• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

محترم قارئین!پاکستان میں بیشتر والدین کا خواب ہوتا ہے کہ وہ اپنے بچے کو ڈاکٹر بنتا دیکھیں، کیونکہ ہمارے معاشرے میں اسے محض ایک پیشہ نہیں بلکہ ایک ’اسٹیٹس سمبل‘ سمجھا جاتا ہے۔ یہی وہ ذہنی رجحان ہے جسے کاروباری طبقے نے بڑی مہارت سے اپنے مفاد کیلئے استعمال (Exploit) کیا ہے، اور بدقسمتی سے یہی سوچ آج ہمارے طبی تعلیمی نظام کے بگاڑ کی بنیادی وجہ بھی بن چکی ہے۔اسی پس منظر میں، میں آج پاکستان کے ایک نہایت اہم مسئلے پر قلم اٹھا رہا ہوںیعنی میڈیکل ایجوکیشن کا نظام اور میڈیکل کالجز کی بے ہنگم افزائش۔ یہ ایک ایسا پیچیدہ اور ہمہ جہت مسئلہ ہے جسکے تمام پہلوؤں کا احاطہ ایک ہی کالم میں ممکن نہیں، اسی لیے میں اس پر ایک سلسلہ وار گفتگو پیش کر رہا ہوں تاکہ ہم اس بحران کی جڑ تک پہنچ سکیں۔پاکستان میں طبی تعلیم کا شعبہ، جو کبھی ملک کا سب سے معتبر اور مقدس پیشہ سمجھا جاتا تھا، آج ایک ایسے دوراہے پر کھڑا ہے جہاں معیار پر مقدار کو فوقیت دی جا رہی ہے۔ اگر ہم تاریخ کے اوراق پلٹیں تو سال 2000ء میں ملک بھر میں صرف 30 کے قریب میڈیکل کالجز تھے، جن میں سے اکثریت سرکاری شعبے میں تھی۔ اس وقت کسی کے نام کے ساتھ ’ڈاکٹر‘ کا سابقہ لگنا اس بات کی ضمانت تھا کہ اس شخص نے نہ صرف کڑی محنت کی بلکہ اسے بہترین طبی تربیت بھی حاصل ہوئی۔لیکن آج 2026ء میں یہ تعداد 175 سے تجاوز کر چکی ہے۔بظاہر یہ ترقی کا اشاریہ معلوم ہوتا ہے، مگر حقیقت میں یہ ہماری طبی اور پیشہ ورانہ بنیادوں کو کھوکھلا کر رہا ہے۔ نجی میڈیکل کالجز کی اس بے ہنگم افزائش نے اس مقدس پیشے کو ایک ایسے کاروبار میں تبدیل کر دیا ہے جہاں انسانی جانوں سے زیادہ منافع کو اہمیت دی جا رہی ہے۔اس صورتحال کا سب سے خطرناک پہلو ایسے اسپتالوں کا پھیلاؤ ہے جہاں ڈھانچہ تو موجود ہے مگر علاج اور تربیت دونوں ناپید ہیں۔ قانون کے مطابق کسی بھی میڈیکل کالج کیلئے 500 بستروں پر مشتمل ٹیچنگ اسپتال کا ہونا لازمی ہے، جہاں مختلف امراض کے مریضوں کا عملی علاج موجود ہو۔ لیکن عملی طور پر بہت سے نجی کالجز نے اس شرط کو محض کاغذی معاہدوں (MoUs) کے ذریعے پورا کر رکھا ہے۔ یہ ادارے کسی چھوٹے کلینک یا محدود سہولیات والے ہسپتال کو اپنا ٹیچنگ ہسپتال ظاہر کر دیتے ہیں، جہاں نہ مکمل ایمرجنسی وارڈ ہوتا ہے، نہ آئی سی یو، نہ ہی جدید تشخیصی سہولیات۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ طالب علم پانچ سال ایک ایسے ’طبی ریگستان‘ میں گزار دیتا ہے جہاں اسے کتابی علم تو ملتا ہے مگر عملی تجربہ نہیں ملتا۔ جب وہ حقیقی مریضوں اور پیچیدہ کیسز کا سامنا ہی نہیں کرئیگا تو وہ ایک مکمل ڈاکٹر کیسے بن سکتا ہے؟ یوں ہمارا نظام ایسے ’تھیوریٹیکل ڈاکٹرز‘ پیدا کر رہا ہے جو کتابیں تو رٹ لیتے ہیں، مگر عملی میدان میں انکی صلاحیتیں محدود ہوتی ہیں۔اسی کیساتھ ’گھوسٹ فیکلٹی‘ کا مسئلہ بھی ایک کھلا رازہے۔ معائنے کے دوران مختلف اداروں سے اساتذہ کو وقتی طور پر بھاری معاوضے کے عوض بلایا جاتا ہے تاکہ کاغذات میں معیار پورا دکھایا جا سکے۔ جیسے ہی انسپکشن ٹیم واپس جاتی ہے، یہ اساتذہ بھی غائب ہو جاتے ہیں۔ اس عمل سے تعلیمی معیار میں جو خلا پیدا ہوتا ہے، اسے کسی صورت پورا نہیں کیا جا سکتا۔نجی اداروں کا بنیادی مقصد تعلیم دینا نہیں بلکہ بھاری فیسیں وصول کرنا بن چکا ہے۔ نتیجتاً ہم ایسے نوجوان تیار کر رہے ہیں جو بظاہر ڈاکٹر تو ہوتے ہیں، مگر پیشہ ورانہ مہارت اور اخلاقی تربیت سے محروم ہوتے ہیں۔ یہ صورتحال نہ صرف ان طلبہ کے مستقبل کے ساتھ ناانصافی ہے بلکہ عوام کی صحت کے ساتھ بھی ایک خطرناک کھیل ہے۔اس بے ہنگم اضافہ کا ایک اور سنگین پہلو یہ ہے کہ حکومت نے بغیر کسی جامع پالیسی کے ان اداروں کو کھولنے کی اجازت دی۔ کیا کبھی یہ سوچا گیا کہ ہمارے پاس اتنی تعداد میں تربیت یافتہ اساتذہ، نرسنگ اسٹاف اور طبی سہولیات موجود ہیں جو ان اداروں کی ضروریات پوری کر سکیں؟ جواب نفی میں ہے، اور یہی وجہ ہے کہ تعلیمی معیار تیزی سے گر رہا ہے۔مزید تشویشناک بات یہ ہے کہ ہر سال ہزاروں طلبہ فارغ التحصیل ہو رہے ہیں، مگر ان کیلئے ہاؤس جاب اور اسپیشلائزیشن کے مواقع محدود ہیں۔ پنجاب میں ہزاروں ڈاکٹرز بے روزگار ہیں۔ ہم اپنے نوجوانوں سے کروڑوں روپےکی فیسیں وصول کر کے انہیں ایسی ڈگریاں دے رہے ہیں جن کی مارکیٹ میں طلب ہی موجود نہیں۔اس سنگین بحران سے نکلنےکیلئے فوری اور سخت اقدامات کی ضرورت ہے۔ سب سے پہلے، حکومت کو کم از کم اگلے پانچ سال کیلئے نئے میڈیکل کالجز کے قیام پر مکمل پابندی عائد کرنی چاہیے۔ اب مزید کالجز کھولنے کے بجائے موجودہ اداروں کے معیار کو بہتر بنانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔دوسرے، ٹیچنگ اسپتالوں کی نگرانی کے نظام کو مؤثر بنایا جائے۔ محض کاغذی معاہدوں پر انحصار کرنے کے بجائے باقاعدہ فزیکل آڈٹ کیا جائے تاکہ یہ دیکھا جا سکے کہ کیا واقعی وہاں روزانہ کی بنیاد پر مریضوں کا علاج ہو رہا ہے یا نہیں۔ اگر کوئی ادارہ اس معیار پر پورا نہ اترے تو اس کا لائسنس فوری طور پر منسوخ کیا جائے۔تیسرے، اساتذہ کی موجودگی کو یقینی بنانے کیلئے ایک مرکزی بائیومیٹرک ڈیجیٹل نظام قائم کیا جائے تاکہ کوئی بھی پروفیسر ایک ہی وقت میں متعدد اداروں میں اپنی موجودگی ظاہر نہ کر سکے۔وقت آ گیا ہے کہ ہم طبی تعلیم کو ایک منافع بخش کاروبار کے بجائے ایک قومی ذمہ داری کے طور پر دیکھیں۔ اگر آج ہم نے اس تعلیمی کاروبار کو نہ روکا تو کل مریضوں کا علاج ایسے ہاتھوں میں ہوگا جو ڈگری تو رکھتے ہوں گے، مگر مسیحائی کے فن سے محروم ہوں گے۔

تازہ ترین