورپاکستان دشمن پالیسیوں کے حقیقی معمار پنڈت جواہر لعل نہرو کی زندگی میں ایک لمحہ ایسا بھی آیا جب انہوں نے برملا یہ اظہار کیا کہ اگرانہوں نے اپنی زندگی میں پاک بھارت کشیدگی دور کرنے کی کوشش نہ کی تو بعد میں آنیوالے حکمرانوں کیلئے یہ کام مشکل ہوجائیگا۔نہرو نے اپنی مذکورہ سوچ کے تحت کشمیری رہنما شیخ عبداللہ کو مختصروفد کیساتھ امن مشن پر پاکستان بھیجا۔24مئی کو راولپنڈی پہنچنے والے اس امن مشن کے اہم پاکستانی حلقوں سے رابطے بھی ہوئے۔ مگرنہرو کشیدگی دور کرنے کے مذکورہ فیصلے تک پہنچنے میں تاخیر کا شکار ہوچکے تھے۔27مئی1964کو بھارتی وزیر اعظم کی موت کی خبر آگئی۔ شیخ عبداللہ اپنا پروگرام مختصر کرکے واپس چلے گئے۔امن مشن ایسا قصہ پارینہ ہواکہ نہرو کے بعد انکے قریبی ساتھی لال بہادر شاستری وزیر اعظم بنے تو ان کے دور میں1965ء کی پاک بھارت جنگ ہوئی۔ شاستری کے دیہانت کے بعد نہرو کی بیٹی اندراگاندھی وزیر اعظم بنیں تو انہوں نے سازشی منصوبے کا جال بچھا کر1971کی جنگ کے ذریعے پاکستان کا مشرقی بازو الگ کر دیا۔ حکومتیں بدلتی رہیں مگر نہرو جس پاکستان دشمن پالیسی کے معمار تھے، وہ نت نئے طریقوں سے مزید بھیانک روپ دھار کر سامنے آتی رہی۔ یہاں تک کہ نریندرمودی کے دور میں ریاست جموں وکشمیر کی خصوصی حیثیت کی آئینی شق کے خاتمے کے عالمی قوانین کے منافی اعلان کے بعد بات آگے بڑھ کر سندھ طاس معاہدے کی معطلی کے دوسرے غیر قانونی اعلان سے ہوتی مئی2025ء کی چار روزہ پاک بھارت جنگ تک جاپہنچی ۔اس جنگ نے بھارت کے اندازوں کو خاک میں ملادیا اور علاقے میں طاقت کے توازن کو نئی شکل دی۔ جواہر لعل نے جس کشیدگی کے خاتمے کی ضرورت کا برملا اعتراف کیا وہ ان کی اپنی ہی پیدا کردہ تھی ۔ مگر عمر کے آخری حصے میں جب انہوں نے تجزیہ کیا تواس نتیجے پر پہنچے کہ انہوں نے اس خطے میں جو کشیدگی کے بیج بوئے تھے، ان سے کانٹوں کے سواکسی اور فصل کی امید عبث ہے۔
برٹش انڈیا کی تقسیم کے وقت برصغیر میں بسنے والی دونوں بڑی اقوام یعنی ہندوؤں اور مسلمانوں کی نمائندگی کی حامل پارٹیاں انڈین نیشنل کا نگریس اورآل انڈیا مسلم لیگ نئے ملک کے قیام کے فیصلے پر متفق توہوگئی تھیں مگر کانگریسی حلقوں سے آنیوالی بعض آوازوں سے اس یقین کا اظہارہوتا تھا کہ اول تو پاکستان خود چل نہیں سکے گا۔ اگر چلابھی تو ہم اپنے ہتھکنڈوں سے اسے چلنے نہیں دینگے۔ اس یقین کی ایک وجہ یہ زعم تھا کہ برٹش انڈیا کی تقسیم کے وقت وہ سارے علاقے بھارت کا حصہ بن گئے جہاں اسلحہ سازی کے کارخانے پہلے سے موجود اوردوسری جنگ عظیم کے باعث متحرک تھے۔بھارت خودبخود اس وقت تک کے جدید اسلحے سے لیس ملک بن گیا تھا۔پاکستان کے حصے میں آنیوالے علاقوں میں کوئی اسلحہ ساز فیکٹری نہیں تھی جبکہ برٹش انڈیا کی تقسیم کے حوالے سے پاکستان کے حصے میں آنے والی رقم بھی بھارت نے دبالی تھی اور آج تک دبا رکھی ہے۔ پاکستان کو اپنے دفاع سمیت بیشترشعبوں میں صفر سے کام شروع کرنا پڑا ۔ ایسے حالات میں تقسیم ہند کے وقت قتل وغارت والے علاقوں سے مسلمانوں کو نکال کر بحفاظت پاکستان پہنچانا پاکستانی فوج کا بڑا کارنامہ تھا جبکہ بعد ازاں دفاعی امور کے علاوہ قدرتی آفات سمیت قوم کو خطرات سے نکالنے میں پاکستانی فوج کا جو کردار نمایاں ہوا اس پر پاکستانی عوام فخر کرنے میں ہر طرح سے حق بجانب ہیں۔
جواہر لعل نے پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی بڑھانے کے جو ظالمانہ طریقے اختیار کئے ان کا یہ مقصد واضح ہے کہ پاکستان کو سنبھلنے کا موقع دئیے بغیر یکے بعد دیگرے ایسے وار کئے جائیں کہ اس ملک کیلئے اپنا وجود برقرار رکھنا ممکن نہ رہےاور وہ پکے ہوئے پھل کی طرح بھارت کی جھولی میں آگرے۔1947میں برصغیر کی تقسیم کے وقت نہرو اپنے رفقاء کو قابو میں رکھتے تو مسلمانوں کے قتل عام کی صورت میں سامنے آنیوالے تاریخ کے بدترین خون خرابے سے بچاجاسکتا تھا۔ مگر انہوں نے ایسا رویہ اختیار کیا جو ہر طرح سے انسانی اقدار کے منافی تھا۔جنوبی ایشیا کی برطانوی استعمار سے آزادی کے فوراً بعد( ستمبر/ اکتوبرمیں) پاکستان سے الحاق کرنے والی تین ریاستیں جونا گڑھ، مناودر اور مانگرول کو فوجی موجودگی کے ذریعے کنٹرول میں لینے کی کارروائی او رستمبر1948ء میں پاکستان سے الحاق کرنیوالی ریاست حیدرآباد(دکن)پربرٹش انڈیا کے جدید ہتھیاروں سےحملے اور قبضے کی تفصیلات بھارتی توسیع پسندی کی بھوک کی نشاندہی کرتی ہیں۔27۔ اکتوبر1947ء کو نہرو نے ریاست جموں وکشمیر میں بھارتی فوجیں اتار دی تھیں۔ یہ ریاست تقسیم ہند کے ہر فارمولے کے تحت پاکستان کا حصہ بنتی تھی۔ برطانوی حکومت کے مقرر کردہ انگریز سپہ سالار کے ناموافق طرز عمل کے باوجود عوامی رہبری میں عوامی مزاحمت کے سیلاب نے ریاست کے ایک حصے کوآزاد کشمیر بنا دیا ۔اس مزاحمتی سیلاب کی زد سے سری نگر کوبچانے کیلئے بھارتی وزیر اعظم اقوام متحدہ چلے گئے اور سلامتی کونسل سے جنگ بندی کا پروانہ اس وعدے کے بعد حاصل کرلیا کہ عالمی ادارے کے زیر اہتمام رائے شماری میں کشمیری عوام پاکستان یا بھارت جسکے حق میں رائے دینگے اس کیساتھ ریاست کا الحاق تسلیم کرلیا جائے گا۔ مگر 8لاکھ فوجیوں کی ریاست میں موجودگی سمیت بھارتی حیلہ سازیوں نے ایک طرف کشمیری عوام کی زندگی اجیرن کردی دوسری جانب کشمیر کو جنوبی ایشیا کا ایٹمی فلیش پوائنٹ بنادیا ہے۔
بھارت کے پہلے وزیر اعظم جواہر لعل نہرو نے اپنی زندگی کے آخری دنوں میں پاک بھارت کشیدگی دور کرنے کی جس خواہش کا اظہار کیا، وہ انکی خون آشام زندگی کا خود کردہ حتمی تجزیہ ہے۔ایسے عالم میں، کہ مئی2025ءکی چار روزہ جنگ میں طاقت کا نیا تناسب اور نئی حقیقتیں سامنے آچکی ہیں ، کیا ہی اچھا ہو کہ پنڈت نہرو کا1964ءمیں قائم کردہ امن مشن اب متحرک نظر آئے۔ وزیر اعظم شہباز شریف کی طرف سے اقوام متحدہ کےجنرل اسمبلی اجلاس میں پاک بھارت مذاکرات کی پیشکش ایک اعتبار سے امن مشن کا احیا ہے۔ اس باب میں سفارت کاری کا آغاز براہ راست ہو یا توسط سے۔اس کی اہمیت سے انکار ممکن نہیں۔