• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

امریکا چین تجارتی مذاکرات: بڑی پیشرفت کی امید کم، تعلقات میں صرف عارضی نرمی متوقع

---فوٹو بشکریہ بین الاقوامی میڈیا
---فوٹو بشکریہ بین الاقوامی میڈیا 

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور چینی صدر شی جن پنگ کے درمیان اہم ملاقات کے باوجود کسی بڑے تجارتی معاہدے کی امید کم  ہے۔

ماہرین کی جانب سے دونوں ممالک کے درمیان جاری تجارتی کشیدگی میں صرف عارضی نرمی کی توقع کی جا رہی ہے۔

عرب میڈیا کی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ٹرمپ نے چین پر زور دیا ہے کہ وہ اپنی معیشت میں امریکی کمپنیوں کے لیے مزید جگہ بنائے، اس مقصد کے لیے اُنہوں نے معروف کاروباری شخصیات کو بھی اپنے وفد میں شامل کیا جن میں ایلون مسک سرِ فہرست ہیں۔

امریکی حکام کے مطابق چین نے امریکی تیل خریدنے اور بوئنگ کے 200 طیارے لینے پر آمادگی ظاہر کی ہے جبکہ دونوں ممالک سرمایہ کاری کے لیے مشترکہ بورڈ بنانے پر بھی غور کر رہے ہیں۔

عرب میڈیا کی رپورٹ میں شامل ماہرین کی رائے کے مطابق چین اب پہلے کے مقابلے میں امریکی دباؤ کم محسوس کرتا ہے کیونکہ اس کی مقامی صنعتیں مضبوط ہو چکی ہیں، اسی وجہ سے بیجنگ صرف محدود اور علامتی رعایتیں دینے پر تیار دکھائی دیتا ہے۔

بین الاقوامی میڈیا کے اعداد و شمار کے مطابق امریکی محصولات چینی اشیاء پر بڑھ کر 47.5 فیصد تک پہنچ چکے ہیں۔

چین نے امریکی مصنوعات پر 31.9 فیصد ٹیرف عائد کر رکھا ہے، دونوں ممالک کے درمیان تجارت بھی کم ہو کر 415 ارب ڈالرز رہ گئی ہے۔

عرب میڈیا کی رپورٹ کے مطابق امریکا اور چین کے درمیان اعتماد کی شدید کمی برقرار ہے، اس لیے موجودہ مذاکرات سے دونوں ممالک کے تعلقات میں مکمل بہتری کے بجائے صرف وقتی استحکام کی توقع کی جا رہی ہے۔

بین الاقوامی خبریں سے مزید