کچھ لوگوں کیلئے شاید یہ اچنبھے کی بات ہو کہ انڈین آئین کے خالق بھیم راؤ رام جی امبیڈکر 1946 کی برطانوی ہند کی دستور ساز اسمبلی ( کونسل آف اسٹیٹس ) میں مسلم لیگ کے نمائندے کے طور پر شامل ہوئے تھے کیوں کہ وہ بمبئی میں اپنی نشست کانگریسی امیدوار کے مقابلے میں ہار گئے تھے اور اسی وجہ سے، جب پاکستان وجود میں آ گیا اوران کی نشست مشرقی بنگال سے تھی جو پاکستان بن گیا تھا تو ان کو دوبارہ سے کانگریس کی جانب سے منتخب کروانا پڑا تھا مگر آج بنگال کی صورت حال یہ ہے کہ وہاں کی تازہ تازہ کامیاب سیاسی جماعت بی جے پی میں ایک بھی رکن اسمبلی مسلمان نہیں ہے حالانکہ مغربی بنگال کی مجموعی آبادی میںپچيس فیصد مسلمان ہیں ۔ انڈین بنگال یا مغربی بنگال کے انتخابی نتائج کا ذکر اور اس کے اثرات کا مطالعہ کرنا اس لیے بھی ضروری ہے کہ آج بھی انڈیا میں پیش آئے واقعات کا پاکستا ن پر ، اس کے عوام کی نفسیات پر اثر ضرور پڑتا ہے اور اگر مسلمانوں کی بات ہو تو اس کے اثرات مزید شدید ہوجاتے ہیں ۔ دوئم یہ انسانی مسئلہ بھی ہے کیوں کہ انڈیا میں متنازعہ سٹیزن شپ ایکٹ کے وقت سے ہی یہ خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اس سے سب سے زیادہ متاثر بنگال اور آسام ہونگے اور تازہ ترین انتخابی نتائج کے بعد تو اس کا خوف بنگلہ دیش میں بہت بڑھ گیا ہے کہ لاکھوں افراد کو دھکیلنے کی کوشش کی جا سکتی ہے جو بنگلہ دیش کی سیاست و معاشرت کیلئے بہت بڑا چیلنج ہوگا اور یہ روہنگیا کے مسئلہ سے بھی بڑا درد سر ثابت ہوگا ۔ اصل مسئلہ سمجھنا یہ ہے کہ ایک ایسی جماعت جس کا پچيس فیصد آبادی سے کوئی امیدوار نہیں ، وہ علانیہ مذہبی تعصبات رکھتی ہے آخر کیسے پہلی بار کامیاب ہو گئی ؟ انیس سو سنتالیس کے بعد مغربی بنگالی مسلمانوں کے مسائل میں سر فہرست خوف کی سیاست تھی ، ہندو اکثریتی ریاست کا خوف ، اپنی بقا کیلئے اور حب الوطنی ثابت کرنے کیلئے کانگریس سے بہتر انکے پاس کوئی انتخاب نہیں تھا ۔ لہٰذا وہ کانگریسی جھنڈا تھام کر انتخابات میں حصہ لیتے رہے مگر ان کو جلد ہی احساس ہو گیا تھا کہ ان کے پاس اس جھنڈے کا بس ڈنڈا ہی ہے جو ان پر ہی چلتا ہے مگر 1977 تک کوئی دوسرا آپشن نہ ہونے کے سبب وہ کانگریسی ہی رہے مگر اس دوران کانگریس نے ان کے مسائل کو حل کرنے یا اپنے ساتھ جوڑے رکھنے کیلئے کوئی عملی اقدام نہ کیا ۔پھر 1977 میں وہ لیفٹ کی سیاست سے وابستہ ہو گئے مگر سچر کمیٹی کی رپورٹ کے مطابق ان کے حصے میں بس نعرہ بازی ہی آئی اور پچيس فیصد رکھنے والے لوگ سرکاری ملازمتوں میںمحض تین فیصد سے کچھ زیادہ نمائندگی رکھتےہیں ۔ اس صورتحال نے 2011 میں ترنمول کانگریس کو امیدوں کا مرکز بنا دیا مگر گزشتہ پندرہ سال میں ترنمول کانگریس نے بھی سوائے ڈر کی بنیاد پر ووٹ لینے کے مسلمانوں کیلئے اور کچھ نہیں کیا لہٰذا مسلمانوں کے پاس ان سے جڑے رہنے کا جواز ختم ہوتا چلا گیا ۔
خیال رہے کہ مسلمان بالکل ہی ترنمول کانگریس سے جدا نہیںہوئے مگر ان کے انتہائی قابل لحاظ حصے نے ضرور وابستگی ترک کردی۔مغربی بنگال میں اس صورت حال سےفائدہ اٹھانے کی کوشش میں انڈین نیشنل کانگریس سرفہرست ہے ۔ شاید یہ کچھ لوگوںکیلئے حیرت کی بات ہو مگر حقیقت یہی ہے کہ کانگریس کی حکمت عملی یہی تھی کہ وہ کسی طرح سے ترنمول کانگریس کی جگہ بی جے پی کو کامیاب کرادے تا کہ ترنمول کانگریس کے زوال پذیر ہونے سے کانگریس کو دوبارہ ادھر قدم جمانے کا موقع میسر آ جائے اور اس مقصد کو حاصل کرنے کی غرض سے کانگریس نے کم و بیش ہر حلقے میں امیدوار میدان میں اتار دیے ۔ اسکے ساتھ ساتھ مسلمانوں میں کچھ عاقبت نااندیش سیاست دانوں نے بھی خالص مذہب کی بنیاد پر انتخابی مہم چلائی جیسا کہ اسد الدین اویسی ، ہمایوں کبیر وغیرہ ، اور اس طرح سے وہ مسلمان ووٹوں میں تقسیم کا باعث بنے ۔چنانچہ ان ستائیس حلقوں میں بھی بی جے پی جیت گئی جہاں مسلمان ووٹرز کی تعداد تیس فیصد سے زائد تھی ۔ مثلاً بيلدانگا میں مسلم ووٹرز تریسٹھ فیصد ہیں ، ماضی میں بی جے پی کو وہاں سے اٹھائیس فیصد ووٹ ملے تھے جو اب بتیس فیصد ہو گئے مگر ماضی میں ترنمول کانگریس کو وہاں سے پچپن فیصد مگر اب چھبیس فیصد ووٹ ملے ہمایوں کبیر کی عام جنتا اننيان پارٹی کو بیس فیصد جبکہ کانگریس ستائیس فیصد ووٹ حاصل کر سکی ۔ اسی طرح سے جنگی پور جہاں مسلمان چھپن فیصد ہیں وہاں گزشتہ انتخابات میں بی جے پی کو بائیس فیصد مگر اب بیاليس فیصد ووٹ ملے ترنمول کانگریس جسے گزشتہ بار68فیصد ووٹ ملے تھے اس بار سینتیس فیصد پر آگئی اور کانگریس کو پندرہ فیصد ووٹ ملے ، کاندی میں مسلمان اکیاون فیصد ہیں پر بی جے پی نے چھتیس فیصد ترنمول کانگریس نے اکتيس فیصد ، کانگریس پندرہ فیصد اور اسد الدین اویسی کی اے آئی ایم آئی ایم نے گیارہ فیصد ووٹ حاصل کئے ۔ باقی حلقوں کی کہانی بھی کچھ اسی طرح کی ہے ۔ خیال رہے کہ ان انتخابات میں ٹرن آؤٹ کوئی بانوے فیصد رہا جو آزادی کے بعد مغربی بنگال کے کسی بھی انتخابات میں سب سے زیادہ ہے۔ وہاں پر بی جے پی کے ووٹرز متحد ہو گئے جبکہ انکے مخالف بکھر گئے ۔ مقابلہ بی جے پی اور تین چار بکھری جماعتوں میں تھا۔ اس ساری صورتحال میں سب سے تشویش ناک پہلو یہ ہے کہ بی جے پی اگلے بھارتی قومی انتخابات سے قبل اپنی اس لہر کو قائم رکھنے کیلئے بنگالی مسلمانوں پر بالخصوص اور بالعموم پورے انڈیا کے مسلمانوں کے حوالے سے تشدد کا منظم سلسلہ شروع کر سکتی ہے جسکے اثرات سے پورا خطہ متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکے گا۔