روس یوکرین جنگ کے دوران متعدد جنگی علاقوں میں خوراک کی فراہمی سنگین بحران اختیار کر گئی ہے جہاں دونوں جانب کے فوجی کئی کئی دن بغیر مناسب غذا کے گزارنے پر مجبور ہیں۔
سوشل میڈیا پر سامنے آنے والی تصاویر میں یوکرینی فوجیوں کو انتہائی کمزور اور لاغر حالت میں دکھایا گیا ہے۔
عرب میڈیا کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ یوکرینی فوج کے ایک یونٹ کا اہلکار 17 دن تک خوراک اور پانی کی مناسب فراہمی سے محروم رہا، تباہ شدہ پلوں اور مسلسل بمباری کے باعث رسد پہنچانا ممکن نہیں ہے۔
ایک اور فوجی کی اہلیہ نے بتایا کہ سپاہی بارش کا پانی پینے اور بھوک سے بے ہوش ہونے پر مجبور ہیں۔
31 سالہ زخمی یوکرینی فوجی اولیگزینڈر نے الجزیرہ کو بتایا ہے کہ اگلے مورچوں پر کئی ہفتوں تک صرف چاکلیٹ، دلیہ اور ایک بوتل پانی پر گزارا کرنا پڑتا ہے، اہلکار کے مطابق ڈرون حملوں کے باعث روایتی سپلائی نظام تقریباً ناکارہ ہو چکا ہے اور اب خوراک، گولہ بارود اور ادویات کی ترسیل زیادہ تر ڈرونز کے ذریعے کی جاتی ہے۔
رپورٹ کے مطابق ڈرونز نے جنگی علاقوں کو الگ تھلگ ’جزیرے‘ بنا دیا ہے جہاں فوجیوں تک رسائی انتہائی خطرناک ہو چکی ہے۔
یوکرینی حکام نے خوراک کی کمی کے معاملے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں جبکہ متعلقہ بریگیڈ کے کمانڈر کو عہدے سے ہٹا دیا گیا ہے۔
دوسری جانب روسی فوجیوں کو بھی شدید مشکلات کا سامنا ہے، بعض روسی اہلکاروں کو محدود پانی اور چند چاکلیٹ بارز دے کر خطرناک مشنز پر بھیجا جاتا ہے۔
ایک تاجک نژاد روسی فوجی نے انکشاف کیا ہے کہ وہ تقریباً 1 ماہ تک ویران گاؤں میں سوکھی غذا کے ٹکڑوں اور کچی مکرونی پر زندہ رہا۔
الجزیرہ نے یوکرینی ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ دریائے دنیپرو کے جزائر پر موجود روسی فوجیوں کو خوراک اور اسلحے کی شدید قلت کا سامنا ہے۔
برطانوی اخبار کی ایک رپورٹ میں بھی یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ بعض روسی فوجیوں میں بھوک کے باعث آدم خوری جیسے واقعات کی اطلاعات سامنے آئی ہیں تاہم ان اطلاعات کی آزادانہ تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔