تامل ناڈو کے نئے وزیراعلیٰ جوزف وجے کی جانب غربت سے متعلق کیے گئے دعووں پر کلاس فیلو نے انہیں آڑے ہاتھوں لے لیا۔
تامل سپر اسٹار اور تملگا ویٹری کژگم (ٹی وی کے) کے سربراہ جوزف وجے نے اتوار کو تامل ناڈو کے 13ویں وزیراعلیٰ کے طور پر حلف اٹھایا۔
اپنے پہلے خطاب میں انہوں نے غربت اور بھوک کو سمجھنے کا دعویٰ کیا، جس پر ان کے ہم جماعت اور نیٹ فلکس شو دیکپلڈ کے تخلیق کار منو جوزف نے سخت تنقید کی ہے۔
منو جوزف کا ردعمل
منو جوزف نے ایکس سابقہ ٹوئٹر پر جاری بیان میں لکھا، ’وجے نے کہا کہ وہ غربت میں پلے بڑھے اور بھوک کو جانتے ہیں۔ یہ بالکل غلط ہے کیونکہ وہ میرے ہم جماعت تھے جب ہم لوئیولا اسکول میں تیسری جماعت میں ساتھ پڑھتے تھے۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ ’وجے کے والد ایس اے چندرشیکھر فلم ساز تھے جنہوں نے بیٹے کے لیے فلمی کیریئر کے دروازے کھولے۔‘
منو کے مطابق، ’ممکن ہے کہ ان کے والد کو مالی مشکلات کا سامنا رہا ہو، لیکن یہ تامل سطح کی غربت نہیں تھی۔ اکثر خوشحال لڑکے کنگال ہونے کو غربت سمجھ لیتے ہیں، حالانکہ یہ دو بالکل مختلف چیزیں ہیں۔‘
منو جوزف کا پس منظر
منو جوزف سابق صحافی اور مصنف ہیں۔ ان کے والد جوزف ماداپلی نے 1987 میں ملیالم فلم تھورانم ڈائریکٹ کی تھی۔ منو کا ناول سیریس مین (2010) کو سدھیر مشرا نے 2020 میں نیٹ فلکس فلم میں ڈھالا، جس میں نوازالدین صدیقی نے مرکزی کردار ادا کیا تھا۔
وجے کا پہلا خطاب
وزیرِاعلیٰ تامل ناڈو وجے نے اپنے خطاب میں کہا تھا، ’میں غربت اور بھوک کو جانتا ہوں۔ میری کوئی شاہی نسل نہیں، میں آپ جیسا ہوں، آپ کا بیٹا، آپ کا بھائی۔‘
انہوں نے اپنے انتخاب کو ایک نئے دور کا آغاز قرار دیا اور وعدہ کیا کہ عوام کا ایک پیسہ استعمال نہیں کریں گے۔ بدعنوانی میں ملوث نہیں ہوں گے اور نہ ہی اپنی حکومت میں کسی کو ایسا کرنے دیں گے۔