امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے واشنگٹن میں نیشنل مال پر 9 گھنٹے طویل دعائیہ تقریب کا انعقاد کیا جس کا مقصد امریکا کو دوبارہ ’خدا کے نام پر ایک قوم‘ کے طور پر پیش کرنا تھا۔
عرب میڈیا کے مطابق یہ تقریب امریکا کی 250 ویں سالگرہ کے موقع پر منعقد کی گئی، تقریب میں مذہبی رہنماؤں، گلوکاروں، سماجی کارکنوں اور ریپبلکن رہنماؤں نے شرکت کی۔
سینیٹر ٹم اسکاٹ نے تقریب سے خطاب میں کہا کہ ’امریکی عوام کے حقوق حکومت نہیں بلکہ خدا دیتا ہے۔‘
صدر ٹرمپ نے ویڈیو پیغام میں بائبل کی آیات پڑھتے ہوئے خدا کی وفاداری اور نافرمانی کے نتائج کا ذکر کیا، امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو نے کہا کہ امریکا کی بنیاد ’مسیحی نظریات‘ پر قائم ہے۔
عرب میڈیا کے مطابق اس تقریب کے انعقاد پر شدید تنقید کی گئی ہے، ناقدین کا کہنا ہے کہ تقریب میں صرف ایک یہودی عالم موجود تھا جبکہ باقی تمام مقررین مسیحی تھے جس سے مذہبی جانبداری ظاہر ہوتی ہے۔
بین المذاہب اتحاد کے صدر پال راشن بش نے کہا ہے کہ یہ تقریب امریکی آئین کی پہلی ترمیم اور ریاست و مذہب کی علیحدگی کے اصول کے خلاف ہے، ناقدین کا کہنا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ مذہب اور سیاست کو ملا کر آئینی حدود دھندلا رہی ہے۔
ادھر ایک حالیہ سروے کے مطابق 17 فیصد امریکی اب چاہتے ہیں کہ مسیحیت کو امریکا کا سرکاری مذہب قرار دیا جائے تاہم 54 فیصد اب بھی ریاست اور مذہب کی علیحدگی کے حامی ہیں۔