ڈچ وزیرِ اعظم روب جیٹن نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ نیدرلینڈز کو بھارت میں میڈیا کی آزادی اور اقلیتوں کے حقوق سے متعلق تشویش ہے۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق روب جیٹن نے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں دونوں ممالک کو جمہوریت، قانون کی حکمرانی اور انصاف کا حامی قرار دیتے ہوئے کہا کہ مجھے بھارت میں اقلیتوں پر ہونے والے مظالم اور میڈیا پر دباؤ سے متعلق تشویش ہے۔
اس پر بھارت نے نیدرلینڈز کے وزیر اعظم روب جیٹن کے بیان پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ بھارت ایک ’متحرک جمہوریت‘ ہے جہاں اظہارِ رائے اور تمام مذاہب کو مکمل آزادی حاصل ہے۔
بھارتی وزارتِ خارجہ کے سیکریٹری سبی جارج نے کہا ہے کہ ایسے سوالات ’بھارت سے متعلق کم معلومات‘ کی وجہ سے اٹھائے جاتے ہیں، بھارت 5000 سال پرانی تہذیب کا حامل ملک ہے جہاں ثقافت، زبان، مذہب اور روایات کا وسیع تنوع موجود ہے۔
اُنہوں نے کہا کہ ہندو مت، بدھ مت، جین مت اور سکھ مت کی بنیاد بھارت میں پڑی اور یہ مذاہب آج بھی وہاں پھل پھول رہے ہیں، یہودی برادری 2500 سال سے بھارت میں آباد ہے اور انہیں کبھی ظلم و ستم کا سامنا نہیں کرنا پڑا جبکہ عیسائیت اور اسلام بھی بھارت میں صدیوں سے موجود ہیں۔
واضح رہے کہ بھارت کی جانب سے یہ ردِعمل اس وقت سامنے آیا جب ڈچ وزیر اعظم کے بعد ایک ڈچ صحافی نے بھی وزیرِ اعظم نریندر مودی کے دورۂ نیدرلینڈز کے دوران مشترکہ پریس کانفرنس نہ ہونے پر سوال اٹھایا اور بھارت میں میڈیا کی آزادی اور مسلم سمیت دیگر اقلیتوں کے حقوق سے متعلق خدشات کا اظہار کیا۔