• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

28 فروری 2026ءعالمی تاریخ کا ایک یادگار لمحہ کہ واشنگٹن میں عالمی قیادت کی صلاحیت کرچیاں بن کر یورپ اور ایشیا کے گلی کوچوں میں بکھر گئی ہے ۔مجھے تو فخر ہے کہ ہم زندہ تھے تو یہ روح پرور منظر دیکھ لیا۔ اس کا سہرا صرف اور صرف امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کےسر ہے ۔ان کی کہہ مکر نیوں نے یورپ کا اعتماد بحال کیا۔ ایشیا کو اپنے وسائل اور جواہر پر غور کرنے کی ہمت دی۔ یہ تو نہیں کہا جا سکتا کہ واشنگٹن کا متبادل اب بیجنگ بن گیا ہے یا تہران برسلز یا پیرس یا ماسکو ۔لیکن یہ پورے وثوق سے کہہ سکتے ہیں کہ اب عالمی قیادت کثیر الجہات ہو گئی ہے۔صرف واشنگٹن میں محدود نہیں رہی۔ انگریزی میں Multipolarکہہ سکتے ہیں۔ٹرمپ کی مقبولیت بدستور کم ہو رہی ہے حالیہ جائزوں میں 34 فیصد تک رہ گئی ہے۔ایک حالیہ سروے میں 60 فیصد امریکیوں کو اب اپنے صدر پر اعتبار نہیں رہا۔61 فیصد کا کہنا ہے کہ 79 سالہ ٹرمپ کی عمر جیسے جیسے بڑھ رہی ہے وہ ڈانواں ڈول Erratic ہوتے جا رہے ہیں۔ 53 فیصد امریکی سوچتے ہیں کہ ان کی ذاتی مالیاتی منصوبہ بندی سخت خطرے میں ہے۔ 51 فیصد کو ٹرمپ کی اقتصادی پالیسیوں سے اتفاق نہیں رہا ۔ ان کی اپنی پارٹی ریپبلکن کو ٹرمپ کے جرمنی سے اپنےپانچ ہزار فوجی واپس بلانے سے یورپ میں عدم تحفظ کا احساس بڑھ رہا ہے ۔

امریکہ کے تحقیقی انسٹیٹیوٹ بہت آزاد اور فعال ہیں۔ اسی طرح ان کے آئینی ادارے ہز ماسٹرز وائس نہیں ہیں ۔وہ نہ صرف امریکہ کی ریاستوں میں موجود سیاسی سماجی صورتحال پہ تجزیے کر رہے ہیں بلکہ دنیا کے اکثر ممالک میں بھی ٹرمپ کی پالیسیوں پر رائے عامہ مرتب کر رہے ہیں۔ امریکہ کے 24 اتحادی ملکوں میں سے 19 نے کہا ہے کہ اب ٹرمپ کی عالمی قیادت کی صلاحیت بھروسے کے قابل نہیں رہی۔ ایک ماہر معیشت نے تو بہت ہی اہم تبصرہ کیا ہے کہ ٹرمپ کی قیادت میں امریکہ کسی بھی خیر کیلئے اپنا اخلاقی اختیار کھو چکا ہے۔ امریکہ یورپ کے میڈیا تھنک ٹینکس اور ماہرین کے جائزوں کامطالعہ کریں تو یہ اتفاق رائے تو دکھائی دیتا ہے کہ امریکہ اپنی منظم عالمی قیادت سے محروم ہو چکا ہے ۔اب یہ اختیار کدھر منتقل ہو رہا ہے۔ اس کا جواب آسانی سے نہیں دیا جا سکتا ۔

آج اتوار ہے انتہائی اہم ۔جب ہم معرکہ حق کی تقریبات منا چکے ہیں اپنے ازلی دشمن بھارت پر اپنی عسکری برتری سے سرشار ہیں ۔آج اپنے بیٹے بیٹیوں ،پوتے پوتیوں، نواسے نواسیوں بہووں دامادوں سے بھی اپنی اسی سبقت پر بات ہونی چاہیے ۔اللہ تعالی کا شکر ادا کریں اپنی اولادوں کو بتائیں کہ یہ رتبہ ہمیں کس طرح نصیب ہوا ۔ٹیکنالوجی میں کس نے ہمارا ساتھ دیا۔ ہمارے جانباز جوانوں کا کیا کردار ہے ۔ہمارے 25کروڑ عوام نے اپنے پیٹ پر پتھر باندھ کر کس طرح اپنی ریاست کو ایٹمی استطاعت حاصل کرنے کا موقع دیا ۔ہماری نئی نسل بھی ضرور سوال کرے گی کہ اب عالمی رہنمائی امریکہ کے بعد کس کے ہاتھ میں ہے ۔مجھے شاد عظیم آبادی یاد آرہے ہیں کیا عظیم شعر کہہ کر انہوں نے پوری اردو دنیا کو شاد کر دیا

یہ بزم مے ہے یاں کوتاہ دستی میں ہے محرومی

جو بڑھ کر خود اٹھا لے ہاتھ میں مینا اسی کا ہے

اس وقت آسٹریلیا سے کینیڈا تک یہی صورتحال ہے ۔میدان کھلا ہے ۔کینیڈا کے وزیراعظم 61 سالہ مارک کرنے نے اس عالمی سیاسی اقتصادی سماجی آئینی صورتحال کو ایک جملے میں بہت تدبر سے سمیٹا ہے ۔We are in the midst of a rupture not a transition’’ہم اس وقت شکست و ریخت کے مرحلے سے گزر رہے ہیں ۔کسی منتقلی کے عمل سے نہیں ‘‘بہت غور طلب جملہ ہے اور انتہائی پیچیدہ مرحلہ ۔معلوم نہیں ہماری یونیورسٹیاں تحقیقی ادارے اس خلفشار اس دگر گوں منظر نامے کے اسباب پر مجموعی طور پر تحقیق کر رہے ہیں یا نہیں امریکہ جو اب تک اپنی دولت اور فوجی طاقت کے بل بوتے پر دنیا پر راج کرتا رہا ہے۔ اب اس کے ہاتھ سے باگ ڈور جا رہی ہے اتحادی یورپ اس سے دور ہو گیا ۔کیا یورپ کے کسی ملک میں صلاحیت ہے کہ وہ دنیا کی قیادت کر سکے یورپی ممالک کی سی وی دیکھیں تو وہاں ایشیائی افریقی ملکوں پر عیاری سے قبضہ کرنے کی صلاحیت تو ملے گی لیکن تدبر کی بنیاد پر سیاسی اور معاشی قیادت کی نہیں۔ ان کے بازار اور عجائب گھر افریقہ ایشیا کی کھوپڑیوں اور چرائے ہوئے نوادرات سے تو سجے ہیں لیکن ان نو آبادیوں کیلئےاپنے پاؤں پر کھڑے کرنے کی دستاویزات سے نہیں ۔ کیاعالم اسلام یہ عالمی قیادت سنبھال سکتا ہے ۔کتنے اسلامی ملکوں کو ہاتھ بڑھانے اور مینا اٹھانے کا حوصلہ ہے ۔زیادہ تر تو امریکہ کی خوشنودی کے حصول میں ہی عمریں گزارتے رہے ہیں ۔ایران زخمی ہے۔ مرہم رکھنے میں مصروف۔ کیا وہ عالم اسلام کا جنیوا بن سکتا ہے۔ کیا عرب مسلم ریاستیں اسے ایسا کرنے دیں گی ۔ہر چند کہ اس نے امریکہ اسرائیل کی سفاکی کی مسلسل مزاحمت کی تاریخ رقم کر دی ہے ۔یہ بھی جائزہ لینا ہوگا کہ کیا عالمی قیادت کیلئے تدبر اور بصیرت درکار ہے یا دولت یا عیاری یا جبر و استبداد۔ اور کیا اس کیلئے کسی کے ترکش میں زہریلے تیر ہونا ہی ضروری ہیں ۔یا اس کے ڈپو گولہ بارود سے بھرے ہوں ۔میزائلوں اور ڈرونوں کی بہتات ہو۔ ملکوں ملکوںفوجی اڈے ہوں۔

انڈیا کو بھی قیادت کا جنون رہا ہے۔ عالمی قیادت نہ سہی اس نےعلاقائی راج کیلئے بہت پاپڑ بیلے ہیں۔ ابھی بنگال میں کئی لاکھ مسلمانوں کو ووٹرز کی فہرست سے نکال کر انتخابی فتح حاصل کی ہے۔ لیکن دوسرے صوبوں میں مودی کے خلاف نفرت بڑھ گئی ہے ۔اس سلسلے میں پاکستان کو مسلم ملکوں سے بات کرنا چاہئے۔ کیونکہ مودی بھارت کے مسلمانوں پر وہی ظلم ڈھا رہا ہے جسکا مظاہرہ نیتن یاہو فلسطینیوں کے ساتھ کر رہا ہے۔

جائز ے یہ کہہ رہے ہیں کہ مستقبل کی توانائی ایشیائی ملکوں کے پاس ہے۔ ایشیائی ممالک اگر امریکہ کی ریشہ دوانیوں کا حصہ نہ بنیں اور اسرائیل کی سفاکی اور شقی القلبی کا مل کر مقابلہ کریں تو ایشیا سیاسی اقتصادی رہبری کر سکتا ہے۔ابھی فلپائن میں مشرق بعید کے ملکوں کی تنظیم آسیان نے توانائی کی قلت پر اجتماعی منصوبہ بندی کیلئے ایک نتیجہ خیز اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد کیا ہے۔ پوری دنیا میں مستقبل کی فکر مندی ہو رہی ہے مگر اسلامی ملکوں کی تنظیم او آئی سی کسی سطح پر بھی کوئی لائحہ عمل ترتیب دیتی نظر نہیں آرہی ۔ ایشیا میں انڈیا اور اسرائیل کا گٹھ جوڑ ایشیا کیلئے قیادت میں رکاوٹیں کھڑی کرتا ہے۔ اب ایشیا میں ایک پٹی ایک سڑک سے ہر ملک کو طاقتور بنانے والا چین اگر چاہے تو ایران سمیت اکثر اسلامی ممالک آسٹریلیا اور یورپ کے ساتھ مل کر ایک نئی عالمی قائدانہ شاہراہ تعمیر کر سکتا ہے۔ پاکستان تو ویسے ہی چین کا ہر موسم کا دوست ہے تو پاکستان کیلئےبھی ایک شاندار موقع ہے۔ایشیا میں قیادت کی منتقلی کا ۔

تازہ ترین