• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

شفیق الرحمٰن نے زنانہ اردو خط و کتابت والا مضمون تو لکھا مگر اُس کا مردانہ نسخہ لکھنا بھول گئے۔ ہم کوشش کرکے دیکھتے ہیں۔

خط نمبر 1: محبوبہ کے نام

جانِ من! گزشتہ رات سے تم آف لائن ہو اور میرے پیغامات کا جواب نہیں دے رہیں، میرا دل بیٹھا جا رہا ہے، کہاں ہو تم؟ انسٹا گرام پر تم دس منٹ پہلے تک ایکٹو تھیں لیکن میرے لیے غائب ہو۔ دیکھو، اگر تم میرے کل والے رویے سے نالاں ہو تو میں یہ واضح کردوں کہ میرا مقصد تم پر شک کرنا ہرگز نہیں تھا۔ میں نے تو صرف یہ پوچھا تھا کہ یہ حمید کون ہے جو تمہاری ہر تصویر کے نیچے دل بنا دیتا ہے۔ بجائے جواب دینے کے اُلٹا تم نے مجھ سے ہی بازپرس کرنی شروع کر دی کہ جو لڑکیاں میرے انسٹاگرام پر ہیں وہ میری کیا لگتی ہیں۔ یہ عجیب بات ہے۔ میں ایک سوشل میڈیا انفلوئنسر ہوں، لوگ مجھے فالو کرتے ہیں، ان میں لڑکیاں بھی شامل ہیں، اگر کسی نے مجھے ڈی ایم کر دیا اور میں نے جواب دیدیا تو اِس میں میرا کیا قصور ہے! ٹھیک ہے کہ کچھ لڑکیاں پیچھے پڑ جاتی ہیں مگر اسکی جوابدہی تو وہ لڑکیاں کریں، میں کیوں کروں، کیا میں نے انہیں کافی کی دعوت دینے کے علاوہ کبھی کوئی غیر ضروری بات کی؟ اور ایک تم ہو، ہر کسی کو اجازت دے رکھی ہے کہ وہ تمہاری پوسٹ پر تبصرہ کرے، تصویروں کے نیچے الٹی سیدھی ایموجیاں بنائے۔

ہاں، ٹھیک ہے کہ میرے ہی کہنے پر تم نے سوشل میڈیا کا استعمال کم کر دیا ہے، واٹس ایپ پر اسٹیٹس بھی نہیں لگاتیں، مگر یہ حمید کون ہے۔ یقین کرو کہ میں بہت آزاد خیال ہوں مگر تمہارے معاملے میں میرا حال یہ ہے کہ تمہیں کوئی اور دیکھے تو جلتا ہے دل۔ اسے تم میری محبت پر محمول کرو، نہ کہ مجھ سے ناراض ہو جاؤ۔ اچھا پلیز اب غصہ تھوک دو۔ میں نے تمہاری سالگرہ کیلئے تحفہ بھی خرید لیا ہے، سوچا تھا سرپرائز دوں گا لیکن اب رہا نہیں جا رہا، ایک انتہائی فیشن ایبل عبایہ آن لائن منگوایا ہے، سیاہ کپڑے پر کیا عمدہ کڑھائی ہے، جا بجا سرخ پھول بھی بنے ہیں، دیکھو گی تو دل خوش ہو جائیگا۔ اب پلیز میرے صبر کا مزید امتحان نہ لو۔ اُس دن جو ہوا اسے بھول جاؤ۔ تمہیں تو پتا ہے کہ میں اگر زیادہ ڈرنک کر لوں تو بہک جاتا ہوں۔ تھوڑے کہے کو بہت جانو اور مان جاؤ۔

(فی الحال) فقط تمہارا عاشق۔ نوٹ: واٹس ایپ پر اپنا ’لاسٹ سین‘ آن کرو، مجھے پتا ہونا چاہیے کہ تم رات دو بجے کیوں کر آن لائن ہوتی ہو۔

خط نمبر 2: بیوی کے نام

کچھ عرصے سے میں نوٹ کر رہا ہوں کہ تم اکھڑی اکھڑی رہتی ہو، چونکہ تم سے بات کرنے کا کوئی فائدہ نہیں ہوتا اِس لیے یہ میسج لکھ کر بھیج رہا ہوں تاکہ ثبوت رہے اور کل کلاں کو جب تمہارے بھائی بات کرنے آئیں تو میں انہیں دکھا سکوں کہ تمہارا مزاج کس قدر بگڑا ہوا ہے۔ نہ تمہیں گھر گرہستی کا کچھ پتا ہے اور نہ کفایت شعاری کے ہجے جانتی ہو۔ میں ہر ماہ لگا بندھا خرچہ تمہارے ہاتھ میں رکھتا ہوں مگر چار دن بعد ہی تم سب پیسے اڑا کر کہتی ہو کہ ختم ہو گئے۔ کیا گھر بسانے کی یہی باتیں ہیں؟ میرے چھوٹے بھائی کی بیوی بھی ایک لاکھ روپے میں سارا مہینہ چلاتی ہے، ٹھیک ہے کہ اُس لاکھ روپے میں بجلی، پانی، گیس کے بِل اور بچوں کی فیسیں شامل نہیں، اور اوپر کے اخراجات بھی اُس کا شوہر ہی پورے کرتا ہے مگر پھر بھی تمہیں اُس سے کچھ سیکھنا چاہیے، لاکھ روپے معمولی رقم نہیں۔ تم نے ایم بی اے کیا ہوا ہے، کیا فائدہ تمہاری ڈگری کا اگر تم گھر کی بنیادی ذمہ داری نہیں سنبھال سکتیں؟ مجھے لگتا ہے کہ یہ جو تم نے نئی سہیلیاں بنائی ہیں وہ تمہیں الٹی سیدھی پٹیاں پڑھاتی ہیں، غالباً اُن میں سے ایک تو عورتوں کی کسی این جی او سے بھی وابستہ ہے جو ہر وقت عورتوں کے حقوق کی ریلز فارورڈ کرتی رہتی ہے، میں تمہیں حکم دیتا ہوں کہ فوراً ان سب سے قطع تعلق کر دو۔ جب سے تمہاری اُن سے دوستی ہوئی ہے تم مجھ سے بد تمیزی کرنے لگی ہو۔ مجھے ایسی عورتیں بالکل پسند نہیں جو مرد کے اونچا بولنے پر آگے سے دلیلیں دینے کی کوشش کریں، ایسی ہی صورتحال میں اُن پر ہاتھ اٹھانے کی اجازت ہے، لیکن میں چونکہ ایک لبرل اور روشن خیال مرد ہوں اِس لیے ضبط کیے بیٹھا ہوں، میرے صبر کا مزید امتحان نہ لو۔

فقط، تمہارا حاکمِ اعلیٰ۔

خط نمبر 3: ایک خاتون دوست کے نام

ہیلو نازش!تمہارا وہ لمبا چوڑا وائس نوٹ ملا جس میں تم نے شکوہ کیا ہے کہ میں تمہاری باتوں کے جواب میں صرف ’ہمم‘ یا ’اوکے‘ لکھ کر بھیج دیتا ہوں۔ نازش، تم مڈل کلاس لڑکیوں کا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ تم لوگ مرد کی خاموشی کے پیچھے چھپے ہوئے فلسفے کو نہیں سمجھ سکتیں۔ جب میں تمہیں ’ہمم‘ لکھتا ہوں تو اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ میں اس وقت کائنات کی وجودی گہرائیاں میں کھویا ہوتا ہوں۔ تم کہتی ہو کہ میں تمہیں وقت نہیں دیتا۔ ارے بھائی، وقت ہی تو نہیں ہے میرے پاس کہ میں کسی کے واٹس ایپ پیغامات کا جواب دیتا پھروں۔ کل جب میں نے تمہاری سہیلی لاریب کا واٹس ایپ اسٹیٹس دیکھا تو مجھے احساس ہوا کہ جدید دور کی عورت کیسی ہونی چاہیے۔ اس نے کسی انگریزی ناول کا اقتباس لگایا ہوا تھا جس کا مطلب تھا کہ انسان اپنے وجود کی گہرائی کو ماپنا چاہتا ہے مگر وہ یہ نہیں جانتا کہ اُس کے پاس ایسا کوئی آلہ ہی نہیں جو اس گہرائی کو ماپ سکے۔ لاریب بتا رہی تھی کہ تم نے اُس پر کمنٹ کیا کہ کیا یہ قول کسی درزی کا ہے۔ لاحول ولا۔ مجھے تم سے یہ امید نہیں تھی۔ لاریب کی سوچ میں ایک گہرائی ہے، وہ جب بات کرتی ہے تو اس میں ایک عالمی شعور جھلکتا ہے، کل اس سے میری بات ہوئی تو کہنے لگی کہ آج کل میں مائیکل فوکو کو پڑھ رہی ہوں۔ مجھے یاد پڑتا ہے کہ پہلے بھی میں نے ایسی ایک بات بتائی تھی تو تم نے ہم پر ’میبل اور میں‘ کی پھبتی کسی تھی اور کہا تھا کہ تم لوگوں کو پطرس کا یہ مضمون پڑھنا چاہیے۔ تمہیں شاید پتا نہیں کہ میں مقامی ادیبوں کو نہیں پڑھتا۔ اگر تم میری دوست رہنا چاہتی ہو تو اپنی اس دیسی پسماندہ سوچ کو بدلو۔ مجھے بار بار ٹیکسٹ کر کے یہ مت پوچھا کرو کہ ’کہاں ہو؟‘ میں جہاں بھی ہوں، اپنی مردانہ وجاہت اور فکرِ نو کے ساتھ موجود ہوں۔ اگلی بار جب ٹیکسٹ کرو تو کسی عالمی مسئلے پر بات کرنا۔

فقط، تمہاری پہنچ سے دور، تمہارا فلاسفر دوست۔

تازہ ترین