چین میں ایک چونکا دینے والا واقعہ سامنے آیا ہے جس میں ابتدا میں ایک خاتون نے الزام لگایا کہ ایک مشہور ٹی شاپ نے اس کی چائے میں کچھ ملا دیا، جس کے باعث اس کی طبعیت خراب ہوگئی، تاہم تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی کہ اصل میں وہ ایک مجرمانہ سازش کا نشانہ بنی تھی۔
چینی صوبے انہوئی سے تعلق رکھنے والی خاتون نے سوشل میڈیا پر دعویٰ کیا تھا کہ 27 اپریل کو اس کے بوائے فرینڈ کی جانب سے لائی گئی چائے پینے کے دوران اسے غیر معمولی طور پر سخت اور دھاتی ذرات محسوس ہوئے۔
اس نے بتایا کہ یہ ذرات اسے ببلز جیسے لگے، مگر بعد میں اس نے انہیں تھوک کر دیکھا تو وہ چاندی جیسے باریک دھاتی ٹکڑے تھے، اس کے بعد اس نے فوری طور پر پولیس اور صارفین کے تحفظ کے ادارے کو اطلاع دی۔
لڑکی کی شکایت پر مقامی حکام نے تحقیقات کی تو اس میں حیران کن انکشاف ہوا کہ چائے کی دکان کے تمام اجزاء اور پروڈکشن پروسیس محفوظ تھے، مشروب میں کوئی زہریلا مادہ نہیں تھا، اور چائے میں باہر سے کوئی چیز ڈالی گئی تھی۔
تحقیقات کے مطابق یہ زہریلا مواد دکان نے نہیں بلکہ خاتون کے قریبی شخص نے چائے میں شامل کیا تھا، جس کے بعد پولیس نے ایک مشتبہ شخص کو گرفتار کر لیا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ شخص اس کا بوائے فرینڈ تھا، جس پر مبینہ طور پر اسے زہر دینے کی کوشش کا الزام ہے۔
پولیس نے شواہد اکٹھے کر کے کیس مزید تفتیش کے لیے آگے بڑھا دیا ہے، چینی قانون کے تحت خوراک میں زہریلا مواد شامل کرنا ایک سنگین جرم ہے، جس پر قید یا سنگین صورت میں سخت ترین سزا بھی دی جا سکتی ہے۔