ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ ایران کے مسئلے کا کوئی فوجی حل موجود نہیں۔
برکس وزرائے خارجہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے عباس عراقچی نے کہا کہ گزشتہ ایک سال سے کم عرصے میں ایران کو امریکا اور اسرائیل کی جانب سے دو وحشیانہ اور غیر قانونی جارحیتوں کا سامنا کرنا پڑا۔
عباس عراقچی نے کہا کہ ایران دیگر آزاد ممالک کی طرح غیر قانونی توسیع پسندی اور جنگی جنون کا شکار بنا ہے، یہ ایسے بدصورت مظاہر ہیں جن کی آج کی دنیا میں کوئی جگہ نہیں۔
انہوں نے کہا کہ وہ ایسے عوام کی نمائندگی کر رہے ہیں جنہوں نے شدید بمباری کے باوجود ثابت قدمی دکھائی، میناب کی ماؤں نے اپنے بچوں کے غم کے باوجود ہمت نہیں ہاری جبکہ ایرانی نوجوان جنگ کے سائے کو اپنے روشن مستقبل پر حاوی نہیں ہونے دیں گے۔
ایرانی وزیرِ خارجہ نے کہا کہ دنیا پر واضح ہو جانا چاہیے کہ ایران ناقابلِ شکست ہے اور ہر دباؤ کے بعد مزید مضبوط اور متحد ہو کر ابھرتا ہے، ایران اپنی آزادی اور وطن کے دفاع کے لیے پوری طاقت سے لڑنے کے لیے تیار ہے لیکن سفارتکاری کے تحفظ اور فروغ کے لیے بھی مکمل آمادہ ہے۔
عباس عراقچی کے مطابق ایرانی قوم کسی دباؤ یا دھمکی کے سامنے نہیں جھکتی تاہم احترام کا جواب احترام سے دیتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایران کی مسلح افواج بیرونی جارحیت کا تباہ کن جواب دینے کی صلاحیت رکھتی ہیں لیکن ایرانی قوم امن پسند ہے اور جنگ نہیں چاہتی۔
انہوں نے برکس ممالک اور عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ امریکا اور اسرائیل کی جانب سے بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزیوں اور ایران کے خلاف غیر قانونی جارحیت کی کھل کر مذمت کریں۔
ایرانی وزیرِ خارجہ نے ساتھ ہی عالمی اداروں کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال ہونے سے روکنے پر بھی زور دیا۔
عباس عراقچی نے کہا کہ برکس عالمی نظام کی تشکیل میں اہم ستون بن سکتا ہے، ایسا نظام جہاں طاقت کبھی حق کی جگہ نہ لے، جو قومیں اپنی عزت اور آزادی کے لیے ڈٹ جاتی ہیں وہ مشکلات برداشت کر سکتی ہیں مگر کبھی شکست نہیں کھاتیں۔
ان کا کہنا تھا کہ وقت آ گیا ہے کہ امریکا کی غنڈہ گردی کو تاریخ کے کوڑے دان میں پھینک دیا جائے، گلوبل ساؤتھ کو مغرب کے برتری کے جھوٹے احساس کو چکنا چور کرنا ہوگا۔
عباس عراقچی نے کہا کہ ایران کے نقطۂ نظر سے آبنائے ہرمز تمام تجارتی جہازوں کے لیے کھلی ہے لیکن جہازوں کو ایرانی بحری افواج کے ساتھ تعاون کرنا ہوگا۔