ایک نئی تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ باقاعدگی سے انڈے کھانے والے افراد میں الزائمر، جو ڈیمنشیا کی سب سے عام قسم ہے، کا خطرہ نمایاں طور پر کم ہوتا ہے۔
امریکا کی لوما لنزا یونیورسٹی کے محققین کے مطابق جو بزرگ ہفتے میں پانچ یا اس سے زیادہ بار انڈے کھاتے ہیں، ان میں الزائمر کا خطرہ 27 فیصد تک کم پایا گیا۔ ہفتے میں دو سے چار بار انڈے کھانے والوں میں یہ خطرہ 20 فیصد کم جبکہ کبھی کبھار انڈے کھانے والوں میں بھی 17 فیصد کمی دیکھی گئی۔
یہ نتائج تقریباً 40 ہزار افراد پر مشتمل ایک طویل مدتی مطالعے سے حاصل ہوئے، جس میں 15 سال کے دوران 2,858 افراد کو الزائمر ہوا۔
تحقیق میں یہ بھی سامنے آیا کہ جو لوگ بالکل انڈے نہیں کھاتے، ان میں بیماری کا خطرہ سب سے زیادہ تھا۔
ماہرین کے مطابق انڈوں میں موجود غذائی اجزاء جیسے کولین، وٹامن بی12، وٹامن ڈی، سیلینیم، آیوڈین اور اومیگا-3 فیٹس دماغی صحت کے لیے معاون ہیں۔ تاہم محققین نے واضح کیا کہ یہ صرف مشاہداتی تحقیق ہے اور یہ ثابت نہیں کرتی کہ انڈے الزائمر کو روک سکتے ہیں۔
پچھلی تحقیق میں انڈوں اور دماغی صحت کے تعلق پر مختلف نتائج سامنے آئے ہیں۔ ماہرین اب عمومی طور پر انڈوں کو متوازن غذا کا محفوظ حصہ سمجھتے ہیں، جبکہ اصل خدشات زیادہ تر ان کے پکانے کے طریقے یا ساتھ کھائے جانے والی اشیاء سے متعلق ہوتے ہیں۔
نوٹ: یہ ایک معلوماتی مضمون ہے، اپنی کسیی بھی بیماری کی تشخیص اور اس کے علاج کےلیے ڈاکٹر سے رجوع کریں۔