امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ چینی صدر شی جن پنگ نے امریکا کو ’زوال پزیر ملک‘ قرار دے کر دراصل سابق صدر جو بائیڈن کے دورِ حکومت پر تنقید کی ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ بائیڈن کی پالیسیوں نے امریکا کو شدید نقصان پہنچایا تاہم میری حکومت کے 16 ماہ میں امریکا نے دوبارہ عالمی طاقت کے طور پر تیزی سے ترقی کی ہے۔
ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ٹروتھ سوشل‘ پر جاری کیے گئے بیان میں کہا ہے کہ شی جن پنگ نے امریکا کی تنزلی کا ذکر ’انتہائی شائستگی‘ سے کیا ہے۔
صدر ٹرمپ کے مطابق چینی صدر دراصل بائیڈن انتظامیہ کے 4 برسوں میں ہونے والے نقصان کی جانب اشارہ کر رہے تھے، کھلی سرحدوں، مہنگے ٹیکس، جرائم، متنازع سماجی پالیسیوں اور خراب تجارتی معاہدوں نے امریکا کو کمزور کیا۔
اُنہوں نے دعویٰ کیا کہ اب اسٹاک مارکیٹ، روزگار اور بیرونی سرمایہ کاری میں غیر معمولی بہتری آئی ہے۔
دوسری جانب چین نے امریکا کے ساتھ تعلقات کے حوالے سے محتاط مؤقف اختیار کیا ہوا ہے۔
چینی صدر شی جن پنگ نے خبردار کیا ہے کہ تائیوان کے معاملے پر اختلافات اگر درست انداز میں نہ سنبھالے گئے تو دونوں طاقتوں کے درمیان کشیدگی بڑھ سکتی ہے۔
بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق ایران، تائیوان اور منشیات کی اسمگلنگ جیسے معاملات پر امریکا اور چین کے درمیان اب بھی بڑے اختلافات موجود ہیں تاہم دونوں رہنماؤں نے تعلقات بہتر بنانے کی خواہش ظاہر کی ہے۔