• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

غزہ پر اسرائیل کے طویل المدتی منصوبے کیا ہیں؟

---فائل فوٹو
---فائل فوٹو

 اسرائیل کی جانب سے غزہ میں مزید علاقوں پر کنٹرول حاصل کرنے کے اعلانات نے ایک بار پھر یہ سوال پیدا کر دیا ہے کہ آیا اسرائیل کا مقصد صرف سیکیورٹی کارروائیاں ہیں یا وہ غزہ پر مستقل قبضے کی طرف بڑھ رہا ہے۔

رپورٹس کے مطابق اکتوبر 2025ء میں امریکی صدر ٹرمپ کے مجوزہ 20 نکاتی امن منصوبے کے تحت اسرائیلی افواج کو غزہ کے 58 فیصد حصے پر عارضی کنٹرول رکھتے ہوئے مرحلہ وار انخلاء کرنا تھا، تاہم اب تک ایسا نہیں ہوا۔

اس کے برعکس حالیہ مہینوں میں اسرائیل نے ناصرف غزہ میں اپنی فوجی موجودگی مضبوط کی بلکہ مزید تقریباً 11 فیصد علاقے پر بھی کنٹرول حاصل کر لیا۔

سیٹلائٹ ڈیٹا کے مطابق اسرائیل کی جانب سے غزہ میں متعدد فوجی چوکیاں، زمینی رکاوٹیں اور نئی انفرااسٹرکچر تنصیبات بھی قائم کی گئی ہیں۔

اسرائیلی وزیرِاعظم نیتن یاہو نے ایک کانفرنس سے خطاب میں کہا کہ اسرائیل اس وقت غزہ کے تقریباً 60 فیصد علاقے پر کنٹرول رکھتا ہے اور اس تناسب کو مزید بڑھانے کا ارادہ رکھتا ہے۔

ان کے بیان نے یہ خدشات بڑھا دیے ہیں کہ اسرائیل غزہ میں مستقل جغرافیائی تبدیلیاں لانا چاہتا ہے، جسے بین الاقوامی ماہرین ممکنہ الحاق (Annexation) قرار دے رہے ہیں۔

بین الاقوامی قانون کیا کہتا ہے؟

بین الاقوامی انسانی حقوق کے ماہرین کے مطابق کسی علاقے پر طاقت کے ذریعے مستقل قبضہ یا الحاق بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی سمجھا جاتا ہے۔

قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر اسرائیل پورے غزہ پر مستقل اور مؤثر کنٹرول قائم کرنے کی کوشش کرتا ہے تو اسے غیر قانونی الحاق تصور کیا جا سکتا ہے، جو اقوامِ متحدہ کے بنیادی اصولوں سے متصادم ہے۔

غزہ کی آبادی کا مستقبل کیا ہو گا؟

اقوامِ متحدہ اور متعدد امدادی ادارے پہلے ہی خبردار کر چکے ہیں کہ محدود ہوتے علاقے اور مسلسل تباہی کے باعث غزہ کے لاکھوں باشندوں کے لیے زندگی مزید مشکل ہوتی جا رہی ہے۔

دوسری جانب اسرائیلی وزیرِ دفاع نے حالیہ بیان میں غزہ سے رضاکارانہ ہجرت (Voluntary Emigration) کا ذکر کیا ہے، جسے ناقدین فلسطینی آبادی کی جبری بے دخلی یا نسلی صفائی کے مترادف قرار دیتے ہیں۔

عالمی توجہ کا رخ بدل گیا؟

تجزیہ کاروں کے مطابق غزہ کی صورتِ حال پر عالمی توجہ اب پہلے جیسی نہیں رہی، کیونکہ حالیہ عرصے میں مشرقِ وسطیٰ کے دیگر تنازعات نے بین الاقوامی توجہ اپنی جانب مبذول کرا لی ہے۔

اسی وجہ سے غزہ میں اسرائیلی کارروائیوں اور زمینی توسیع کے حوالے سے عالمی ردِعمل نسبتاً محدود دکھائی دیتا ہے، جبکہ انسانی حقوق کی تنظیمیں مسلسل خبردار کر رہی ہیں کہ غزہ میں انسانی بحران مزید سنگین ہو سکتا ہے۔

اسرائیل کی جانب سے مسلسل زمینی توسیع، فوجی تنصیبات کے قیام اور آبادی کی منتقلی سے متعلق بیانات کے بعد سب سے بڑا سوال یہی ہے کہ آیا غزہ مستقبل میں ایک خود مختار فلسطینی علاقے کی حیثیت برقرار رکھ پائے گا یا خطے کا جغرافیہ مستقل طور پر تبدیل ہونے جا رہا ہے۔

بین الاقوامی خبریں سے مزید