• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

اسلام آبادکی نرم،نیم خوابیدہ فضامیںجب اکادمی ادبیات پاکستان کی صدرنشین ڈاکٹرنجیبہ عارف نے ممتازاہل قلم کی ادبی خدمات کےاعتراف میں سال 2024ء کے ’’کمالِ فن‘‘ ایوراڈ اورقومی ادبی انعامات کااعلان باقاعدہ ایک پریس کانفرنس میں کیا تو یوں محسوس ہوا جیسے وقت کے طویل دریچوں میں کوئی پرانی صدا پھر سے گونج اٹھی ہو۔ یہ کسی روزمرہ کےمعمول کی کوئی رسمی خبر نہ تھی۔

یہ تہذیب کے اس تسلسل کی جھلک تھی جو لفظوں کے سہارے صدیوںسے قائم ہے۔’’کمالِ فن ایوارڈ‘‘کے لیےبلندپایہ ادیب عطاء الحق قاسمی کا انتخاب اسی روایت کا تسلسل ہے۔بلاشبہ یہ انتخاب کسی ایک شخصیت کا اعتراف نہیں بلکہ اس اسلوب کا اقرار تھا، جس میں شگفتگی ایک مہذب قرینے میں ڈھل کر فکر کی گہرائی سے ہم آغوش ہو جاتی ہے۔ یہ ایوارڈ جو ملک کا سب سے بڑا ادبی اعزازہےاس کی انعامی رقم دس لاکھ روپے مقرر ہے۔

مذکورہ ایوارڈاپنی روایت میں ایک ایسا چراغ ہے جو 1997ء سے مسلسل روشن ہے۔جسکی لو میں پہلے ہی احمد ندیم قاسمی، انتظار حسین، مشتاق احمد یوسفی، احمد فراز، شوکت صدیقی، منیر نیازی، ادا جعفری، سوبھو گیان چندانی، ڈاکٹر نبی بخش خان بلوچ، جمیل الدین عالی، محمد اجمل خان خٹک، عبداللہ جان جمالدینی، محمد لطف اللہ خان، بانو قدسیہ، محمد ابراہیم جویو، عبداللہ حسین، افضل احسن رندھاوا، فہمیدہ ریاض، کشور ناہید، امر جلیل، ڈاکٹر جمیل جالبی، منیراحمد بادینی، اسد محمد خان، ظفر اقبال، حسن منظر اور افتخار عارف جیسے درخشندہ نام اپنی اپنی روشنی ثبت کر چکے ہیں۔اس فیصلے کے پس منظر میں ایک ایسی باوقار مجلس(ایوارڈکمیٹی) موجود تھی جس میں کشور ناہید کی صدارت میں ڈاکٹر انعام الحق جاوید، محمد اظہار الحق، محمود شام، اصغر ندیم سید، شعیب بن عزیز، ڈاکٹر عبدالرزاق صابر، محمد حفیظ خان، یاسمین حمید، محمد حمید شاہد، ڈاکٹر اباسین یوسفزئی، ڈاکٹر شیر مہرانی، ڈاکٹر بیزن بلوچ، احمد حسین مجاہد اور فریدہ حفیظ شامل تھے۔گویا یوں کہیے کہ مختلف زمانوں کی دانش ایک ہی لمحے میں سمٹ آئی ہو۔

اسی تسلسل میں قومی ادبی انعامات 2024ء کا منظرنامہ ایک وسیع اور ہمہ گیر ادبی کائنات کی صورت اختیار کر لیتا ہے۔ اردو فکشن میں محمد حفیظ خان کی کتاب "ہر ایک جنم کی جانما" کو سعادت حسن منٹو ایوارڈ سے نوازا گیا۔ اردو نان فکشن میں محمد اظہار الحق کی "سمندر، جزیرے اور جدائیاں "کو مشتاق احمد یوسفی ایوارڈ دیا گیا۔ تحقیق و تنقید میں ڈاکٹر واحد بخش بزدار کی" بلوچی زبان: تاریخ و ارتقا کو" مولوی عبدالحق ایوارڈ ملا۔ اردو شاعری میں جلیل عالی کی "آگے ہمارا خوابیہ ہے" کو علامہ محمد اقبال ایوارڈ دیا گیا۔

پنجابی شاعری میں صغیر تبسم کی ’’اردو بولن والیے کڑیے‘‘ کو وارث شاہ ایوارڈ، جبکہ پنجابی نثر میں اکمل شہزاد گھمن کی ’’پنجرے وچ آہلنا‘‘ کو افضل احسن رندھاوا ایوارڈعطاہوا۔ سندھی شاعری میں امداد حسینی کی ’’ سنوءَ جي ڪناري‘‘ کو شاہ عبداللطیف بھٹائی ایوارڈ اور سندھی نثر میں ڈاکٹر فہمیدہ حسین کی ’’ ڪني ڪلين وچ ‘‘ کو مرزا قلیچ بیگ ایوارڈ دیا گیا۔پشتو شاعری میں رحمت شاہ سائل کی ’’دمحبت د انقلاب سندرے‘‘ کو خوشحال خان خٹک ایوارڈ اور پشتو نثر میں محمد اسلم تاثیر کی ’’د ژوند فلسفہ دحمزہ شنواری پہ نظر‘‘ کو محمد اجمل خان خٹک ایوارڈ دیا گیا۔بلوچی شاعری میں اللہ بخش بزدار کی ’’ہمے کوہانی پچار انت‘‘ کو مست توکلی ایوارڈ اور بلوچی نثر میں نازل مولابخش کی "بتل:ارزشت ءُ روایت "کو سید ظہور شاہ ہاشمی ایوارڈ دیا گیا۔سرائیکی شاعری میں محبوب تابش کی "پانی ست کھوئیں دا" کو خواجہ غلام فرید ایوارڈ عطا ہوا۔ یوں سرائیکی وسیب کےنام ورانقلابی شاعر محبوب تابش کانام بھی اسی شان وتکریم کےساتھ ثبت ہواکہ گویاجس شان سے کسی دریاکانام اپنے بہائو کے ساتھ زندہ رہتاہے۔

سرائیکی نثر میں عامر فہیم کی ’’ھک تریڑہ تریہ‘‘ کو ڈاکٹر مہر عبدالحق ایوارڈ دیا گیا۔براہوئی شاعری میں حسن ندیم کی ’’سیپا چک‘‘ کو تاج محمد تاجل ایوارڈ اور براہوئی نثر میں بہاول نسیم بنگلزئی کی ’’ادب نا استارک‘‘ کو غلام نبی راہی ایوارڈ دیا گیا۔ ہندکو شاعری میں افضل ہزاروی کی ’’ڈوہنگیاں سوچاں‘‘ کو سائیں احمد علی ایوارڈ اور ہندکو نثر میں نصرت نسیم کی ’’کھلی اکھیاں دا خواب‘‘ کو خاطر غزنوی ایوارڈ دیا گیاجبکہ انگریزی نثر میں فریال علی گوہر کی" An Abundance of Wild Roses" کو پطرس بخاری ایوارڈ اور انگریزی شاعری میں محمد اطہر طاہر کی "Telling Twilight" کو داؤد کمال ایوارڈ دیا گیا۔

ترجمے میں شوکت نواز نیازی کی ’’دیوان‘‘ کو محمد حسن عسکری ایوارڈ دیا گیا (منصفین: ڈاکٹر رؤف پاریکھ، ڈاکٹر محمد سلیم مظہر، انور سن رائے) ۔اس سال ایک نئے افق کا اضافہ بھی ہوا اور یہ گلگت بلتستان ادبی انعام ہے۔جس میں افضل روش کے بلتی ناول ’’شہ سر‘‘ اور فرید احمد رضا کے کھوار افسانوی مجموعے ’’اُورائے‘‘ کو مشترکہ طور پر منتخب کیا گیا ۔اس نئے انعامی سلسلےکی رقم ہر مصنف کیلئے ایک لاکھ روپے مقرر ہوئی جبکہ دیگر قومی ادبی انعامات کے تحت ہر کتاب کے مصنف کو دو لاکھ روپے عطا کیے جائیں گے۔

تازہ ترین