• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ایران کا برکس ممالک سے امریکی و اسرائیلی جنگی جارحیت کی مذمت کا مطالبہ

---فائل فوٹو
---فائل فوٹو 

ایران نے برکس ممالک سے امریکا اور اسرائیل کی مشرقِ وسطیٰ میں جنگی جارحیت اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی پر کُھل کر مذمت کرنے کا مطالبہ کر دیا۔

بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں ہونے والے برکس پلس اجلاس میں ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے کہا کہ ایران غیر قانونی توسیع پسندی اور جنگی کارروائیوں کا شکار ہے۔ 

اُنہوں نے برکس ممالک پر زور دیا کہ وہ امریکا اور اسرائیل کے اقدامات کے خلاف مشترکہ مؤقف اپنائیں۔

عباس عراقچی نے دعویٰ کیا کہ متحدہ عرب امارات نے ایران کے خلاف فوجی کارروائیوں میں براہِ راست کردار ادا کیا ہے تاہم امارات کی جانب سے فوری ردِعمل سامنے نہیں آیا۔

واضح رہے کہ ایران اور اسرائیل جنگ کے باعث آبنائے ہرمز میں کشیدگی برقرار ہے جس سے عالمی تیل کی ترسیل اور معیشت متاثر ہونے کا خدشہ بڑھ گیا ہے، کئی ممالک شدید دباؤ کا شکار ہیں۔

واضح رہے کہ برازیل، روس، بھارت، چین، جنوبی افریقا، مصر، ایتھوپیا، ایران، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات (یو اے ای) اور انڈونیشیا برکس گروپ کا حصہ ہیں۔

برکس کا مقصد عالمی گورننس میں ابھرتی ہوئی معیشتوں کے اثر و رسوخ کو بڑھانا ہے۔

برکس کے 2026ء کے سربراہی اجلاس کی میزبانی بھارت کر رہا ہے۔

برکس اجلاس میں ایران، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات سمیت کئی ایسے ممالک شریک ہیں جن کے درمیان مشرقِ وسطیٰ کی جنگ پر اختلافات موجود ہیں جس کے باعث مشترکہ اعلامیہ جاری ہونے پر بھی سوالات اُٹھ رہے ہیں۔

بین الاقوامی خبریں سے مزید