امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ 14 گھنٹے کی اڑان 11 ہزار کلومیٹر کی مسافت کا آنا جانا کر کے واشنگٹن سے بیجنگ اور واپس وائٹ ہاؤس آئے تو کچھ بجھے بجھے سے ہی رہے وہ جولانی اور بانکپن نظر نہ آیا جو ریاض، ابو ظہبی اور قطر کے دورے میں نمایاں تھا۔ آخر کس کی نظر لگ گئی عراقچی کی یا پاسداران انقلاب کی۔ لا ابالی 79 سالہ ٹرمپ 72 سالہ چینی صدر ژی جین پنگ سے بے تکلف ہونے کی کوشش کرتے تھے مگر وہاں ایک خاموشی اور رکھ رکھاؤ تھا۔ ٹرمپ صاحب کی کوشش تو یہ تھی کہ وہ بیجنگ کے دورے سے پہلے پاکستان کے ذریعے ایران سے کسی قسم کی ڈیل کرلیں تاکہ وہ بیجنگ میں ببانگ دہل کہہ سکیں کہ میں نے ایک جنگ اور رکوا دی۔ ایران اپنے تمام نقصانات جانی مالی اور شہری تباہی کے باوجود مذاکرات کے تعطل کو 13مئی تک کھینچنے میں کامیاب ہو گیا۔ امریکہ پہلی بار اتنا بے بس دکھائی دیا ۔
آج اتوار ہے۔ اپنے بیٹے بیٹیوں، پوتے پوتیوں، نواسے نواسیوں، بہووں اور دامادوں کے ساتھ دوپہر کے کھانے پر تبادلہ خیال کا دن۔آج ظاہر ہے کہ ٹرمپ کا دورہ چین ہی موضوع سخن ہونا چاہیے۔کسی زمانے میں امریکی صدر کے دورہ چین کا دنیا بھر میں انتظار ہوتا تھا کیونکہ اس کے بعد معیشت ،تجارت ،دفاع ،سیکورٹی عالمی سطح پر سب کچھ بدل جاتا تھا ۔34 کروڑ آبادی کا منتخب صدر ایک ارب 40 کروڑ کی آبادی میں جا رہا ہے۔ اب تو چین ایک معاشی طاقت بن چکا ہے۔ پوری دنیا اس کے ایک پٹی ایک سڑک کے فلسفے کو داد دیتی ہے۔ چھوٹے بڑے ملکوں کو چین پر بھروسہ ہے کہ صرف خود کو طاقتور نہیں بناتا وہ آس پاس کے ملکوں خاص طور پر غریب ریاستوں کو بھی خود کفیل دیکھنا چاہتا ہےایران کے وزیر خارجہ عراقچی نے پریس کانفرنس میں دہلی میں بار بار کہا کہ امریکہ پر بھروسہ نہیں کیا جا سکتا ۔امریکی صدر اگر وقت شناس ہوتے تو وہ چین کے دورے سے قبل 28 فروری کو اس جنگ کا آغاز ہی نہ کرتے ۔انہوں نے خود اس اہم ،حساس دورے کو پہلے سے ہی متاثر کر دیا ۔استقبال سے لے کر اپنے جہاز کی سیڑھیاں واپس چڑھنے تک ان کو ہزیمت کا سامنا کرنا پڑا۔ ٹرمپ اگرچہ چھ فٹ تین انچ کی قامت کے ساتھ جناب ژی جنگ پنگ کی پانچ فٹ 11 انچ کی قامت سے بلند تر ہیں لیکن وہ پورے دورے میں ژی کے آگے پست قامت ہی نظر آئے ۔
ٹرمپ کا مقصد اس دورے سے تو اپنے گرتے ہوئے گراف کو سنبھالنا تھا تاکہ نومبر میں وسط مدتی انتخابات میں ان کی پارٹی کو زیادہ بڑی شکست کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ لیکن دورے کا اختتام جس اعصابی تناؤ میں کسی مشترکہ اعلامیہ کے بغیر ہوا ہے۔ اس سے ان کی ریٹنگ اور کم ہو گئی ہے۔
یوں جو کم دام ہوئے چشم خریدار میں ہم
اس سے بہتر تھا کہ آتے ہی نہ بازار میں ہم
چین خاموشی سے اپنے اہداف کے حصول میں سرگرم ہے نہ تو وہ ٹرمپ کی طرح تلواربار بارنیام سے نکالتا ہے اور نہ ہی نیتن کی طرح گریٹر چائنہ کیلئے آس پاس کے ملکوں پر بربریت کا مظاہرہ کرتا ہے ۔چینی لانگ مارچ کے عادی ہیں اپنے مقصد کی تکمیل تک صبر کرنا جانتے ہیں ۔1949 میں ماؤزے تنگ کے چین کو پھر ڈینگ ژیائو پنگ کے جدید چین کی معاشی پالیسیاں سامنے رکھیں۔ سوویت یونین تسلسل نہیں رکھ سکا گوربا چوف اس کا شیرازہ بکھیر گئے ۔روسی کمیونسٹ پارٹی کا کیا حشر ہوا کچھ پتہ نہیں ہے ۔لیکن چین میں کمیونسٹ پارٹی اب بھی موجود ہے ۔صدر ژی اپنی ہر تقریراور تحریر میں کہتے ہیں ’سوشلزم چین کی خصوصیات کے ساتھ‘... ہانگ کانگ ان کو واپس ملا تو اس پر کمیونسٹ معیشت مسلط نہیں کی ۔ایک ریاست دو معیشتوں کا کامیاب تجربہ کر لیا۔ اب کسی وقت تائیوان بھی اڑھائی کروڑ کی آبادی 602 بلین ڈالر کے ذخائر کے ساتھ چین کے مرکزی رقبے میں شامل ہو جائیگا۔
صدر ژی نے امریکہ کو خبردار کیا کہ تائیوان کے مسئلے پر دھونس بازی کرنے سے امریکہ سے چین کا تصادم ہو سکتا ہے ۔چینی حقیقت پسند قوم ہیں انہوں نے ہانگ کانگ میکاؤ کسی کو بھی مسئلہ نہیں بنایا تھا ۔اپنے آپ کو طاقتور معیشت بنایا تو یہ رقبےاپنے وقت مقررہ پر چین کے مرکزی دھارے میں شامل ہو گئے ۔اب تائیوان پر وہ فوج کشی کرکےچاہے تو 24 گھنٹے میں تسخیر کر سکتا ہے مگر اسکی خواہش یہی ہے کہ کسی قسم کے معاشی مالی جانی نقصان کے بغیر تائیوان پر اس کا موقف تسلیم کر لیا جائے۔ چین کے محفوظ ذخائر 3410 بلین ڈالر ہیں امریکہ کے صرف 38 بلین ڈالر ۔چین میں امریکی 70 ہزار سے ایک لاکھ تک موجود ہیں۔ جبکہ امریکہ میں چینی طالب علم اور کارکن چھ لاکھ کے قریب ہیں۔ چینی نژاد امریکی تو 50لاکھ سے زیادہ ہیں چین کی امریکہ میں سرمایہ کاری بہت محدود تین بلین ڈالر ہے جبکہ چین میں امریکی سرمایہ کاری 122 بلین ڈالر سے زیادہ ہے ۔
چین نے صدر ٹرمپ کے دورے کو بہت ہی سوچ سمجھ کر ایک محض رسمی اور پرتکلف دورہ بنا دیا ۔ان کےاستقبال کیلئے چینی نائب صدر کو بھیجا گیا جو ایسے ہی نمائشی کام کیلئےمخصوص ہیں۔ کمیونسٹ پارٹی کے پولٹ بیورو کے کسی رکن نے ان کا خیر مقدم نہیں کیا۔ اس دوران بھی ٹرمپ اپنی عادت سے مجبور رہے اور اپنے دورے کو شاندار تجربہ کہتے رہے جبکہ چین کی طرف سے ایسا کوئی پرجوش بیان سامنے نہیں آیا۔ عالمی ماہرین اس دورے کوCalendar management کہہ رہے ہیں Strategic management نہیں۔یعنی طے شدہ تاریخوں پر خانہ پری حساس یا حکمت عملی والا انتظام نہیں ۔کوئی مشترکہ اعلامیہ جاری نہیں ہوا ۔امریکہ نے White House read out جاری کیا چین کی خبررساں ایجنسی نےبھی ایسا ہی کیا۔ یہ ایک رسمی کارروائی ہے اس میں بیان کردہ امور سے سرکاری اتفاق یا ان پر عمل درآمد ضروری نہیں ہوتا ۔
مشترکہ اعلامیہ کیوں جاری نہیں ہوا کیونکہ دونوں ممالک کو بنیادی معاملات پر اتفاق نہیں ہے۔ سب سے شدید اختلاف تائیوان کی حیثیت پر ہے ۔چین صرف ایک چین کا موقف رکھتا ہے۔ امریکی تحریر میں تائیوان کا ذکر ہی نہیں کیا گیا ۔تجارت میں چین ٹیرف سے رعایت چاہتا ہے ایران کے ایٹمی پروگرام پر امریکہ نے بہت دباؤ دیا لیکن چین نے کوئی وعدہ نہیں کیا ۔
صدر ٹرمپ کی قسمت میں ادھوری کہانیاں ہی لکھی گئی ہیں ۔گرین لینڈ پر امریکی فوج کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکا ۔بورڈ آف پیس بھی معلق ہے ۔اس میں کوئی پیشرفت نہیں ہوئی جبکہ غزہ میں اسرائیل روزانہ ہی معصوم فلسطینیوں کو شہید کر رہا ہے پاکستان کی میزبانی میں ہونے والے امریکہ ایران مذاکرات بھی فی الحال التوا میں ہیں۔ مگر صدر ٹرمپ ہمیشہ خوش باش رہتے ہیں ۔بیانات سے اپنی قوم کو خوش رکھتے ہیں ۔صدر ژی نے واضح کر دیا کہ ہمیں پارٹنر یعنی رفیق چاہیے رائیول یا رقیب نہیں، پاکستانیوں کو ایک پاکستان کے زمانے کی صدر ایوب کی کتاب یاد آگئی ہوگی۔ فرینڈز ناٹ ماسٹرز۔