• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

الحمد للہ ہم نے معرکۂ حق بنیان مرصوص بھی منا لیا۔ اس سے قبل ہم یومِ دفاع، یومِ فضائیہ، یومِ تکبیر اور اس کے ساتھ یومِ پاکستان، یوم ِ آزادی، یومِ قائدِ اعظم، یومِ اقبال، مزدوروں کا دن، آزادیٔ صحافت کا دن بھی مناتے چلے آرہے ہیں۔ ہمارے منانے کو اور بھی بہت سے مذہبی اور ثقافتی تہوار ہیں۔مدر زڈے، فادرز ڈے، ویلنٹائن ڈے بھی موجود ہیں۔ ہمارےپاس منانے کواگرکوئی دن نہیں تو وہ ہےمعیشت کی اڑان کا دن ،قرضوں سے نجات کا دن،آئی ایم ایف سے آزادی کا دن،روپے کی قدر بڑھ جانے کا دن،ایکسپورٹ میں نمبر ون ہونے کا دن، مزدوروں کے حالات بہتر ہونے کا دن،پاکستان میں غربت کے خاتمے کا دن،غریب عوام کی خوشحالی کا دن،حکمرانوں کی عوام کی خوشحالی کیلئے قربانیوں کا دن،سیاسی نفرت کے خاتمے کا دن،فرقہ واریت کے خاتمے کا دن،سیاستدانوں کی منافقتوں اور چالبازیوں کے خاتمے کا دن، صوبوں میں ہم آہنگی کا دن،کشمیر کی آزادی کا دن،سیاسی قیدیوں کے خلاف انتقامی کارروائیوں کے خاتمے کا دن،دہشت گردی کے خاتمے کا دن،اتحاد بین المسلمین کے فروغ کا دن،مہنگائی کے خاتمے کا دن،گیس، بجلی اور پٹرول پر تمام ٹیکسوں کے خاتمے کا دن،پاکستان کا ایشیا کا ٹائیگر بننے کا دن۔

یہ صرف الفاظ نہیں بلکہ ایک عام پاکستانی کے دل کی آواز ہیں۔ ایک ایسے شہری کے خواب ہیں جو ہر گزرتے دن کے ساتھ مہنگائی، بے روزگاری، سیاسی عدم استحکام اور معاشی دباؤکے درمیان زندگی گزارنے پر مجبور ہے۔ قومیں صرف دفاعی طاقت سے نہیں بلکہ مضبوط معیشت، تعلیم، انصاف اور قومی اتحاد سے عظیم بنتی ہیں۔

ہم نے پاکستان کے سفارتی طور پر آگے جانے کی باتیں بھی سن لیں، لیکن کاش ہم اس کے ثمرات پاکستان میں آتے بھی دیکھتے۔ کاش جب ٹرمپ ہمارے حکمرانوں کی تعریف کرے تو ساتھ دنیا بھر کے سرمایہ کاروں کو یہ بھی کہے کہ وہ پاکستان جائیں اور سرمایہ کاری کریں۔ کاش وہ یہ بھی کہے کہ پاکستان امن کا داعی اور امن کا مرکز ہے، اس لیے تمام امریکی سیاح پاکستان جائیں۔ کاش یہ سب ممکن ہو۔اور ہاں، یہ سب ناممکن نہیں ہے۔ یہ سب ہوسکتا ہے۔ملک صرف نعروں، تقریبات اور یادگاری دنوں سے ترقی نہیں کرتے بلکہ درست ترجیحات، قومی اتفاقِ رائے اور مسلسل محنت سے دنیا میں مقام حاصل کرتے ہیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ جن قوموں نے سیاسی استحکام، معاشی پالیسیوں اور قومی اتحاد کو ترجیح دی، وہ دنیا کی صفِ اول میں جا کھڑی ہوئیں۔ چین کبھی غربت، بھوک اور معاشی پسماندگی کی علامت سمجھا جاتا تھا، مگر 1978ء میں ڈینگ ژیاؤ پنگ کی معاشی اصلاحات نے اسے دنیا کی دوسری بڑی معاشی طاقت بنا دیا۔

سنگاپور 1965ء میں ایک چھوٹا سا وسائل سے محروم جزیرہ تھا، مگر لی کوان یو کی قیادت میں وہ آج دنیا کی مضبوط ترین معیشتوں میں شمار ہوتا ہے۔ دبئی چند دہائیاں قبل ایک صحرائی خطہ تھا، لیکن وژن، استحکام اور سرمایہ کاری دوست پالیسیوں نے اسے عالمی تجارت، سیاحت اور کاروبار کا مرکز بنا دیا۔ سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان بھی ایسا نہیں بن سکتا؟ یقیناً بن سکتا ہے، مگر اس کے لیے ہمیں اپنی ترجیحات بدلنا ہوں گی۔ اس کیلئے ضروری ہے کہ ہمارے مذہبی و سیاسی راہنما اپنی ترجیحات میں ملکی مفاد کو سب سے پہلے رکھیں۔ ایک دوسرے کے خلاف انتقامی کارروائیاں بند کریں۔ سیاست کو دشمنی نہیں بلکہ خدمت کا ذریعہ بنائیں۔ مذہبی راہنما معاشرے میں برداشت، رواداری اور اعتدال کو فروغ دیں۔

جیسا کہ آقا صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’ بہترین راستہ اعتدال کا راستہ ہے۔‘‘

یہی وہ اصول ہے جو معاشروں میں امن، استحکام اور ترقی پیدا کرتا ہے۔ جب سیاسی قیادت نفرت کے بجائے مکالمے کو اپنائے گی، جب صوبائیت اور فرقہ واریت کے بجائے قومی وحدت کو فروغ دیا جائیگا، جب ذاتی مفادات پر قومی مفاد کو ترجیح دی جائیگی، تب پاکستان حقیقی معنوں میں ترقی کی راہ پر گامزن ہوگا۔ہمیں صرف میٹرو، سڑکوں اور بلند عمارتوں کی ترقی نہیں چاہیے بلکہ انسان کی ترقی بھی چاہیے۔ ایک ایسا پاکستان چاہیے جہاں مزدور باعزت زندگی گزار سکے، نوجوانوں کو روزگار ملے، کسان خوشحال ہو، تعلیم عام ہو اور عام آدمی مہنگائی کے خوف کے بغیر زندگی گزار سکے۔ہاں، جب یہ سب ہوگا تو پھر ہم یقینی طور پر پاکستان کی اڑان کا دن منائیں گے۔ معیشت کے فروغ اور خوشحالی کا دن منائیں گے۔ ہمارے اربابِ اختیار ایک بار خلوصِ نیت سے مل کر تو بیٹھیں، قومی ایجنڈے پر متفق ہوکر تو دیکھیں، عوام کی خاطر سیاست کرکے تو دیکھیں۔یقیناً اس قوم کے نصیب بدل جائیں گے۔

تازہ ترین