منظور رضی
140سال قبل امریکہ کے صنعتی شہر شکاگو میں محنت کشوں نے جو قربانی دی تھی آج وہاں امریکی سامراج، اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فلسطین، غزہ کے بعد ایران سے جنگ چھیڑ رکھی ہے۔ ہم یوم مئی کے موقع پر شکاگو 1886ء کے محنت کشوں کو خراج عقیدت پیش کرنے، ان کے بتائے ہوئے راستے پر چل کر شاید کچھ حاصل کرسکیں جنہوں نے کہا تھا کہ، حاکموں غریب انسانوں کی آواز بلند ہونے دو، نہیں تو پھر ان کی تلواریں بلند ہوں گی۔
یکم مئی دنیا بھر کے محنت کشوں کا عالمی دن ہے، اس دن دنیا بھر میں جلسے، جلوس، ریلیاں اور سیمینارز منعقد ہوتے ہیں، شکاگو کے اُن مزدوروں کی یاد میں جنہوں نے اپنی جان کی بازی لگاکر8گھنٹے اوقات کار مقرر کروائےتھے۔ مظلوموں محنت کشوں، محکموں اور غلاموں کی یوں تو بڑی طویل اور صبر آزما جدوجہد صدیوں پر محیط ہے، جب پہلی مرتبہ زمین پر چند طاقتور لوگوں نے لکیریں کھینچ کر اپنے حق ملکیت کا دعویٰ کرنا شروع کیا اور کمزور لوگوں پر ظلم کرکے طاقت کے زور پر انہیں اپنا غلام بنایا تھا، تب ہی سے دنیا میں طبقاتی فرق پیدا ہوگیا تھا، اس وقت طاقتور لوگ جبر کرکے غلاموں، مظلوموں، محکموں اور محنت کشوں سے جبری مشقت لیتے تھے، اوقات کا تعین بھی نہ تھا لیکن 18اٹھارویں اور 19صدی میں تقریباً مزدور طبقہ بھی منظم ہونا شروع ہوگیا تھا، یہ وہ دور تھا جب صنعتی ترقی ہورہی تھی، بھاپ سے چلنے والے انجن اور کارخانے مشینی دور میں داخل ہورہے تھے کم معاوضے پر مزدوروں سے بے گار لی جاتی تھی۔
کارل مارکس کے نظریات بھی پھیل رہے تھے۔ محنت کشوں کے کوئی اوقات کار نہ تھے نہ ہی کوئی قانون تھا، رات گئے تک کام کرنا پڑتا تھا، حادثے اور موت کی صورت میں کوئی معاوضہ نہ تھا، یورپ میں نئی نئی صنعتیں لگ رہی تھیں، سائنس بھی ترقی کررہی تھی، کارخانوں کا جال بچھایا جارہا تھا، مزدور طبقہ اُبھر رہا اور انجمن سازی کی طرف بڑھ رہا تھا، سب سے پہلے برطانیہ میں مزدوروں نے جدوجہد شروع کی، یونین اور فیڈریشن بنائی، اس سے قبل بھی مزدور جدوجہد کرتے رہے مگر شکاگو ان سب میں پیش پیش رہا، امریکہ جس کے ایک شہر میں اس تحریک نے جنم لیا، آج سامراج بن کر دنیا میں دندنا رہا ہے اور محنت کشوں کا دشمن نمبر ایک بن کر دنیا میں دہشت گردی، لوٹ مار، اسلحہ کی منڈی، نیو ورلڈ آرڈر، آئی ایم ایف، ورلڈ بینک کے تحت اپنے احکامات کے ذریعے چھوٹے غریب پسماندہ اور ترقی پذیر ممالک پر حکمرانی کے خواب دیکھ رہا ہے، اسے نہیں معلوم کہ آج سرمایہ دارانہ نظام انسانوں کی بھلائی کے لیے کوئی بھی قابل ذکر کارنامہ انجام نہیں دے رہا ہے، آج یہ نظام اپنے عروج پر پہنچ کر زوال پذیر ہے، آج دنیا کے غریب ملکوں کے عوام کو بھوک، غربت، جہالت، بیماری، بیروزگاری اور منہگائی سے نجات دلانے کے لیے ملکی حکمرانوں سمیت عالمی سامراج کے پاس عوام کو غربت کی دلدل سے نکالنے کا کوئی واضح پروگرام نہیں ہے۔
آج عالمی سرمایہ داری نظام اپنی بھیانک شکل میں عوام کو بدحالی کی طرف دھکیل رہا ہے لیکن اسی سامراجی ملک میں آج سے ٹھیک 140سال قبل ایسے جوشیلے انقلابی نوجوان مزدور اور سیاسی رہنما پیدا ہوئے تھے جنہوں نے شکاگو میں پہلی مکمل ہڑتال کرکے اپنی قیمتی اور پیاری جانوں کا نذرانہ دے کر دنیا کی مزدور تحریک کو ایک نیا رخ دیا تھا اور اپنا خون دے کر محنت کش طبقے کا سر ہمیشہ کے لیے فخر سے بلند کردیا تھا۔
انہوں نے اس وقت کے حکمرانوں، مل مالکوں، سرمایہ داروں اور صنعت کاروں کو للکارتے ہوئے کہا تھا کہ ظالم حاکموں ہمیں بھی زندہ رہنے کا حق دو ہم بھی انسان ہیں، ہمارے بھی اوقات کار مقرر کرو، ہماری تنخواہوں میں اضافہ کرو، ہمارے مطالبات پورے کروکےنعرے لگاتے ہوئے دنیا کے مزدوروں ایک ہوجانے، اپنے حقوق اور مطالبات کی بات کررہے تھے، دنیا میں یہ پہلا موقع تھا جب محنت کرنے والوں نے اپنے اتحاد کے ذریعے ، بغاوت کرکے مکمل ہڑتال کردی تھی اور پھر یکم مئی 1886ء کو صبح کے اخبار میں کسی گمنام صحافی نے اپنا فرض ادا کرتے ہوئے اخبار کے صفحہ اول پر مزدوروں کو مخاطب کرے ہوئے کہا تھا، جو اب تاریخ کا حصہ بن چکا ہے۔
’’مزدور تمہاری لڑائی شروع ہوچکی ہے، فیصلہ تو آنے والا وقت کرے گا، آگے بڑھو، اپنی جدوجہد جاری رکھو، حاکموں کو جھکنا پڑے گا، جیت اور فتح تمہاری ہوگی، ہمت نہ ہارنا، متحد رہنا، اسی میں تمہاری بقاء اور اسی میں تمہاری فتح ہے۔‘‘ اس تحریر نے محنت کشوں میں مزید جذبہ پیدا کردیا اور8 گھنٹہ اوقات کار کا مطالبہ کردیا۔ حکمرانوں، مل مالکان، سرمایہ داروں کو محنت کشوں کا یہ نعرہ اور اتحاد پسند نہ آیا اور انہوں نے مزدوروں کے خلاف ایکشن لیتے ہوئے ان پر گولیوں کی بوچھاڑ کردی۔
شکاگو کی سڑکوں پر مزدور کا خون بہنے لگا، محنت کشوں کا امن کا پرچم خون سے سرخ ہوگیا، ایک محنت کش کی قمیض لہو سے تر ہوگئی، پھر انہوں نے لہو میں ڈوبے ہوئے سرخ پرچم کو ہی اپنا پرچم بنالیا اور فیصلہ کیا کہ ہم اس وقت تک کام پر واپس نہیں جائیں گے، جب تک ہمارے مطالبات تسلیم نہیں کرلیے جاتے، سرخ پرچم ہی اب ہمارا پرچم ہوگا، اس موقع پر محنت کشوں کے سرکردہ رہنماؤں نشر اینجل پرسنز اور اسپائیز نے مزدوروں سے خطاب کرتے ہوئے حکمرانوں اور مل مالکوں کو للکارا تھا، آخرکار حکمرانوں نے محنت کشوں کے مطالبات تسلیم کیے اور یوں پہلی مرتبہ 8گھنٹے اوقات کار کو تسلیم کیا گیا، بعد میں حکمرانوں نے مزدوروں کے سات سرکردہ رہنماؤں کو گرفتار کرکے ان پر جھوٹا مقدمہ بنایا کہ انہوں نے جلسہ میں بم چلایا تھا۔ 4 رہنماؤں کو سزائے موت دے کر پھانسی کے پھندے پر چڑھا دیا گیا اور باقی تین رہنمائوں کو رہا کردیا گیا، یہ عظیم مزدور رہنما دنیا سے تو چلے گئے مگر اپنا نام اور اپنی تحریک چھوڑ کر ہمیشہ ہمیشہ کے لیے امر ہوگئے۔
بعدازاں محنت کش اپنی جدوجہد کے ذریعے کئی تبدیلیاں لائے ، مراعات حاصل کیں اور روس میں انقلاب برپا کیا، یورپ میں تو اب بھی 5اور 6گھنٹے اوقات کار ہیں جبکہ ہمارے ملک میں آج بھی اوقات کار 8 گھنٹے کے بجائے 12 اور 16 گھنٹے ہیں۔
پاکستان میں حکرانوں، سرمایہ داروں اور فرقہ پرستوں نے مزدوروں کو تقسیم در تقسیم کردیا ہے، آج پاکستان میں مزدور سیاسی جماعتوں کے علاوہ مذہب، فرقہ، زبان، قومیت اور علاقے کے ہوچکے ہیں، ٹریڈ یونین تحریک کمزور پڑ گئی ہے، بلکہ اب تو دم توڑ رہی ہے۔ قومی اداروں کی خریدو فروخت جاری ہے۔ پاکستان ریلوے سمیت پاکستان اسٹیل، پی آئی اے، سوئی گیس، کے ای ایس سی، پی ٹی سی ایل سمیت قومی شاہراہیں، پوسٹ آفس گروی رکھ کرآیئ ایم ایف اور ورلڈ بینک کے احکامات کے تحت فروخت کیے جارہے ہیں۔
منہگائی، جنگ، بیروزگاری، بیماری اور جنگ نے پاکستان کے محنت کشوں کی زندگی اجیرن کردی ہے، کسی بھی سیاسی جماعت نے اپنے منشور میں محنت کشوں اور کسانوں کے لیے مخصوص نشستیں نہیں رکھیں، اسی لیے قومی وصوبائی اسمبلی اور سینیٹ میں ہماری کوئی آواز نہیں ہے، ضروری ہے کہ ہم اپنی جدوجہد تیز تر کریں۔