• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

’کبھی یہ رشتہ خراب نہ ہونے دینا‘: ٹرمپ اور شی جن پنگ کا اہم بیان

---تصویر بشکریہ بین الاقوامی میڈیا
---تصویر بشکریہ بین الاقوامی میڈیا

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور چینی صدر شی جن پنگ نے بیجنگ میں تجارتی مذاکرات کے پہلے روز ایک دوسرے کے ساتھ تعلقات کو دنیا کا سب سے اہم اور فیصلہ کن رشتہ قرار دیتے ہوئے تعاون جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا۔

بیجنگ کے عظیم الشان گریٹ ہال آف دی پیپل میں سرکاری عشائیے کے دوران دونوں رہنماؤں نے دوستانہ ماحول میں خطاب کیا، جبکہ شی جن پنگ نے خبردار کیا کہ اگر چین اور امریکا اپنے تعلقات کو درست انداز میں نہ سنبھال سکے تو دنیا ایک انتہائی خطرناک صورتِ حال سے دوچار ہو سکتی ہے۔

شی جن پنگ نے کہا کہ ہمیں اس تعلق کو کامیاب بنانا ہے اور کبھی خراب نہیں ہونے دینا۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے شی جن پنگ کو دوست قرار دیتے ہوئے ان کی قیادت کی تعریف کی۔

انہوں نے کہا کہ ہم دونوں کا مستقبل شاندار ہو گا، میرے دل میں چین اور آپ کی قیادت کا بے حد احترام ہے۔

ٹرمپ نے شی جن پنگ اور خاتونِ اول پینگ لی یوان کو 24 ستمبر کو وائٹ ہاؤس آنے کی دعوت بھی دی۔

دوسری جانب شی جن پنگ نے کہا کہ دنیا ایک نئے موڑ پر کھڑی ہے اور دونوں طاقت ور ممالک کے رہنماؤں پر تاریخ کی بڑی ذمے داری عائد ہوتی ہے۔

انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا ہم مل کر عالمی چیلنجز کا مقابلہ کر سکتے ہیں اور دنیا میں استحکام لا سکتے ہیں؟

چینی قیادت نے ٹرمپ کے استقبال کو خصوصی اہمیت دی، امریکی صدر کا استقبال گریٹ ہال آف دی پیپل میں کیا گیا، جبکہ نائب صدر ہان ژینگ خود ایئر پورٹ پہنچے، جو کسی امریکی صدر کے استقبال کے لیے اب تک کا سب سے اعلیٰ چینی سرکاری استقبال قرار دیا جا رہا ہے۔

دونوں رہنماؤں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ چین اور امریکا کے تعلقات کو تعمیری، اسٹریٹجک اور مستحکم بنیادوں پر آگے بڑھایا جائے گا۔

شی جن پنگ نے کہا کہ چین اور امریکا کو حریف نہیں بلکہ شراکت دار بننا چاہیے، کیونکہ دونوں ممالک کے مشترکہ مفادات اختلافات سے کہیں زیادہ ہیں۔

شی جن پنگ نے عندیہ دیا کہ چین مواقع کے دروازے مزید کھولے گا، جبکہ ٹرمپ انتظامیہ چین سے امریکی سویا بین، گوشت اور طیارے خریدنے کی توقع رکھتی ہے۔

یاد رہے کہ گزشتہ برس دونوں ممالک کے درمیان ٹیرف جنگ شدت اختیار کر گئی تھی، تاہم بعد میں ایک عارضی تجارتی جنگ بندی پر اتفاق ہوا تھا۔

تائیوان پر کشیدگی

شی جن پنگ نے ٹرمپ کو خبردار کیا کہ تائیوان کا مسئلہ چین اور امریکا کے تعلقات میں سب سے حساس معاملہ ہے۔

امریکا اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جاری جنگ بھی ملاقات کا اہم موضوع رہی، دونوں رہنماؤں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ آبنائے ہرمز کھلی رہنی چاہیے اور ایران کو کبھی ایٹمی ہتھیار حاصل نہیں ہونے چاہئیں۔

بین الاقوامی خبریں سے مزید