ویدک علمِ نجوم کی رُو سے پندرہ مئی سے پانچ جون تک کا دورانیہ عالمی سیاست، خصوصاً مشرقِ وسطیٰ، جنوبی ایشیا اور امریکہ ایران کشیدگی کے حوالے سے نہایت حساس اور تبدیلیوں سے بھرپور سمجھا جا رہا ہے، گزشتہ دنوں میری ستاروں کی چال پر نظر رکھنے والے ویدک جوتشیوں سے ایک تفصیلی نشست ہوئی ،انکا کہنا تھا کہ آنیوالے دِنوں میں ستاروں کی نقل و حرکت بالخصوص عطارد، مریخ، پلوٹواور یورینس عالمی سطح پر سفارتی سرگرمیوں، خفیہ مذاکرات، ریاستی پالیسیوں میں اچانک تبدیلی اور طاقت کی کشمکش پر اثرانداز ہوسکتے ہیں، نجومیوں نے فی الحال اپنی توجہ کا محور عطارد اور برجِ جوزا کو بتایا جسے علمِ نجوم میں سفارتکاری،میڈیا،انٹیلی جنس،بیانیہ سازی اور مذاکرات کی علامت سمجھا جاتا ہے، جوتشیوں کی گفتگو سے یہی اندازہ ہوتا ہے کہ ماہِ مئی کے دوسرے نصف میں عطارد کی جوزا میں آمد سےعالمی سطح پر پس پردہ روابط، خفیہ سفارتی ڈائیلاگ ، بیک ڈور ڈپلومیسی اورثالثی کیلئے سہولت کاری کی رفتارمیں تیزی متوقع ہے۔میں اپنے گزشتہ کالموں میں تفصیلاََ تذکرہ کرچکا ہوں کہ ویدک علم نجوم کے مطابق دس اپریل سے اکیس اپریل تک کا دورانیہ ایران امریکہ امن معاہدےکیلئے مناسب ترین تھاجو بدقسمتی سے گنوایا جا چکا ہے، جب گزشتہ ماہ اپریل میں پاکستان کی میزبانی میں امریکہ اور ایران کے مابین تاریخی اسلام آباد ٹاکس کا اہتمام ہوا تب بھی میں نے ویدک علم نجوم کے تناظر میں اپنے خیالات کا اظہار کیا تھا جنہیں وقت نے حرف بحرف درست ثابت کیا۔بے شک غیب کا علم اوپر والے مالک کو ہے، تاہم ستاروں کی چال دھرتی پر بسنے والوں کو خبردار ضرور کرتی ہے کہ کونسی گھڑی شُبھ ہے اور کس موقع پر کونسا فیصلہ پوری انسانیت پر اثرانداز ہوسکتا ہے۔ اب بھی مشرقِ وسطیٰ کے حوالے سے نجومی متواتر یہ پیش گوئی کررہے ہیں کہ دنیا کے نقشے پرموجودیہ لہولہان خطہ آئندہ ماہ جون کے آغاز تک غیر یقینی صورتحال اور اسٹریٹجک دباؤ کا شکار رہ سکتا ہے، امریکہ اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی کو سیارہ مریخ کی جارحانہ، جنگجوانہ توانائی سے جوڑا جا رہا ہے جو عسکری تیاری، سخت بیانات اور طاقت کے مظاہرے کی علامت ہے،تاہم یہی سیارتی اثرات بالآخر بڑی طاقتوں کو مذاکرات کی طرف بھی دھکیل سکتے ہیں کیونکہ طویل جنگی صورتحال اب پوری دنیا کیلئے اقتصادی طور پر ناقابلِ برداشت بنتی جا رہی ہے۔ مریخ کے اثرات ایران میں اندرونی طاقت کی کشمکش پر بھی پڑسکتے ہیں، ایران ایک طرف اپنی مزاحمتی پوزیشن برقرار رکھنے کی کوشش کرے گا جبکہ دوسری جانب سفارتی راستوں کو بھی فعال رکھنے کی کوشش کرے گا، ایران کیلئے اگلےپندرہ دن پر محیط دورانیہ دباؤ اور مواقع دونوں لیکر آئے گا۔جوتشیوں کے مطابق پندرہ مئی سے پانچ جون تک کا عرصہ خلیجی سیاست، سعودی عرب یو اے ای تعلقات اور جنوبی ایشیابشمول پاکستان اور بھارت کیلئے بھی نہایت اہم اور حساس ہے، ستاروں کی چال اس دوران ہمارے خطے میں طاقت کے نئے توازن، خفیہ سفارتکاری، عالمی دباؤ اور علاقائی اتحادوں میں تبدیلیوں کی طرف اشارہ کر رہی ہے،خاص طور پر متحدہ عرب امارات آنے والے وقت میں خطے کی سیاست میں غیر معمولی کردار ادا کرتا دکھائی دے رہا ہے۔ اگرایک طرف اماراتی حکومت کے اسرائیل کے ساتھ بڑھتے ہوئے تعلقات نے تہران کو یواےای کے خلاف فضائی حملوں پر اُکسایا ہےتو دوسری طرف امارات کے اپنے ماضی کے قریبی اتحادی سعودی عرب کےمابین دوطرفہ تعلقات میں بھی واضح دراڑیں سامنے آ رہی ہیں،خاص طور پر اوپیک سے علیحدگی کا اعلان خلیجی عرب اتحاد میں ایک بہت بڑا دھچکا تصور کیا جا رہا ہے، یہ پیچیدہ صورتحال صرف تیل کی آزادانہ فروخت تک محدود نہیں رہے گی بلکہ مشرق وسطیٰ میں طاقت کے نئے توازن کی تشکیل کا پیش خیمہ ثابت ہوسکتی ہے۔پاکستان کے بارے میں ویدک جوتشیوں کا کہنا ہے کہ برجِ جوزا کی علامتی خصوصیات مذاکرات، ثالثی، رابطہ کاری اور سفارتی لچک سے منسلک ہیں جو مئی اور جون کے دوران پاکستان کی امریکہ اور ایران کو قریب لانے کیلئےعالمی منظرنامہ پر سفارتی پوزیشن کو مزید مضبوط کرتی ہیں۔ ایک طرف پاکستان کے سعودی عرب کے ساتھ دیرینہ دفاعی اور معاشی تعلقات مستحکم ہیں جبکہ دوسری جانب ایران ہمارا قریبی ہمسایہ ملک ہے،اسی طرح پاکستانیوں کا یو اے ای کی ترقی و تعمیر میں کلیدی کردار ہے، تاہم ستاروں کی چال باربار یہی تلقین کررہی ہے کہ اسلام آباد کو انتہائی محتاط، متوازن اور غیر جانبدار حکمتِ عملی اپنانا ہوگی،اگر پاکستان امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کی میزبانی یا ثالثی میںکامیاب ہوتاہے تو نہ صرف عالمی سطح پرہماری سفارتی ساکھ مضبوط ہوگی بلکہ جنگ بندی کے بعد تشکیل پانے والے نئے اقتصادی و دفاعی اتحادوں میں بھی پاکستان کی شمولیت ہماری معیشت کی زبوں حالی کے خاتمے کا باعث بن سکتی ہے، تاہم فی الحال پاکستان کو جلد بازی، جذباتی ردِعمل یا حد سے زیادہ اعتماد سے بچنا ہوگا، اس حوالے سے میں پہلے ہی خبردار کرچکا ہوں کہ پاکستان کی بڑھتی ہوئی سفارتی اہمیت بعض پاکستان مخالف عناصر کو متحرک کر سکتی ہے،یہی وجہ ہے کہ غیرملکی میڈیا پر پاکستان کے خلاف جاری میڈیا وار، سفارتی دباؤ اور پروپیگنڈا پر کڑی نظر رکھنے کی ضرورت ہے۔ مودی سرکارکی طرف سے آنیوالے دنوں میں اورزیادہ جارحانہ انداز، قوم پرستانہ بیانیے اور پاکستان مخالف رویے میں ممکنہ اضافے کا خدشہ ہے، یہ ایک حقیقت ہے کہ بھارت سفارتی و عسکری محاذ پرپاکستان سے بری طرح شکست کھا چکا ہے،ویدک جوتشی پاکستان مخالف جارحانہ کارروائیوں کے ممکنہ اظہار کو اس فلکیاتی صورتحال سے تشبیہ دے رہے ہیں کہ طلوعِ آفتاب سے کچھ دیر قبل اندھیرے کے علمبردار کچھ ستارےگھبرا کر اپنی روشنی تیز کر دیتے ہیں لیکن وہ سُوریا(سورج) کو طلوع ہونےسے نہیں روک سکتے، جب سورج اپنی کرنیں بکھیرتا ہے تو تاریکی میں ڈوبی دھرتی پر روشنی چھا جاتی ہے، اندھیرےمیں راج کرنے والی منفی قوتیں بھاگ جاتی ہیں اور ہر طرف زندگی کی چہل پہل شروع ہوجاتی ہے، مجھے جوتشیوں کی اس پیش گوئی پر پورا یقین ہے کہ آنے والے دنوں کا سورج روزانہ پاکستان کیلئے بین الاقوامی سطح پر اہم سفارتی و اقتصادی مواقع لیکر طلوع ہوگا۔حالیہ ایران کشیدگی کے تناظر میں مشرق وسطیٰ میں آگے کیا ہونے جارہا ہے؟ اس سوال کا جواب پانچ جون سے قبل رونماء ہونے والے واقعات پر منحصر ہے ، یہ نازک دورانیہ ہمارے خطے کے ہر ملک سے پھونک پھونک کر قدم اُٹھانے کا تقاضا کرتا ہے بصورت دیگر جنگ و جدل کے سیارے مریخ کے خُونیں اثرات سے بچا نہ جاسکے گا۔