میرے گھرمیں ایک ایریا ہے جہاں مختلف پودے اور درخت موجود ہیں۔مالی چاچا بڑی محبت سے انکی دیکھ بھال کرتاہے لیکن مجھے خود بھی کبھی کبھی بڑا شوق چڑھتاہے کہ میں بھی کوئی ایسی چیز لگاؤں جو میرے سامنے پروان چڑھے اور پھل دے۔ایک دفعہ کسی نے بتایا کہ ہری مرچوں کا پودا بڑی آسانی سے لگ جاتاہے اور چند ہفتوں میں بڑا بھی ہوجاتاہے۔میں نے طے کیا کہ میں مرچوں کا پودا لگاؤں گا لیکن مالی چاچا سے ڈرلگتا تھا، گھر میں کوئی پودا انکی مرضی کے بغیر نہیں لگ سکتا ۔بہت سخت گیر مالی ہیں۔ کس پودے کو کب پانی دینا ہے اور کب چھانٹی کرنی ہے یہ ان سے زیادہ کوئی نہیں جانتا۔ جس دن چھٹی کرتے ہیں پہلے سے آگاہ کردیتے ہیں کہ فلاں فلاں پودوں کو اتنے بجے لازمی پانی دینا ہے۔اگر گھرمیں کوئی ان کی بات بھول جائے تو اگلے دن چاچا کا بس نہیں چلتا کہ گھر پرمیزائل دے ماریں۔سومیں نے سوچا مرچوں کا پودا اُگ آئے گاتو چاچا سے کہہ دوں گا کہ شائد کسی نے مرچ پھینک دی ہوگی اور پودا خود ہی اُگ آیا ہے۔پھربھی میں نے انکی نظر بچا کر ہری مرچوں کے بیج ایک کیاری میں لگائے۔ کچھ دنوں بعد پودا بھی نکل آیا لیکن پتا نہیں کیوں مجھ سے کیا بے احتیاطی ہوئی کہ پوداپروان نہیں چڑھ سکا۔کبھی مجھے لگتا تھا کہ اس کو پانی زیادہ دینا چاہیے، کبھی محسوس ہوتا کہ نہیں اسے دھوپ زیادہ لگنی چاہئے۔تجربات کرتے کرتے ہی پودا زندگی کی بازی ہار گیا۔ میں دوبارہ یہ تجربہ کرنا چاہتا تھا ۔ایک خیال یہ بھی آیا کہ شائد مرچیں لگنے کا بھی کوئی خاص موسم ہوتاہے۔ ضروری تھا کہ مالی چاچا سے معلومات لی جائیں۔ایک دن میں نے ان سے پوچھا کہ مرچیں کب لگتی ہیں؟ انہوں نے سرپر خارش کی اور منہ بنا کر بولے ’جب کوئی کامیابی میں آپ سے آگے نکل جائے‘‘۔
٭ ٭ ٭
میں جب بھی اے آئی کے حوالے سے کسی تقریب میں جاتاہوں یہی گفتگوہورہی ہوتی ہے کہ اے آئی کے آنے سے عنقریب شاعری ختم ہوجائے گی، افسانے اے آئی لکھاکرے گی، تنقیدی مضامین بھی قلم کی گرفت سے نکل جائیں گے۔یوں لگتاہے خصوصا ً ہمارے شاعر ادیب اے آئی سے زیادہ خوفزدہ ہیں۔ ایسی تقاریب میں اے آئی کو ایک دشمن کی طرح ٹریٹ کیا جاتاہے اور ہر کوئی اے آئی ختم کرنے کے درپے نظر آتا ہے۔کبھی کبھی لگتاہے اگر اے آئی ایسی کسی تقریب میں بنفس نفیس آگئی تو یاردوستوں نے جوتے مارمار کر اس کی درگت بنا دینی ہے۔ ٹیکنالوجی سے ہماری دشمنی کوئی نئی بات نہیں۔ گوگل کی آمد پر بھی انہی خدشات کا اظہار کیا گیا تھا بلکہ جب کمپیوٹر آیا تھا تب بھی یہی رولا پڑا تھا۔کل ایک تقریب میں جانے کا موقع ملا جہاں ہر تقریر میں یہی ثابت کیا گیا کہ اے آئی ایٹم بم سے بھی بڑا خطرہ ہے اور اس سے لاکھوں لوگ بے روزگار ہوجائیں گے۔کچھ نے اے آئی کی بونگیاں بیان فرمائیں، کچھ نے خوفناکیاں۔پوری تقریب میں کسی نے بھی یہ نہیں کہا کہ یہ ٹیکنالوجی کتنی فائدہ مند ہے۔مجھے یقین ہے حاضرین اور مقررین سب اے آئی سے حسب توفیق مستفید ہوتے رہتے ہوں گے لیکن انکی باتیں سن کر لگ رہا تھا جیسے اے آئی اُنکے سر پر تلوار لے کر کھڑی ہے۔ہم چونکہ خود کسی ٹیکنالوجی کے موجد نہیں اس لیے ہمیں لگتاہے کہ دنیا کو بھی بھنگ پی کے سوجانا چاہیے اور کوئی نئی چیز ایجاد نہیں کرنی چاہیے۔ بس جو جیسے چل رہا ہے چلتا رہنا چاہیے۔ لیکن ایسا ہوتا نہیں۔ روشن دماغ لوگ انسانی زندگی کو آسان بنانے کیلئے نت نئی ایجادات کے بارے میں سوچتے ہیں اور کر گزرتے ہیں۔ ہم یہی سوچتے رہ جاتے ہیں کہ کہیں نئی ایجاد کی بدولت ہماری نوکری تو نہیں چلی جائے گی۔ ہربندہ موبائل کے نقصانات بھی بیان کرتا ہے اور ساتھ ساتھ وڈیوز بھی اسکرول کرتا جاتاہے۔تبدیلی کوقبول کرنا بھی تبدیلی کی نشانی ہوتی ہے۔یہ ٹھیک ہے کہ ایک وقت تھا جب بجلی نہیں تھی، کمپیوٹر نہیں تھا، موبائل نہیں تھا،پنکھے نہیں تھے، واشنگ مشین نہیں تھی.....لیکن کیا یہ دور دوبارہ لایا جاسکتا ہے اور اس میں زندہ رہا جاسکتاہے؟ آپ ایک دو دن کیلئے کسی ایسے مقام پر سیرو تفریح کیلئے جائیں جہاں یہ چیزیں نہ ہوں، دو دن بعد ہی کڑاکے نہ نکل جائیں تو بے شک میرا نام بدل کر آرنلڈ رکھ دیجئے گا۔
٭ ٭ ٭
سفرنامہ نگاری ایک نہایت دلچسپ صنف ادب ہے۔مصنف اگر لکھنے کے فن سے آشنا ہو تو سادہ سے سفرنامے کو بھی ہنستی مسکراتی معلومات اور ادب سے بھرپور تحریر کا روپ دے سکتاہے۔ طارق محمودمرزا بھی ایسے ہی سفرنامہ نگار ہیں۔یہ ان کی ساتویں کتاب ہے اور میرا دل چاہتا ہے طارق صاحب کا نام ‘طارق محمودسفرنامہ’ رکھ دوں۔ آپ آسٹریلیا میں رہائش پذیر ہیں لیکن جب بھی پاکستان آتے ہیں احباب انکے ساتھ محفل کا اہتمام کرتے ہیں۔اس بار وہ اپنی نئی کتاب’ تین دیس ایک دل’ کے ساتھ تشریف لائے۔انکی آمد سے پہلے ہی ان کی کتاب مجھ تک پہنچ چکی تھی اور میں منتظر تھا کہ اِس نئی کتاب میں طارق صاحب کہاں کامنظر دکھاتے ہیں۔ پھر پڑھا تو پتا چلا کہ اس بار طارق صاحب نے ترکی، ملائشیا اورانڈونیشیا کو اپنے انداز سے دریافت کیا ہے ۔موجودہ دور میں ہر ملک کی وڈیوز یوٹیوب پر موجود ہیں، تفصیلات مل جاتی ہیں لیکن ایک یوٹیوبرز اور ایک ادیب کے سفرنامے میں زمین آسمان کا فرق ہے۔طارق مرزا صاحب کے سفرناموں میں قدم قدم پر حیرت سے واسطہ پڑتاہے۔ آپ بے شک اِن تین ممالک میں باربارجاچکے ہوں لیکن طارق صاحب کی کتاب پڑھ کرایسا لگے گا گویا یہ ممالک کچھ اوربھی پراسرار چیزیں رکھتے ہیں جنہیں ہم اپنے سفر کے دوران نہیں دیکھ پائے۔سیاح اور سفرنامہ نگار میں یہی فرق ہوتاہے کہ سیاح انجوائے کرتاہے، سفرنامہ نگار انجوائے کراتاہے۔آپ بھی بغیر ویزے کے اِن ممالک کی سیر کرنا چاہتے ہیں تو کتاب ضرور خریدیں اور موبائل آف کرکے پڑھیں، پھر دیکھیں کیسالطف آتاہے۔