پاکستان تحریکِ انصاف کے رہنما سلمان اکرم راجہ نے دعویٰ کیا ہے کہ بانئ پی ٹی آئی پر تشدد کیا جا رہا ہے اور ان کی ایک آنکھ ضائع ہو چکی ہے۔
اسلام آباد میں سپریم کورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو میں انہوں نے کہا کہ آج تمام عدالتی دروازے بند نظر آتے ہیں، بانئ پی ٹی آئی ایک ہزار دن سے جیل میں ہیں، بشریٰ بی بی کے خلاف جھوٹے مقدمات درج کیے گئے ہیں، توشہ خانہ سمیت تمام مقدمات من گھڑت ہیں، یہ مقدمات سرکاری گواہوں کے بیانات کی بنیاد پر بنائے گئے۔
ان کا کہنا ہے کہ ہر قیدی کو بنیادی آئینی حقوق حاصل ہیں، ملاقاتوں اور وکالت ناموں پر دستخط کرانے پر پابندی عائد ہے، بانئ پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کی صحت کو سنگین خطرات لاحق ہیں، اس کے باوجود بہنوں کی ملاقاتیں بھی بند ہیں، ملاقاتوں سے متعلق عدالتی فیصلوں پر عمل درآمد نہیں کیا جا رہا، صرف من پسند افراد کو ملاقات کی اجازت دی جاتی ہے۔
سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ سپریم کورٹ میں درخواستیں دائر کیں مگر کوئی شنوائی نہیں ہو رہی، ایک دوسرے سیاسی قیدی کو جیل میں تمام سہولتیں میسر تھیں، ہم تمام قانونی طریقے آزما چکے ہیں، اب ہم اپنا مقدمہ پاکستانی عوام کے سامنے رکھ رہے ہیں، انگریز دور میں بھی لوگ خطوط اور کتابیں لکھتے تھے، تہاڑ جیل سے بھی قیدیوں کی آوازیں ہم تک پہنچتی رہی ہیں، کسی بھی دور میں اتنی پابندیاں نہیں تھیں جتنی آج ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ملک کو استحکام چاہیے، معیشت تباہ ہو چکی، خیبر پختون خوا خون میں نہایا ہوا ہے، ہر صوبے کو تباہ کر دیا گیا ہے، سڑکوں پر آنے کے علاوہ ہمارے پاس کوئی راستہ نہیں بچا، عدلیہ کو ختم کر دیا گیا ہے، ججز کو سزا دینے کے لیے انہیں دوسرے صوبوں میں بھیج دیا گیا ہے۔