• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ایران کی نئی تجویز احمقانہ، اومابا اور بائیڈن ہوتے تو شاید قبول کرلیتے: ٹرمپ

فوٹو: فائل
فوٹو: فائل

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کی نئی تجویز احمقانہ ہے، اومابا اور بائیڈن ہوتے تو شاید ایرانی تجویز قبول کرلیتے۔

وائٹ ہاؤس میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی صدر کا کہنا تھا کہ ایران جوہری ہتھیار حاصل نہیں کر سکتا، ایران کے ساتھ نمٹ کر دنیا کے لیے خدمات پیش کر رہے ہیں۔

امریکی صدر نے کہا کہ ایران کی ناکہ بندی وینزویلا منصوبے کی طرح شاندار فوجی منصوبہ تھا، ایران کے ساتھ جنگ ​​بندی انتہائی نگہداشت میں ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ایران کے حوالے سے کوئی دباؤ یا کوفت محسوس نہیں کر رہا ہوں۔ہم نے بڑی فوجی کامیابی حاصل کی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایرانی ہمارے ساتھ ساری باتوں پر متفق ہو کر مکر جاتے ہیں۔ امریکا کی طرح ایران میں بھی اعتدال پسند اور پاگل موجود ہیں۔

ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ایران کے جواب کاکئی دنوں تک انتظار کیا حالانکہ جواب 10 منٹ میں دیا جاسکتا تھا۔

امریکی صدر نے کردوں کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ کردوں نے ہمیں مایوس کیا، ہم نے ایران میں داخل کرنے کےلیے کرودوں کو ہتھیار دیے مگر انہوں نے وہ ہتھیار اپنے لیے رکھ لیے۔

’ایران یقینی طور پر ہتھیار ڈال دے گا، معاہدے تک دباؤ ڈالتے رہیں گے‘

قبل ازیں ایک امریکی چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ایران یقینی طور پر ہتھیار ڈال دے گا، معاہدے تک اس پر دباؤ ڈالتے رہیں گے۔

ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ آبنائے ہرمز کو کھولنے کےلیے فریڈم پروجیکٹ کی وسیع پیمانے پر بحالی پر غور کر رہا ہوں، تاہم اس کی بحالی کا فیصلہ نہیں کیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ فریڈم پروجیکٹ صرف آبنائے ہرمز عبور کرنے والے بحری جہازوں کے ہمراہ چلنے تک محدود نہیں رہے گا۔

ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ایران کے مذاکرات کاروں نے ایٹمی فضلے کو نکالنے کیلئے ہماری ضرورت کا اقرار کیا، ایٹمی فضلے کو نکالنے کےلیے ایران کے پاس ٹیکنالوجی میسر نہیں۔

بین الاقوامی خبریں سے مزید