جنگ کے سائے ہیں کہ امید و بیم کی کیفیت میں بڑھتے ہی جارہے ہیں۔ اس جنگ سے سب سے زیادہ متاثر پاکستان ہو رہا ہے جس کے عوام کا اس جنگ سے کوئی لینا دینا نہیں لیکن پھر بھی پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بڑھنے سے اہل وطن پر عذاب کی شدت مزید بڑھ جاتی ہے۔ ’’سارے جہاں کا درد ہمارے جگر میں‘‘ کے مصداق ہمارے حکمرانوں نے سب کچھ کر گزرنا ہے لیکن عوام کی بند ہوتی معاشی سانسوں کو بحال کرنے کی طرف توجہ نہ دینے کی قسم کھا رکھی ہے۔ یک طرفہ تماشہ یہ ہے کہ عالمی سود خور ادارے آئی ایم ایف کی ایما پر ہفتہ وار پٹرول اور ڈیزل مہنگا کرکے سود اور قرض ادا کرنے کا ہدف پورا کرنے میں ساری صلاحیتیں بروئے کار لائی جارہی ہیں، اسی پر بس نہیں بلکہ اہل وطن کو بجلی کے جھٹکے بھی دیے جارہے ہیں لوڈ شیڈنگ اور بجلی کے فی یونٹ کی رقم میں اضافے کے ساتھ اور مزے کی بات یہ ہے کہ بجلی دے نہیں رہے پر بل بڑھا کر دیا جارہا ہے تاکہ مرتےعوام مزید مر جائیں اور ساتھ ہی سولر سے بجلی حاصل کرنے پر بھی ٹیکس کا عذاب نازل کرنے کی کوشش کی جارہی ہے کہ عوام قدرتی دھوپ کیوں استعمال کررہے ہیں، آگے چل کر تو ایسا محسوس ہونے لگا ہے کہ سانس لینے پر بھی اہل وطن کو ٹیکس ادا کرنے کا کہا جائے گا کہ آپ قدرتی گیس حاصل کرکے سانس لے رہے ہیں، ان سے کچھ بھی بعید نہیں ہے کہ اپنے آرام اور عیاشیوں کیلئے کچھ بھی کرسکتے ہیں۔ ہمارا حکمران طبقہ اور ان کے ہم نوا اپنی آسائش میں کسی بھی طرح کمی کرنے کو تیار نہیں بس ساری قربانیاں عوام کیلئے ہی رہ گئی ہیں۔
ہمارے حکمرانوں نے اپنے اتحادیوں اور اقارب کو نوازنے کے لیے بجلی پیدا کرنے والے اداروں کو دو ہزار اکیاون تک کے لیے اجازت نامہ عطا کر رکھے ہیں خواہ وہ ایک یونٹ بھی بجلی پیدا نہ کریں مگر کیپسٹی چارجز کے نام پر ماہانہ کروڑوں روپوں سے ان کی جھولیاں بھری جارہی ہیں جو کہ ظاہر ہے عوام کی کھال کھینچ کر وصول کیے جارہے ہیں۔ قول و فعل کا کوئی ایک تضاد ہو تو بیان کیا جائے اسی ذیل میں انرجی سیکورٹی کے حوالے سے اہم اجلاس میں وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ ’’انرجی سیکورٹی اب ملک کے مستقبل کی مجموعی منصوبہ بندی کا انتہائی اہم حصہ بن چکی ہے‘‘ ان کا مزید فرمانا تھا کہ ’’موجودہ علاقائی صورت حال میں توانائی کی بچت اور اس حوالے سے بروقت اٹھائے گئے اقدامات سے توانائی کا بحران پیدا نہیں ہوا‘‘ جاری صورت حال کے تناظر میں وزیر اعظم کے بقول ’’مستقبل کی توانائی کی ضروریات کے پیش نظر ملک میں خام تیل کے اسٹرٹیجک ذخائر رکھنے کے حوالے سے منصوبے پر کام جاری ہے‘‘ دنیا جس طرف جارہی ہے اس کی بھنک پڑتے ہی وزیر اعظم نے بھی متبادل ذرائع کی طرف اشارہ کیا ہے اور کہا ہے کہ ’’توانائی کی بچت اور پائیدار ترقی کے لیے ذرائع آمد و رفت کو بتدریج ماحول دوست برقی ذرائع (ای وی) پر منتقل کیا جائے اور ملک میں جاری پٹرول بحران کو ختم کرنے کے لیے الیکٹرک موٹر سائیکلوں اور گاڑیوں کو فروغ دیا جائے‘‘ اسی طرح انہوں نے حکام کو یہ بھی ہدایت کی ہے کہ ’’مستقبل میں سرکاری استعمال کے لیے صرف بجلی سے چلنے والی بسیں اور موٹر سائیکلیں خریدی جائیں اور ای وی کے لیے چارجنگ اسٹیشنز کے قیام کے لیے مزید تیزی سے اقدامات کئے جائیں‘‘ جبکہ شمسی توانائی سے پیدا کردہ اضافی بجلی کی اسٹوریج کے لیے بیٹریوں کا حصول آسان بنانے کے لیے لائحہ عمل تشکیل دیا جائے۔
یہ امر اگرچہ لائق تحسین ہے کہ تیل اور گیس کمپنیوں کی مسلسل کوششوں سے گیس اور تیل کی مقامی پیداوار میں اضافہ ہو رہا ہے لیکن ملکی ضروریات اس کے باوجود بھی پوری نہیں ہو پارہی ہیں، روزانہ ہی گیس و تیل کے نئے ذخائر ملنے کے بارے میں خوش کن خبریں ملتی ہیں جانے یہ سلسلہ کب تک جاری رہے گا اور عوام تک اس سب کا رخ کب موڑا جائے گا کسی کو کچھ پتہ نہیں۔ درآمدی بل ہے کہ بڑھتا ہی جارہا ہے۔ مفتاح اسماعیل سابق وفاقی وزیر خزانہ کا کہنا یہ ہے کہ ’’پاکستان نے گزشتہ چار یا پانچ سالوں میں اپنی اصلاحات نہیں کیں، اگر یہ جنگ کی صورت حال جاری رہی تو پاکستان میں مہنگائی اور غربت دونوں بڑھ جائیں گی۔ اگلے چھ ماہ پاکستان کی معیشت کے لیے مشکل ہوں گے۔ اس جنگ کے ختم ہونے کے بعد شہباز شریف حکومت پر سوال اٹھیں گے کہ معیشت بہتر کیوں نہیں ہوئی۔‘‘ ان کے بقول آئی ایم ایف نے بھی پاکستان کو کچھ نئی شرائط دے دی ہیں۔ اب پاکستان پر آئی ایم ایف پروگرام کی کل 75 شرائط ہیں۔ ظلم یہ ہے کہ حکمران جماعت ن لیگ نے بوگس معاہدے کیے تھے۔
ایل این جی نہ آنے پر بھی پاکستان ایک دن میں تقریباً پانچ سو پینتیس سے پانچ سو اڑتیس ڈالرز کی ادائیگی کرتا ہے، یہ جہاز پر اسٹینڈ بائی ماڈل ہے، کیش فلو کی ضمانت ہے لیکن فراہمی کی نہیں ہے، پاکستان پہلے ہی تقریباً دو ارب ڈالر ادا کرچکا ہے، تقریباً دو سو ملین ڈالر سالانہ رقم ادا کی جارہی ہے، یہ ڈالر کی آمد کے بغیر ڈالر کا اخراج ہے۔ 2013ءسے 2018ءکے معاہدوں کے تحت ایک اہم جی ٹرمینلز سے گیس کی سپلائی نہ بھی ہو تب بھی پاکستان ان ٹرمینلز کو ماہانہ پندرہ ملین ڈالر ادا کرتا رہے گا۔ موجودہ اندازہ، تقریباً چار سو تئیس کروڑ ہر مہینے خود ن لیگ کے وزیر علی پرویز ملک نے بیان دیا ہے کہ ’’صرف آئی پی پیز کو ہی نہیں بلکہ ایل این جی پر بھی ہم یہی کام کر رہے ہیں۔ ایل این جی آئے نہ آئے پر ہم نے ہر حال میں پیمنٹ کرنی ہے اور وہ بھی ڈالر میں کرنی ہے۔کیا یہ اہل وطن اور وطن عزیز پر ظلم نہیں ہے۔ ذرا سوچئے۔