• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ترکیہ کے دارالحکومت انقرہ میں معرکۂ حق کی پر وقار تقریب

انقرہ میں پاکستان کے سفارتخانے کے زیرِ اہتمام معرکۂ حق کی پہلی سالگرہ کے موقع پر ایک پروقار تقریب منعقد کی گئی۔

ترک پارلیمنٹ کے رکن برہان قایا ترک، انقرہ سائنس یونیورسٹی کے ریکٹر پروفیسر ڈاکٹر یاوُز دمیر، جیو اسٹریٹجک فورسائٹ انسٹیٹیوٹ کے سربراہ ڈاکٹر گورائے الپار، سابق سفیر نعمان ہزار، ترکیہ کی وزارتِ خارجہ کے نمائندوں، دانشوروں، ماہرینِ تعلیم، ذرائع ابلاغ کے نمائندوں اور پاکستانی برادری کی نمایاں شخصیات نے تقریب میں شرکت کی۔

تقریب سے خطاب میں پاکستان کے سفیر ڈاکٹر یوسف جنید نے معرکۂ حق کے دوران پاکستان کی مسلح افواج اور عوام کی جانب سے مظاہرہ کیے گئے عزم، جرأت اور پیشہ ورانہ مہارت کو خراجِ تحسین پیش کیا۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان نے ’آپریشن بنیانٌ مرصوص‘ کے ذریعے اپنے حقِ دفاع کو نہایت تحمل اور استقامت کے ساتھ بروئے کار لاتے ہوئے بین الاقوامی قانون، امن اور ذمہ دارانہ طرزِ عمل سے اپنی وابستگی کو برقرار رکھا۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان اپنی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے تحفظ کے لیے مکمل طور پر تیار ہے، تاہم اس کے باوجود اسلام آباد نے ہمیشہ مذاکرات، تحمل اور کشیدگی میں کمی کے اصولوں کو ترجیح دی ہے۔

سفیر پاکستان ڈاکٹر یوسف جنید
سفیر پاکستان ڈاکٹر یوسف جنید

سفیرِ پاکستان نے کشیدگی کے ایام میں ترکیہ کی حکومت اور عوام کی جانب سے پاکستان کے حق میں بھرپور حمایت اور ترک میڈیا کی متوازن و ذمے دارانہ رپورٹنگ پر خصوصی شکریہ بھی ادا کیا۔

ترک رکنِ پارلیمنٹ برہان قایا ترک نے پاکستان کے ساتھ ترکیہ کی غیر متزلزل یکجہتی کا اعادہ کیا اور کہا کہ مضبوط دفاعی صلاحیتیں نہ صرف جارحیت کی راہ میں رکاوٹ بنتی ہیں بلکہ خطے میں امن و استحکام کے قیام میں بھی اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ 

ترک رکن پارلیمنٹ برہان قایا ترک
ترک رکن پارلیمنٹ برہان قایا ترک

انہوں نے علاقائی کشیدگی کے دوران پاکستان کی جانب سے تحمل، سفارت کاری اور مذاکرات پر مبنی پالیسی کو سراہتے ہوئے اسے خطے میں امن کے فروغ کے لیے مثبت طرزِ عمل قرار دیا۔

جیو اسٹریٹجک فورسائٹ انسٹیٹیوٹ کے سربراہ ڈاکٹر گورائے الپار نے جموں و کشمیر سمیت خطے کے دیرینہ تنازعات کے حل کے لیے امن، مذاکرات اور بین الاقوامی قوانین کی پاسداری کو ناگزیر قرار دیا۔

انہوں نے علاقائی امن کے قیام کے لیے پاکستان کی سفارتی کوششوں کو قابلِ تحسین قرار دیتے ہوئے زور دیا کہ پانی جیسے بنیادی اور حیاتیاتی وسائل کو کبھی ہتھیار کے طور پر استعمال نہیں کیا جانا چاہیے۔

سابق سفیر نعمان ہزار نے اپنے خطاب میں کہا کہ پائیدار امن کے لیے بین الاقوامی قوانین کی پابندی اور اقوامِ متحدہ کی متعلقہ قراردادوں پر عمل درآمد ناگزیر ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ہر ریاست کو اپنی خودمختاری اور سرحدی سالمیت کے دفاع کے لیے ہمہ وقت تیار رہنا چاہیے، تاہم دیرپا امن صرف مذاکرات اور سفارت کاری ہی کے ذریعے ممکن بنایا جا سکتا ہے۔

تقریب کے اختتام پر پاکستان کے امن، استحکام اور مسلسل ترقی و خوشحالی کے لیے خصوصی دعائیں کی گئیں۔

بین الاقوامی خبریں سے مزید