مشرق ِوسطیٰ میں جاری کشیدگی کو کم کرنےکیلئے پاکستان اور دوست ممالک کی سفارت کاری کے باعث امید کی جا رہی ہے کہ جلد کوئی تصفیہ ممکن ہو جائیگا۔ اس حوالے سے جہاں پوری دنیا پاکستان کی تعریف کر رہی ہے وہیں فیلڈ مارشل عاصم منیر کے کردار کو بھی کھل کر سراہا جا رہا ہے۔ امریکہ کے صدر ٹرمپ کی طرح انہیں ایران کی سیاسی و عسکری قیادت کا بھی بھرپور اعتماد حاصل ہے۔ یہی وجہ ہے کہ امریکہ اور ایران میں پیدا ہونیوالے ڈیڈ لاک کو توڑنے میں ان کے دورہ ایران نے اہم کردار ادا کیا۔ علاوہ ازیں مشرق وسطیٰ کے دیگر ممالک بالخصوص سعودی عرب، ترکی، مصر اور قطر کی جانب سے مستقبل کی دفاعی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے پاکستان کے ساتھ جو دفاعی معاہدے ہو چکے ہیں یا مستقبل قریب میں ہونے والے ہیں ان میں بھی فیلڈ مارشل عاصم منیر کے کردار کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا ہے۔ اس وقت ایک طرف جہاں پاکستان خطے کو جنگ سے بچانے کی کوششیں کر رہا ہے وہیں عالمی سطح پر پیدا ہونے والے توانائی کے بحران کو بھی حل کرنے کیلئےکوشاں ہے۔ اس سلسلے میں اگرچہ پاکستان کے اندر بھی پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے جسکی وجہ سے عام آدمی کی مشکلات میں اضافہ ہوا ہے۔ تاہم پاکستان کو انرجی کی سپلائی میں تعطل نہیں آیا ہے بلکہ خطے میں کشیدگی اور بحری راستوں میں پیدا ہونے والی رکاوٹوںکےباعث خلیجی ممالک کو درپیش فوڈ سکیورٹی کا مسئلہ حل کرنے میں بھی پاکستان نے اہم کردار ادا کیا ہے۔ ان حالات سے ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستان کیلئے مستقبل قریب میں مشرق وسطیٰ سے معاشی تعلقات کو مضبوط بنانے کے بیش بہا مواقع دستیاب ہوں گے۔ حال ہی میں پاکستان نے ایران کے ذریعے سینٹرل ایشیاء کے ساتھ تجارتی روٹ پر نقل و حمل کا آغاز کرنے کے علاوہ ایران کیلئے چھ کراسنگ پوائنٹ سے ٹرانزٹ ٹریڈ کھول کر دو طرفہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کیلئے اہم پیشرفت کی ہے۔ علاوہ ازیں ورلڈ بینک کی طرف سے پاکستان کو جنوبی ایشیا کے ریجن سے نکال کر مشرق وسطیٰ اور شمالی افریقہ کے گروپ میں شامل کرنے کا اقدام بھی قابل ذکر ہے۔ اس تبدیلی کی وجوہات کے حوالے سے ورلڈ بینک نے نشاندہی کی ہے کہ پاکستان کی معیشت خلیجی ممالک یعنی سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، کویت اور قطر وغیرہ کے ساتھ زیادہ جڑی ہوئی ہے۔ علاوہ ازیں ہماری ترسیلات زر، توانائی کی درآمدات اور مالیاتی مدد کا بڑا حصہ بھی اسی خطے سے آتا ہے۔ اس لحاظ سے دیکھا جائے تو ورلڈ بینک کے اس اقدام سے پاکستان کو خلیجی ممالک سے سرمایہ کاری کے حصول میں ترجیحی مواقع ملیں گے کیونکہ اب اسے مشرق وسطیٰ کے معاشی ماڈل کے تناظر میں دیکھا جائیگا۔ اس تناظر میں ورلڈ بینک پاکستان کو صرف ایک جنوبی ایشیائی ملک کے بجائے ایک پل کے طور پر دیکھ رہا ہے جو وسطی ایشیا، خلیج اور بحیرہ عرب کو آپس میں جوڑتا ہے۔ اس طرح پاکستان اور چین کے اشتراک سے بننے والے سی پیک اور دیگر ٹرانزٹ منصوبوں کو بھی نئی اہمیت ملے گی۔ علاوہ ازیں پاکستان اب اس فنڈنگ اور تکنیکی معاونت کے پروگراموں تک رسائی حاصل کر سکے گا جو خاص طور پر مشرق وسطیٰ کی ریاستوں کیلئے ڈیزائن کیے جاتے ہیں۔ اس تبدیلی سے پاکستان کا سفارتی وزن جنوبی ایشیا کے بجائے مشرقِ وسطیٰ میں بڑھے گا جہاں پاکستان کے پہلے ہی گہرے دفاعی اور برادرانہ تعلقات ہیں۔واضح رہے کہ وسطی ایشیائی ممالک قدرتی وسائل جیسے تیل، گیس اور معدنیات سے مالا مال ہیں اور 347 ارب ڈالر کی جی ڈی پی و مستحکم اقتصادی ترقی کے ساتھ یہ خطہ توانائی، زراعت، ٹیکسٹائل اور معدنیات کے شعبوں میں نمایاں اہمیت رکھتا ہے۔ علاوہ ازیں جیسے جیسے وسطی ایشیائی معیشتیں اپنے روایتی تجارتی شراکت داروں سے ہٹ کر نئے مواقع تلاش کر رہی ہیں۔ اسی طرح پاکستان کیلئے اس خطے میں مضبوط اقتصادی شراکت داری قائم کرنے کے نئے امکانات پیدا ہو رہے ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق پاکستان آئندہ چند برسوں میں وسطی ایشیائی ریاستوں کے ساتھ دوطرفہ تجارت کو فروغ دے کر آئندہ چند سال میں 10 ارب ڈالر تک لے جا سکتا ہے۔ تاہم اس وقت پاکستان کی وسطی ایشیائی خطے کے ساتھ براہ راست تجارت اپنی حقیقی صلاحیت کے مقابلے میں بہت کم ہے اور زیادہ تر تجارت ٹیکسٹائل، غذائی مصنوعات اور محدود صنعتی اشیاء تک محدود ہے جو اقتصادی تعاون بڑھانے کی وسیع کوششوں کے برعکس ہے۔
دوسری طرح ازبکستان اور قازقستان جو اس خطے میں پاکستان کے دو بڑے تجارتی شراکت دار ہیں ان کے ساتھ بھی ٹرانزٹ معاہدوں کے باوجود تاحال تجارت میں خاطر خواہ اضافہ نہیں ہو سکا حالانکہ وہاں پاکستانی مصنوعات کی مسلسل طلب موجود ہے۔ مشرق وسطی میں جاری حالیہ تنازعات کے باعث پیدا ہونیوالی معاشی غیر یقینی صورتحال، عالمی سطح پر توانائی کی قیمتوں میں اتار چڑھا، شپنگ روٹس میں رکاوٹوں اور مالیاتی منڈیوں کے عدم استحکام کے باعث حالات کا تقاضا یہ ہے کہ پاکستان اپنی برآمدی منڈیوں کو متنوع بنائے۔ یہ اس لئے بھی ضروری ہے کہ سالہا سال سے چند روایتی منڈیوں پر حد سے زیادہ انحصار نے پاکستان کی برآمدی ترقی کو محدود کر رکھا ہے اور اس کی وجہ سے ہمیشہ بحران کا خطرہ درپیش رہتا ہے۔ ان حالات میں جنوبی ایشیا اور وسطی ایشیا کی منڈیوں میں برآمدات بڑھانے کیلئے ایک جامع اور ہدفی حکمت عملی اختیار کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ پاکستان کے پاس ان ممالک کیلئے انجینئرنگ اور صنعتی مصنوعات کی وسیع برآمدی صلاحیت موجود ہے۔ اس سلسلے میں شوگر ملز، سیمنٹ پلانٹس کا سازوسامان، کھاد، تعمیرات اور بجلی پیدا کرنے والی صنعتوں کیلئے مشینری کی برآمد کے وسیع مواقع موجود ہیں۔ تاہم اس خطے کی تجارتی صلاحیت سے فائدہ اٹھانے کیلئے ٹرانسپورٹ کے نظام کو بہتر بنانے، بینکاری نظام کو توسیع دینے اور تجارتی سہولت کاری کے معاہدے کرنا ضروری ہے۔