مشرق وسطی میں گزشتہ دو ماہ سے جاری جنگ کی صورتحال اور آبنائے ہرمز پر کنٹرول کے حوالے سے امریکہ اور ایران میں جاری کشیدگی سےپیدا ہونے والی معاشی بے یقینی نے پاکستان سمیت پوری دنیا کو متاثر کیا ہے۔ تاہم پاکستان کی صورتحال اس وجہ سے زیادہ ابتر ہوتی جا رہی ہے کہ یہاں کاروبار کرنے کے حالات پہلے ہی دگرگوں ہیں۔ اس حوالے سے برآمدی شعبہ سب سے زیادہ متاثر ہو رہا ہے۔ ایک طرف پیٹرول، ڈیزل اور ایل این جی کی قیمتوں میں تقریباً دوگنا اضافہ ہونے کی وجہ سے پیداواری لاگت بہت زیادہ بڑھ گئی ہے اور دوسری طرف بجلی کی فراہمی میں تعطل اور غیر علانیہ لوڈشیڈنگ کے باعث توانائی کے متبادل ذرائع پر سرمایہ کاری بھی مجبوری بن چکی ہے۔ علاوہ ازیں برآمدی شعبےپر ٹیکس کی شرح بھی سب سے زیادہ ہے اور حال ہی میں حکومت نے شرح سود میں ایک فیصد اضافہ کرکے اس معاشی بوجھ کو مزید بڑھا دیا ہے۔
یہ وہ حالات ہیں جنکے باعث پہلے سے بحران کے شکار برآمدی شعبے بالخصوص ٹیکسٹائل کی برآمدات میں کمی آئی ہے۔ محکمہ شماریات کے مطابق رواں مالی سال کے پہلے چھ ماہ میں ٹیکسٹائل برآمدات گزشتہ مالی سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں 68 ملین ڈالر کم رہی ہیں۔ علاوہ ازیں مارچ میں برآمدات میں سات فیصد سے زائد کی کمی ریکارڈ کی گئی ہے جو لمحہ فکریہ ہے۔ تاہم ان ناگفتہ بہ حالات کے باوجود ویلیو ایڈڈ ٹیکسٹائل سیکٹر میں سے ریڈی میڈ گارمنٹس کی برآمدات میںلگ بھگ 3فیصد اور بیڈ ویئر کی برآمدات میںصفراعشاریہ25 فیصد اضافہ دیکھا گیا ہے۔ اس کے برعکس سوتی کپڑے کی برآمدات میں10فیصد، آرٹ سلک اور مصنوعی ٹیکسٹائل کی برآمدات میں10فیصد، تولیوں کی برآمدات میں 2فیصد جبکہ نِٹ ویئر کی برآمدات میں 1فیصد کمی ہوئی ہے۔ اس طرح گزشتہ چھ ماہ کے دوران پاکستان کا مجموعی مالیاتی خسارہ 25 ارب ڈالر سے زائد رہا جو ملک کے زرمبادلہ کے مجموعی ذخائر سے بھی زیادہ ہے۔
اس طرح رواں مالی سال کے اختتام تک پاکستان کی ٹیکسٹائل برآمدات 18 ارب ڈالر کے آس پاس رہنے کی توقع ہے حالانکہ ملک میں ٹیکسٹائل انڈسٹری کی مجموعی برآمدی استعداد کسی طرح بھی 23 سے 25 ارب ڈالر سے کم نہیں ہے جسے با آسانی 30ارب ڈالر سالانہ تک بڑھایا جا سکتا ہے۔ تاہم اس کیلئے ضروری ہے کہ وقتی اقدامات کرنے کی بجائے بنیادی اصلاحات کرکے طویل المدت پالیسی تشکیل دی جائے۔ یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ ویلیو ایڈڈ ٹیکسٹائل کی برآمدات میں اضافے کے ساتھ ساتھ پاکستان میں ٹیکنیکل ٹیکسٹائل اور اپیرل کے شعبے میں برآمدات بڑھانے کی بھی بے پناہ صلاحیت موجود ہے۔ اس سلسلے میں معاون مالیاتی فریم ورک کے ساتھ انڈسٹری اپنی غیر استعمال شدہ استعداد کو بروئے کار لا کر نہ صرف ملک میں سرمایہ کاری کو فروغ دے سکتی ہے بلکہ ٹیکسٹائل اور اپیرل کے شعبے میں چند سال کے اندر 10 لاکھ سے زائد نئی ملازمتیں بھی پیدا کی جا سکتی ہیں۔
اس سلسلے میں سب سے زیادہ ضروری بات یہ ہے کہ برآمدی شعبے کی پیداواری لاگت کم کرنے کے لئے توانائی کے نرخوں کو خدمات کی لاگت کی بنیاد پر خطے کے دیگر ممالک سے ہم آہنگ کیا جائے اور صنعتوں پر نافذ ہر قسم کی کراس سبسڈیز ختم کی جائیں۔ علاوہ ازیں صنعتی صارفین کیلئے بجلی اور گیس کے استعمال پر پیک آورز کی پابندیاں بھی نہیں ہونی چاہئیںبلکہ انڈسٹری کو سولر انرجی یا دیگر ماحول دوست توانائی کے ذرائع پر منتقل ہونے کیلئےخصوصی اقدامات کئے جائیں تاکہ انڈسٹری کو عالمی منڈیوں بالخصوص یورپی ممالک کی طرف سے برآمدات پر نافذ کاربن کے اخراج میں کمی کے حوالے سے مقرر کئے گئے اہداف کو حاصل کیا جا سکے۔ اسی طرح گیس پر گرڈ ٹرانزیشن لیوی کو ختم کرنا بھی ضروری ہے کیونکہ ٹیکسٹائل انڈسٹری کیلئے کمبائنڈ ہیٹ اینڈ پاور بنیادی ضرورت ہے۔
علاوہ ازیں ٹیکس کے نظام میں موجود خامیوں سے بچنے کیلئے برآمد کنندگان کو دوبارہ سے فائنل ٹیکس رجیم میں شامل کرنے کی ضرورت ہے جبکہ برآمدی شعبوں پر عائد اضافی محصولات کو بھی ختم ہونا چاہیے کیونکہ برآمدی شعبے کو عالمی منڈیوں میں مسابقت کیلئے کاروباری لاگت میں اضافے کے باعث پہلے ہی مشکلات کا سامنا ہے۔ اس وقت ٹیکسٹائل برآمدات پر ٹیکس کی شرح 22 سے 24 فیصد ہے جس سے نقد لین دین میں اضافے کے باعث غیر رسمی معیشت کو فروغ مل رہا ہے۔ غیر دستاویزی معیشت کو فروغ دینے والے اس اقدام سے بچنے کیلئے ٹیکس کی شرح میں کمی کرکے ڈیجیٹل لین دین کو فروغ دیناضروری ہے۔ علاوہ ازیں برآمدکنندگان کو درپیش سرمائے کی قلت ختم کرنے کیلئے ریفنڈز کی تیز رفتار اور خودکار طریقے سے ادائیگی کے نظام ’فاسٹر‘ کو فوری فعال بنانے کی ضرورت ہے جبکہ بجلی و گیس پر آنے والے اخراجات کو کم کرنےکیلئے ایکسپورٹ فسیلیٹیشن اسکیم کو اس کی اصل روح کے مطابق بحال کرکے مقامی اور درآمدی ان پٹ پر بھی اس کا نفاذ ہونا چاہیے۔ اسی طرح اضافی اخراجات کو پورا کرنےکیلئے ویلیو ایڈڈ سیکٹر کیلئے لگ بھگ پانچ فیصد ٹیکسز اور لیویز کے ٹارگٹڈ ڈیوٹی ڈرا بیک کی تجویز پر بھی سنجیدگی سے غور کیاجائے۔ اس کے ساتھ ساتھ ٹیکسٹائل برآمدات بڑھانے کیلئے کپاس کی کاشت کے رقبے میں اضافہ، ٹیسٹنگ لیبز کی اصلاح اور ٹریس ایبلٹی کو یقینی بنا کر کپاس کی ویلیو چین کو پائیدار بنانا بھی ضروری ہے۔ اس سلسلے میں حکومت کو اسٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں لے کر ان کی مشاورت سے پالیسیاں تشکیل دینی چاہئیں۔ یوں نہ صرف انڈسٹری کو درپیش بحران ختم ہو گا بلکہ عالمی سطح پر پاکستان کی مسابقت میں بہتری آنے سے برآمد کنندگان کو زیادہ سے زیادہ برآمدی آرڈرز کے حصول میں بھی مدد ملے گی۔ اس طرح ملک کو درکار قیمتی زرمبادلہ کے حصول کے ساتھ ساتھ روزگار کی فراہمی میں بھی بہتری آئے گی۔