کراچی میں عدالت سے باہر آتے ہی ملزمہ انمول عرف پنکی نے میڈیا کے سوال پر دھماکا خیز بیان دے دیا۔
عدالت سے روانگی کے دوران ایک صحافی نے انمول پنکی سے سوال کیا کہ آپ میڈیا سے کیا کہنا چاہتی ہیں؟ جس پر ملزمہ نے جواب دیا کہ ہم تو ڈوبے ہیں صنم، ان سب کو بھی ساتھ لے کر ڈوبیں گے۔
اس سے قبل ملزمہ انمول عرف پنکی نے عدالت میں پیشی کے دوران شور شرابا کیا اور الزام لگایا کہ مجھ پر تشدد کیا جا رہا ہے۔
پنکی نے عدالت کو بتایا کہ مجھے 22 دن سے اٹھایا ہوا ہے، مجھے لاہور سے گرفتار کر کے یہاں لائے ہیں، میرے خلاف جھوٹے مقدمات بنائے گئے ہیں۔
پنکی نے عدالت میں بیان دیا کہ مجھے 22، 23 دن پہلے لاہور سے 6 پولیس اہلکاروں نےاٹھایا، 15 دن اپنے پاس رکھا 5 دن پہلے لے کر آئے، عدالت نے کہا کہ آپ نے اس وقت شور شرابہ کیوں نہیں کیا، انمول پنکی نے کہا کہ مجھ پر تشدد کیا جا رہا تھا، میں بے گناہ ہوں میں نے کچھ نہیں کیا، میرا سابق شوہر یہ سب کچھ کرا رہا ہے۔
عدالت نے سوال کیا کہ آپ کا سابق شوہر وہ سب کیوں کر رہا ہے؟ اس پر ملزمہ نے کہا کہ کیونکہ میں نے اس کو چھوڑ دیا ہے، مجھے 3 ماہ پہلے اس نے چھوڑا تھا، جج نے استفسار کیا کہ خلع لی ہے یا طلاق دی تھی؟ ملزمہ نے جواب دیا کہ طلاق دی تھی، نکاح رجسٹرڈ نہیں تھا۔
عدالت سے واپسی پر لیڈی پولیس اہلکار بار بار ملزمہ کا چہرہ ڈھانپنے کی کوشش کرتی رہیں، ملزمہ بار بار چہرے سے کپڑا ہٹا کر بولنے کی کوشش کرتی رہی، جبکہ کسٹڈی لےجاتے ہوئے ملزمہ پولیس پر چیخنے بھی لگی۔