کافی سال ہوگئے۔ٹی وی کے ایک پروگرام میں حدیقہ کیانی اور نعمان اعجاز میزبان تھے ۔مہمانوں میں ایک معروف گلوکارہ اور میں شامل تھے۔عید کا شو تھا لہٰذا ہلکے پھلکے انداز میں گفتگو جاری تھی۔ اچانک میرے ساتھ بیٹھی گلوکارہ بھڑک گئیں اور نعمان اعجاز پر چلانے لگیں کہ آپ مجھ سے سوالات کیوں نہیں کر رہے مجھے پتا ہے جان بوجھ کر مجھے اگنور کیا جارہاہے۔ ایک دم سے اسٹوڈیو میں سناٹا چھا گیا۔ شکر ہے ریکارڈنگ ہورہی تھی ورنہ پروگرام لائیو جارہا ہوتا تو اور ہی تماشا لگ جانا تھا۔نعمان اعجاز جوں جوں وضاحت پیش کرتے جارہے تھے گلوکارہ اور بھی غصے میں آتی جارہی تھیں۔حدیقہ نے نہایت تحمل سے بات سنبھالتے ہوئے گلوکارہ سے گزارش کی کہ بریک کے بعد آپ سے سب سے زیادہ باتیں کی جائیں گی یہ کہتے ہوئے حدیقہ نے میری طرف دیکھا۔میں نے بخوشی اثبات میں سرہلادیا۔ گلوکارہ کا غصہ پھر بھی کم نہ ہوا، اب کی بار انہوں نے سیدھا میری طرف اشارہ کیا اور چلا کر بولیں’انہی سے سب کچھ پوچھ لیں، میں توفضول ہوں ناں‘۔ یہ سنتے ہی حدیقہ کیانی کے چہرے پر جو شرمندگی کے آثار نظر آئے اُنہیں میں کبھی نہیں بھول سکتا۔انہوں نے پورے اسٹاف کے سامنے ہاتھ جوڑ کر مجھ سے معافی مانگی حالانکہ نہ ان کا کوئی قصور تھا نہ اس کی کوئی ضرورت تھی لیکن اس ایک تاثر نے میرے دل میں ان کی عزت میں مزید کئی گنا اضافہ کردیا۔پروگرام ختم ہوا تومیں پارکنگ سے اپنی گاڑی نکال رہا تھا ، اتفاق سے گلوکارہ کی گاڑی بھی میری گاڑی کے ساتھ ہی کھڑی تھی۔وہ فوراً میرے پاس آئیں اور معذرت کی کہ میں آپ سے نہیں میزبانوں کے رویے سے نالاں تھی جس پرمیں نے ان سے گزارش کی کہ آپ کو اصل میں میزبانوں سے معذرت کرنی چاہیے تاہم انہوں نے اس سے انکار کردیا۔ حال ہی میں حدیقہ کیانی کوستارہ امتیاز ملا تو دل کی گہرائیوں سے خوشی ہوئی۔حدیقہ کیانی نہایت پڑھی لکھی،سلجھی ہوئی اور ورسٹائل گلوکارہ و اداکارہ ہیں۔ ان کی والدہ بھی بہت اچھی شاعرہ اورموسیقی کاذوق رکھتی ہیں۔حدیقہ کا معروف گیت‘بوہے باریاں’ ان کی والدہ ہی کا لکھا ہوا ہے۔
٭ ٭ ٭
بعض لوگوں کی نیندیں حرام ہوگئی ہیں کہ پرنٹ میڈیا ختم ہورہا ہے،اخبارات کا کیا بنے گا۔ ایسے لوگوں سے پوچھنا چاہیے کہ آپ نے خود کب آخری بار اخبار خریدا تھا۔ زمانہ بدل رہا ہے لہٰذا اخبار ختم نہیں ہورہے بلکہ ان کا چہرہ بدل رہا ہے۔ برادرم نجم ولی خان نے بالکل ٹھیک لکھا کہ انٹرنیٹ پرآنے کے باوجود آج بھی اخبارات میں ایڈیٹر کا شعبہ موجود ہے جو حتی الامکان ہر چیز بلکہ ہر لفظ کو چیک کرتے ہیں۔ڈیجیٹل میڈیا پر بڑے اخبارات سوشل میڈیا کی طرح ہر اوٹ پٹانگ خبر شائع نہیں کرتے بلکہ آج بھی پوری ذمہ داری نبھاتے ہیں۔ غلطی کوتاہی ہو بھی جاتی ہے لیکن اوورآل اخبارآج بھی مصدقہ خبر دینے کی کوشش کرتے ہیں۔ ہم جیسے جولوگ پرنٹ میڈیا سے الیکٹرانک میڈیا کی طرف آئے ہیں وہ بخوبی جانتے ہیں کہ پرنٹ میڈیا میں خبر کتنے ہاتھوں سے گزر کر اشاعت کے مراحل میں پہنچتی ہے اور اگر باؤنس ہوجائے تو کس کس کی گوشمالی ہوتی ہے۔فیس بک یا اپنی کسی ویب سائٹ پر کوئی بھی کچھ بھی لگا سکتاہے لیکن جب یہی چیز کسی معتبراخبار کی ویب سائٹ پر شائع ہوتی ہے تو قاری ایک اعتماد کے ساتھ پڑھتاہے۔پرنٹ کے ساتھ ساتھ الیکٹرانک میڈیا بھی ڈیجیٹل پر شفٹ ہورہا ہے اور ہونا بھی چاہیے۔جہاں قارئین اور ناظرین زیادہ ہوں وہیں توجہ دینی چاہیے۔دنیاکے بڑے بڑے اخبارات ڈیجیٹل پر منتقل ہوئے ہیں ۔ان کی اشاعت بے شک کم ہوگئی ہو لیکن قارئین کی تعدادمیں ہزار گنا اضافہ ہواہے۔
٭ ٭ ٭
فالسوں کا سیزن عروج پر ہے۔ یہ ایک ایسا پھل ہے جو مشکل سے ایک ڈیڑھ مہینے کیلئے ہی دستیاب ہوتا ہے لیکن اپنی ٹھنڈی تاثیر کی وجہ سے بہت پسند کیا جاتاہے۔ آج سے ایک ماہ پہلے فالسے لگ بھگ ہزار روپے کلو مل رہے تھے اور آج کا ریٹ تین سو روپے کلو ہے۔عموماًبازار میں دیسی فالسے بہت کم دستیاب ہوتے ہیں لیکن اگر مل جائیں تو ضرور ٹرائی کیجئے گا۔آپ کہنے پر مجبور ہوجائیں گے ’فالسے ایسے بھی ہوں گے یہ کبھی سوچا نہ تھا‘۔ دیسی فالسے کا ذائقہ ہی الگ ہوتاہے۔گرمیوں میں زیادہ پھل دستیاب ہوتے ہیں۔ لوکاٹ، تربوز، آڑو، فالسہ، خوبانی، خربوزہ گرمی کی بدولت ہی ذائقے دار بنتے ہیں ۔یہ گرمی پھلوں کیلئے ٹھیک ہے لیکن عام بندہ جھلس جاتاہے۔ میری بڑی خواہش تھی کہ کاش کبھی سردیاں گرمیوں میں آئیں۔
یہ خواہش پچھلے دنوں پوری ہوگئی جب مئی میں اولے پڑتے دیکھے۔ آگے آنیوالے حبس کے موسم میں بھی ایسے نظارے عام دیکھنے کو ملیں گے کہ ایک طرف بارش ہورہی ہوگی اور دوسری طرف دھوپ نکلی ہوگی۔مجھے گرمیاں اس لیے بھی پسند ہیں کہ اِن کے بعد سردیاں آتی ہیں۔
گرمی خرچے کا سیزن ہے کہ اس میں بجلی کا بل ہی مان نہیں۔آپ بے شک گھر میں ہائی پاور کا یوپی ایس لگوا لیں، سولر لگوا لیں، بڑی بیٹریاں رکھوا لیں، جنریٹر کا بھی انتظام کرلیں لیکن ایک بیزاری والی رات ایسی ضرور آئیگی جب گلی کا ٹرانسفارمر اڑ جائیگا یا بجلی کا لمبا بریک ڈاؤن ہوگا اور آپ کے سارے انتظامات دھرے کے دھرے رہ جائیں گے،سب ٹھاٹھ پڑا رہ جائیگا۔ بیٹریاں ختم ہوجائیں گی، یو پی ایس جواب دے جائیگا،جنریٹر کا پٹرول ختم ہوجائیگا ، سولر ویسے ہی نہیں چلے گااوراخبارسے پنکھا جھلتے ہوئے رات گزارنی پڑے گی ۔ایسی رات بندہ اوکھے سوکھے ہوکر گزار ہی لیتا ہے لیکن بڑی اذیت ہوتی ہے جب پتا چلتاہے کہ دیگر علاقوں کی لائٹ آرہی ہے۔ایسے میں ہرگھر اسی اُمید پر رہتا ہے کہ کسی نہ کسی نے تو واپڈا کو شکایت درج کرادی ہوگی۔ یہ خبر بھی روح کو سکون دیتی ہے کہ لمباساڈنڈااٹھائے کچھ ورکرز ٹرانسفارمر کے پاس کھڑے تو ہیں۔غریب بندہ اس موقع پر ایک تاری لگا لیتا ہے اور مڈل کلاس کچھا بنیان پہنے سگریٹ سلگائے گلی میں نکل آتاہے۔