امریکا اور ایران جنگ بندی کے جزوی معاہدے پر غور کررہے ہیں، جس کا ابتدائی فریم ورک بھی تیار کرلیا گیا ہے۔
برطانوی خبر ایجنسی کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان سب سے متنازع معاملات حل طلب رہیں گے، یہ منصوبہ ایک جامع امن معاہدے کے بجائے ایک قلیل مدتی مفاہمتی یادداشت پر مبنی ہے، جو دونوں فریقوں کے درمیان گہرے اختلافات کو ظاہر کرتا ہے۔
یہ منصوبہ اس بات کا اشارہ دیتا ہے کہ یہ صرف ایک عبوری اقدام ہوگا، اس سے امید کہ ایک جزوی معاہدہ بھی آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کا باعث بن سکتا ہے۔
خبر ایجنسی کے مطابق مجوزہ فریم ورک تین مراحل میں سامنے آئے گا، پہلے مرحلے میں باضابطہ طور پر جنگ کا خاتمہ کیا جائے گا، دوسرے مرحلے میں آبنائے ہرمز کے بحران کو حل کیا جائے گا، تیسرے مرحلے میں ایک 30 روزہ مذاکراتی مدت شروع کی جائے گی، اس میں ایک وسیع تر اور جامع معاہدے پر بات چیت کی جائے گی۔