آپ نے کئی دکاندار دیکھے ہوں گے جو نہایت اکھڑمزاجی سے بات کرتے ہیں اسکے باوجود نہ اُن کے گاہک کم ہوتے ہیں نہ روٹی روزی میں کوئی کمی آتی ہے۔ ان میں اکثریت ان لوگوں کی ہے جن کے باپ دادا پوری محنت سے ایک بزنس سیٹ کرگئے ہیں اور اب یہ لوگ پورا زور لگا کر بھی اسے برباد نہیں کرپارہے۔ایسے کئی کردارہمارے اردگرد بکھرے پڑے ہیں جن کی تلخ گوئی کی وجہ سے دوبارہ انہیں منہ لگانے کو جی نہیں چاہتا لیکن یہ دن دوگنی رات چوگنی ترقی کر رہے ہیں۔ بنیاد مضبوط ہوتوکاروبارتباہ ہونے میں بھی اتنا ہی وقت لگتاہے جتنا بننے میں لگتاہے۔اسے کہتے ہیں مفت کی روٹیاں۔آپ کے سامنے ایسی کئی مثالیں ہوں گی۔کہیں چنے والی کی دکان پر بھکاریوں کی طرح گاہکوں کی لائنیں لگی ہوتی ہیں، کہیں کوئی سری پائے والا صبح گیارہ بجے ہی پتیلا صاف کرکے اٹھ جاتاہے۔ ان سب کے پیچھے وہ بھرپور طاقتیں تھیں جنہوں نے کام کے ساتھ ساتھ نام بھی کمایا۔ ان لوگوں کا کبھی کوئی اشتہار اخبار میں نہیں آتا، نہ کوئی پوسٹر نظر آتے ہیں لیکن پھر بھی لوگ انہیں جانتے ہیں، جوق در جوق ان سے چیزیں خریدنے آتے ہیں۔ ایک نسل کی محنت اگلی تین نسلوں کی خوشحالی کا باعث بن رہی ہے۔
٭ ٭ ٭
آج کل تقریباً ہر صحافی نے اپنا یوٹیوب چینل کھول رکھاہے۔ ان میں زیادہ تر کسی نہ کسی ٹی وی چینل سے بھی وابستہ ہیں اور ہر وقت شکوہ کناں نظر آتے ہیں کہ ہمیں ٹی وی پر سچ نہیں بولنے دیا جاتا، ادارے کی پالیسیاں سخت ہیں۔ یہ ایک عام سا جملہ ہے جو لگ بھگ ہر صحافی سے سننے کو ملتاہے۔یہ اچھی طرح جانتے ہیں کہ چینل کی پالیسیوں سے اختلاف کرکے اگر یہ کوئی پروگرا م کریں گے تو چینل بند بھی ہوسکتاہے لیکن اِن کے خیال میں چینل کو بس حق سچ کا ساتھ دینا چاہیے چاہے چینل بند ہوجائے۔لیکن حیرت انگیزطورپر یہ اپنے یوٹیوب چینل پر یوٹیوب کی ہر پالیسی کو بطور خاص فالوکرتے ہیں۔یہ کاپی رائٹ میٹریل نہیں لگاتے، کوئی آڈیو نہیں پلے کرتے، قتل کا لفظ بھی لکھتے ہیں تو اسے ‘ق۔ت۔ل’ کرکے لکھتے ہیں۔یہاں پتانہیں کیوں ان کی بہادری دم توڑ جاتی ہے۔ شائداس لیے کہ یہ ان کا اپنا چینل ہوتاہے۔دوسروں کے چینل پر بیٹھ کر دھڑلے سے بات کرنا بہت آسان ہے لیکن یہی بات جب اپنے چینل پر آتی ہے تو ایک ہزار احتیاطیں یاد آجاتی ہیں۔ہمارے ہاں ٹی وی چینل خصوصاً نیوز چینلز پر اس لیے بھی برا وقت آیا ہوا ہے کہ اِن چینلز نے کروڑوں روپے برباد کرکے وہ ہائی آفیشلزہائیر کیے جنہیں صرف بیوروکریسی کی طرح احکامات دینے آتے تھے۔نہ پروڈکشن کا تجربہ، نہ لٹریچر سے کوئی شغف، نہ تاریخ سے واقفیت۔ ان سے کبھی ملیں تو زیادہ تر کا یہی دعویٰ ہوتاہے کہ فلاں چینل میں نے شروع کیا تھا حالانکہ چینل شروع کرنا کبھی ایک بندے کا کام نہیں ہوتا۔یہ سینکڑوں ورکرز کی مشترکہ کاوش ہوتی ہے۔یہ ہائی آفیشلزچینل مالکان کی تجوریاں برباد کرتے ہیں اور انہیں اس حال میں چھوڑ کر نکل جاتے ہیں کہ مالکان کانوں کو ہاتھ لگاتے پھرتے ہیں۔ یہ اپنے یوٹیوب چینل کیلئے تو ایک کیمرہ مین تک ہائر نہیں کرتے لیکن ٹی وی چینل میں ہوں تو دھڑا دھڑ ایسی بھرتیاں بھی کرتے ہیں جن کی سو سال تک ضرورت نہیں ہوتی۔اسی وجہ سے چینل مالکان کا بجٹ یکدم بڑھ جاتاہے اور حوصلہ جواب دے جاتاہے۔
زیادہ تر مالکان چونکہ ٹی وی انڈسٹری سے ناواقف ہوتے ہیں لہٰذا یہ ہائی آفیشل جو پٹی بھی انہیں پڑھاتے ہیں وہ آنکھیں بند کرکے یقین کرتے ہیں اور سامان پہ سامان خریدتے چلے جاتے ہیں۔کچھ عرصہ مزید انتظار کیجئے، اکثر پرائیویٹ ٹی وی چینلز کی عمارتیں کرائے پر دستیاب ہوں گی اور یہ ہائی آفیشلز کسی گتا فیکٹری میں سپروائزر لگے نظر آئیں گے۔
٭ ٭ ٭
کچھ کام اس لیے بھی بہت مشکل ہوتے ہیں کہ ان کے ساتھ بہت بڑے نام جڑے ہوتے ہیں۔ سب رنگ ڈائجسٹ میں چھپنے والی معرو ف کہانی ‘بازی گر’ کس کو یاد نہیں ہوگی۔ جادوگر مصنف شکیل عادل زادہ کے قلم سے نکلی ہوئی اس کہانی نے ایک عہد کو متاثر کیا اور آج تک لوگ اسے نہیں بھولے۔ برادرم اجمل شاہ دین جو ہمیشہ منفرد کام کرتے ہیں انہوں نے اس بار ‘بازی گر’ پرڈرامہ سیریل بنانے کا اعلان کیا اور اس تہلکہ خیز کہانی کی ڈرامائی تشکیل کا فریضہ مجھے سونپا گیا۔سچ پوچھیں توشکیل عادل زادہ صاحب کی کہانی کو پڑھناہی ایک اعزاز ہے تو اسے ڈرامائی تشکیل دینا کتنا بڑا اعزاز اور کتنے حوصلے کی بات ہوگی۔ بہرحال۔ میں نے بسم اللہ کرکے اسکرپٹ کا آغاز کیااور اب تک تقریباً تیس اقساط مکمل ہوچکی ہیں۔ آئندہ ایک دو ماہ تک ہم ریکارڈنگ پرجارہے ہیں۔ اس شاہکار ڈرامے کو معروف ڈائریکٹرکاشف نثار ڈائریکٹ کررہے ہیں۔ہماری کوشش ہے کہ کہانی کے تمام کردار پڑھنے والوں کو بالکل ایسے ہی نظر آئیں جیسے انہوں نے سوچ رکھے ہیں۔یہ ایک بہت مہنگا اور طویل پروجیکٹ ہے لیکن اتنا ہی دلچسپ بھی ۔بابر، بٹھل اور کورا کے کرداروں کیلئے خاص محنت کی جارہی ہے۔چونکہ 1940کا دور دکھانا ہے اس لیے سینکڑوں پراپس، وارڈروب اورمختلف سیٹ لگائے جارہے ہیں۔کچھ اوریجنل لوکیشنز بھی مارک کی جارہی ہیں۔ایک لمبی چوڑی ٹیم کے ساتھ امید ہے اس سال کے آخر تک اس پراجیکٹ کا پہلا سیزن پیش کردیا جائے گا۔کریڈٹ اجمل شا ہ دین صاحب کو جاتا ہے جو ‘بازی گر’ سے محبوبہ کی طرح محبت کرتے ہیں اور دن رات اسے بہتر سے بہترین کرنے پر لگے ہوئے ہیں۔ریسرچرکی ایک پوری ٹیم 1940کی باریکیوں کا جائزہ لے رہی ہے، روزانہ میٹنگز ہورہی ہیں اور پوری کوشش ہے کہ کہانی کو اس طرح پیش کیا جائے کہ ناول کی فضا بعینہ اسی طرح برقرار رہے۔ شکیل صاحب نے ابھی تک ‘بازی گر’ کا اختتام نہیں لکھا لیکن اب لکھ رہے ہیں اور برسوں بعد بازی گر کے چاہنے والے جان سکیں گے کہ کورا اوربابر کاکیا بنا۔