• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

’’بنگ بنگ بونگ‘‘ ٹرمپ کے 50 پیغامات، دنیا بھر میں جگ ہنسائی، سخت تنقید

کراچی (نیوز ڈیسک)امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹرمپ ٹروتھ پرایک گھنٹےمیں 50پیغامات شیئر کردیئے، انہوں نے روایتی انداز میں ’’بنگ بنگ بونگ‘‘ بھی لکھا ، ٹرمپ نے سیاسی مخالفین کیخلاف سازشی نظریات گھڑے،سوشل میڈیا صارفین نے انہیں آڑے ہاتھوں لے لیا،دنیا بھر میں امریکی صدر کو جگ ہنسائی کا بھی سامنا رہا ، مشرق سے مغرب تک صدر ٹرمپ کو اپنے رویئے پر سخت تنقید کا سامنا۔ تفصیلات کے مطابق صدر ٹرمپ نے مصنوعی ذہانت سے بنائی کچھ تصاویر جاری کیںجن میں سیاسی مخالفین کیخلاف سازشی نظریات گھڑے،ایرانی جہازوں اور کشتیوں کو نشانہ بناتے دکھایا گیا ،جاری کی گئی ایک تصویر پر ڈالر پر ٹرمپ کی تصویر چھپی ہوئی ہے ،اوباما اور بائیڈن کو گندے جوہڑ میں نہاتے ہوئے دکھایا اور لکھا کہ ڈیموکریٹس کو سیوریج ہی پسند ہے ،ٹرمپ نے تصاویر کے ساتھ ذومعنی جملے بھی لکھے۔سوشل میڈیا صارفین نے ٹرمپ کو آڑے ہاتھوں لے لیا، ایک صارف کا کہنا تھا کہ ٹرمپ چین جانے سے قبل پاگل پن والی باتیں شیئر کررہے ہیں ۔ کچھ لوگ سمجھتے ہیں کہ ٹرمپ کو خبروں میں رہنے کا فن آتا ہے جبکہ بعض کا کہنا ہے کہ اس طرح کی مذاحیہ گفتگو ان کی عمر کا تقاضا ہے ۔واضح رہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے استعمال کئے گئے الفاظ "بنگ، بنگ، بونگ" (Bing, Bing, Bong) دراصل ان کا ایک مخصوص اندازِ بیان ہے، جسے وہ اکثر اپنی تقریروں میں کسی کام کے تیزی سے مکمل ہونےکے لئے استعمال کرتے ہیں۔ان الفاظ کا کوئی لغوی یا سیاسی مطلب نہیں ہے، بلکہ یہ صوتی اثرات (Sound Effects) کے طور پر بولے جاتے ہیں۔ ان کے استعمال کے چند اہم پہلو یہ ہیں:تیزی ظاہر کرنا: وہ اکثر یہ الفاظ تب استعمال کرتے ہیں جب وہ یہ بتانا چاہ رہے ہوں کہ کوئی پالیسی یا فیصلہ کتنی جلدی نافذ ہو جائے گا۔رمپ اپنی عوامی ریلیوں میں سامعین کو محظوظ کرنے کے لئے مزاحیہ انداز میں بھی اس طرح کی آوازیں نکالتے ہیں تاکہ اپنی بات کو زیادہ ڈرامائی بنا سکیں۔ماضی میں بھی سوشل میڈیا پر یہ الفاظ خاص طور پر اس وقت مشہور ہوئے جب انہوں نے ایک انٹرویو کے دوران اپنی مہم کی کامیابی اور میڈیا کوریج کی رفتار کو واضح کرنے کے لئے یہ آوازیں نکالی تھیں۔ان کے بولنے کےاس غیر رسمی اور صوتی طریقے کا مقصد کسی واقعے کی رفتار یا اثر کو بیان کرنا ہوتا ہے۔ان کا یہ انداز میں حکومت میں آنے سے پہلے بھی رہا ہے ۔ وہ ریسلنگ کے دلدادہ اور رنگ میں بھی اترتے رہے ہیں جہاں ریسلرز کی جانب سے اپنے اپنے روایتی انداز میں مختلف آوازیں اور انداز اپنانے کی روایت عام ہے۔

اہم خبریں سے مزید