’عورت‘ کو نشانہ بنانا ہمارا محبوب مشغلہ بنتا جا رہا ہے۔ سیاست سے لیکر صحافت تک اس کو آسان ہدف بنا لیا گیا ہے۔ ’’جیم سے لے کر جسم‘‘ تک وہ کبھی غیرت کے نام پر مار دی جاتی ہے تو کبھی سیاست میں مقبولیت حاصل کرئے تو قبول نہیں کی جاتی اور اگر اس سب کا وہ بہادری سے مقابلہ کرلے تو کبھی شہید کر دی جاتی ہے تو کبھی نوجوانی میں ہی قید و بند کی صعوبتیں برداشت کرتی ہے۔ ان ناانصافیوں کے خلاف اگر وہ کسی جدوجہد کا آغاز کرتی ہے تو اس کے ساتھ وہ سلوک ہوتا ہے جو شاید دور آمریت میں بھی نہ ہوا ہو۔ مگر اس سب کے باوجود کہیں نہ کہیں ’بیداری‘ کی ایک لہر ضرور نظر آ رہی ہے جسکی قیادت نوجوان لڑکیاں کر رہی ہیں چاہےوہ سندھ ہو، بلوچستان ہو، پنجاب ہو یا کے پی۔ البتہ آج بھی ایسے علاقے موجود ہیں جہاں نہ اسے ووٹ ڈالنے کا حق ہے نہ ہی الیکشن لڑنے کا۔ کوئی بھی الیکشن کیسے قابل قبول ہو سکتا ہے جس میں ملک کی نصف سے زیادہ آبادی کو یہ آزادانہ حق حاصل ہی نہ ہو۔
گزشتہ ہفتہ جو کچھ کراچی پریس کلب کے باہر ہوا اور یقین جانیں اب تو یہ ایک معمول بنتا جا رہا ہے کہ وہ کلب جو کبھی معاشرے کے محروم طبقات کی نمایاں آواز ہوتا تھا وہ اس وقت بدترین دبائو کا شکار نظر آتا ہے اگر خواتین کی کوئی تنظیم پریس کانفرنس کرنا چاہتی ہو تو اگر کلب اجازت دیتا ہے تو گیٹ کے باہر ہی انہیں گرفتار کرلیا جاتا ہے۔ ایسا ہی کچھ چند دن پہلے 75سالہ شیما کرمانی اور ’عورت مارچ‘ کی کچھ دیگر خواتین کے ساتھ ہوا۔ ایسے منظر اب عام ہوتے جا رہے ہیں۔ بلوچ خواتین اس کا خاص نشانہ نظر آتی ہیں حالانکہ بلوچ سماج میں یہ بیداری کی خاص لہر لے کر آئی جس سے وہاں کے سردار بھی پریشان ہیں۔ ایسی ہی لہر سندھ کے دیہی علاقوں میں نئی نسل میں نظر آ رہی ہے۔ اب اس کو ’کاروکاری‘ کے نام پر مار دیا جائے یا ’غیرت‘ کے نام پر بے غیرتی سے نشانہ بنایا جائے وہ آواز تو بلند کر رہی ہے۔ حیرت ہوتی ہے تو اس سیاسی سوچ پر جو ’ہوس زر‘ میں یہ تک بھول گئی کہ کل جب وہ اپوزیشن میں تھی تو خواتین کے حقوق کی بات کرتی تھی، عورت مارچ، مین ایکشن فورم، جیسی تنظیموں کے مظاہروں میں شریک ہوتی تھی اور آج انہیں کی نہ صرف شہری آزادیاں ختم کی جا رہی ہیں، آزادی صحافت محدود کی جا رہی ہے بلکہ کراچی پریس کلب کے گرد گھیرا تنگ کیا جا رہا ہے اس طرح کے اشارے ہمیں دیگر بڑے پریس کلبوں سے بھی مل رہے ہیں مگر کراچی پریس کلب جہاں کبھی پریس کانفرنس کیا ان لوگوں کو تاحیات ممبر شپ دی جاتی تھی جن پر ریاست پابندی لگاتی تھی ،جیسا کے جوشؔ، فیضؔ اور جالبؔ، وہاں اب گرفتاری کلب کے گیٹ کے باہر ہی ہو جاتی ہے۔ پی پی پی کے چیئرمین بلاول بھٹو، آصفہ بھٹو اور وزیر اعلیٰ سید مراد علی شاہ صاحب کو صرف یہ یاد کروانا چاہتا ہوں کہ ان کی قائد محترم بے نظیر بھٹو شہید مارشل لا کے جبر کے زمانے میں یہیں آتیں کبھی عدالتوں میں حاضری کے بعد تو کبھی ’آنسو گیس‘ کھانے کے بعد....کچھ تو خیال کریں حضور۔ کل پھر آپ اپوزیشن میں ہونگے۔
بات ہو رہی تھی کہ آخر عورت ہی نشانہ کیوں بنتی ہے۔ محترمہ فاطمہ جناح ہوں یا بے نظیر بھٹو دونوں نے ہی وقت کی آمریت کو دلیری سے چیلنج کیا تو بعض’درباری علما کرام‘نے اپنے تئیں فتویٰ جاری کیا کہ کسی اسلامی ملک میں ’عورت حکمران‘ نہیں ہوسکتی تاہم بہت سے علما اور مذہبی، سیاسی رہنمائوں نے اس کو مسترد کردیا ۔ فاطمہ جناح کو الیکشن ہروا دیا گیا اور وہ دل برداشتہ ہوکر سیاست ہی چھوڑ گئیں۔ ایسی ہی مہم کا سامنا محترمہ بے نظیر بھٹو کو بھی کرنا پڑا مگر وہ دلیری سے کھڑی رہیں اور الیکشن جیت کر دکھایا پھر اقتدار کی منتقلی میں رکاوٹ ڈالی گئی، اقتدار چلنے نہ دیا گیا مگر وہ 17 نشستوں کے ساتھ بھی دو تہائی اکثریت پر بھاری تھیں اور جب 2007ءمیں وہ جیتنے کے قریب تھیں تو شہید کر دی گئیں۔
عاصمہ جہانگیر اس معاشرےکے ہر محروم طبقےکی آواز تھی اور ہر حکمراں طبقےکو یہ جرأت کے ساتھ باور کراتی کہ تم غلطی پر ہو سیاست سے تمہارا کوئی تعلق نہیں۔ جن لوگوں نے کبھی اسے مارنے کی تو کبھی ڈرانے کی کوشش کی، وہ ان کے حقوق کیلئے بھی آواز بلند کرتی ۔ آ پ بھی حیران ہونگے کہ مشہور زمانہ 12 مئی 2007 سے ایک دن پہلے انہوں نےمتحدہ کے بانی الطاف حسین کو سمجھانے کی کوشش کی کہ ان کو جو کرنے پر مجبور کیا جا رہا ہے وہ ایک سازش ہے اور وہ اس کا حصہ نہ بنیں مگر وہ اور انکے کچھ ساتھی سمجھے کہ وہ چیف جسٹس افتخار چوہدری کی حمایت کی وجہ سے یہ کہہ رہی ہیں جبکہ عاصمہ نے اپنے کام اور کردار سے ثابت کیا کہ وہ ان کو یعنی ایم کیو ایم کو تصادم سے بچانا چا ہ رہی تھیں۔
خواتین صحافیوں کی جدوجہد کی بھی عجب کہانی ہے۔ ایک وقت تھا جب خواتین صحافیوں کومیگزین یا ڈیسک پر نوکری دی جاتی تھی اور پھر ایک ایسا وقت بھی آیا کہ دی نیوز اخبار کے کراچی، لاہوراور اسلام آباد کی مدیر خواتین ہوئیں۔ وہ رپورٹنگ میں آئیں اور کراچی سے خیبر تک وہ خطرناک ترین علاقوں سے بھی خبریں دیتی رہیں۔ صحافیوںکی جدوجہد میں بھی ان کا کردار مثالی ہے شاید آج بھی محترمہ فریدہ حفیظ کے جسم میں ایک گولی موجود ہے۔ فوزیہ شاید پی ایف یو جے کی پہلی خاتون سیکرٹری جنرل بنیں مگر مختلف عہدوں پر رہنے کے بعد ۔ مردوں کی طرح خواتین صحافیوں کیلئے بھی اچھے ٹریڈ یونینسٹ ہونےکیلئے اچھا صحافی ہونا ضروری ہے۔ اس سلسلے میں خواتین صحافیوں کا اسلام آباد میں ہونے والا کنونشن اہمیت کا حامل ہے ایسے کنونشن ملک کے دیگر شہروں میں بھی ضروری ہیں۔ خواتین صحافیوں میںسے بعض کی صحافت پر تنقید ہو سکتی ہےلباس یا کردار پر نہیں۔ مگر یہاں بھی نشانہ اس کے جسم اور لباس کو بنایا جاتا ہے۔
غرضی کہ کل بھی عورت خاص نشانہ تھی اور آج بھی ہے۔ کل عاصمہ جہانگیر تو آج ایمان مزاری یا وہ جو اپنے باپ، بھائی یا شوہر کے گمشدہ یا لاپتہ ہونے پر احتجاج کرتی ہیں۔ کبھی 80 کی دہائی میں نواب پور کے علاقے میں سات معصوم خواتین کو وقت کے وڈیروں نے بے لباس کر کے ’مارچ‘ کروایا تھا سر بازار۔ آج بھی ایسے واقعات مختلف انداز میں ہوتے ہیں مگر آج جب عورتیں ان وڈیروں اور سرداروں کے خلاف آواز بلند کرتی ہیں تو جیل میں نظر بند کر دی جاتی ہیں۔ کل آمریت میں ویمن ایکشن فورم پر لاٹھی چارج ہوتا تھا آج ’عورت مارچ‘ کی با ت کرنے پر شیماکرمانی کو پولیس وین میں ڈال دیا جاتا ہے۔