• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

اِن دِنوں پاکستان کے ذرائع ابلاغ میں انمول عرف پنکی کے کیس کا بہت چرچا ہے۔سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر طرح طرح کی باتیں ہیں اور طرح طرح کے سازشی نظریات کی گونج ہے۔ مگر اس شور شرابے میں کئی پرانے اور بعض نئے سوالات سامنے آئے ہیں۔ ان تمام سوالات کا بنیادی نکتہ یہ ہے کہ کیا ملک کا قانون سب کے لیے یک ساں ہے یا امیر اور غریب اور کم زور اور طاقت ور کے لیے علیحدہ علیحدہ قوانین ہیں؟

منشیات فروش خاتون، انمول عرف پنکی کی عدالت میں وی آئی پی پروٹوکول کے ساتھ پیشی پر تجزیہ کاروں، انسانی حقوق کی تنظیموں اور سماجی کارکنوں نے تنقید کی ہے۔ چند روز قبل کراچی میں منشیات فروشی کے الزام میں گرفتار، انمول عرف پنکی کو عدالت میں شاہانہ انداز میں پیش کیا گیا، لیکن اس واقعے سے چند روز قبل ہی کراچی میں پولیس نے خواتین سے دست درازی کی تھی۔

کراچی پولیس نے عوام کے حقوق کی آواز اٹھانے والی، عورت مارچ کی راہ نما شیما کرمانی اور اُن کی ساتھیوں کو کراچی پریس کلب کے باہر سے بغیر کسی الزام کے گرفتار کیا تھا۔ پولیس نے اس موقعے پر بزرگ خواتین کو دھکے دیے، اورانہیں زبردستی گاڑی میں بٹھایا گیاتھا۔ ان دو واقعات کی بنا پر کراچی کی پولیس کے دہرے معیارنے کئی سوالات اٹھادیے ہیں۔

کس بھی ریاست اور معاشرے کی بہتری کے لیے دو نہیں بلکہ ایک قانون کا عملی صورت میں نظر آنا بہت ضروری ہے۔ اگر چہ یہ کام مشکل ہے، مگر اس کی ضرورت و اہمیت عوام اور قومی اداروں کے اپنے مفاد میں ہے۔ عوام کے لیے اس کا فائدہ یہ نظر آتا ہے کہ لوگوں کو انصاف ملے گا اور قانون کی نظر میں حقیقی برابری ہو گی، جس کی ضمانت ملک کا آئین بھی دیتا ہے۔

انسانیت اور قومی اداروں کے وقار اور بقا کے لیے ناگزیر اقدام کو عملی صورت دینے میں حکومت کو دیر نہیں کرنی چاہیے۔ زبانی دعووں کو عمل میں ڈھالنے کی ضرورت ہے۔ یہ کام وقت طلب اور طویل سہی، مگر کسی کو تو یہ پہلا قدم اٹھانا ہی ہوگا۔

یہ صرف ہماری بحث نہیں

کیا پوری دنیا میں ہمارے ملک جیسی ہی صورت حال ہے یا دنیا ہم سے مختلف ہے؟اس سوال کا حقیقت پسندانہ جواب یہ ہے کہ دنیا میں کہیں بھی قانون سب کے لیے یک ساں نظر نہیں آتا۔ یہ ہی وجہ ہے کہ کہ آج پوری دنیا میں یہ بحث چل رہی ہے کہ نظام عدل لوگوں کی امیدوں پر پورا اتر رہا ہے یا نہیں؟ کیا انسان کو بلا تفریق انصاف میسر ہے؟ کیا قانون سب کے لیے برابر ہے؟ افسوس کہ آج ہر جگہ قانون و انصاف کے دہرے معیار دکھائی دیتے ہیں۔

امیرکے لیے قانون الگ اور غریب کے لیے الگ ہے۔ حکم راں کے لیے الگ اور عوام کے لیے علیحدہ ہے۔ اپنوں کے لیے الگ اور غیروں کے لیے الگ ہے۔ اس ضمن میں بے شک آپ امریکا کی مثال لے لیں جہاں مانا جاتا ہے کہ عدالتیں آزاد اور قانون کی حکم رانی ہے، مگر وہاں کے نظام میں بھی نسلی تعصب اور انتہاؤں کو چھوتی قومیت صاف جھلکتی ہے۔

اس کا عکس کچھ عرضہ قبل ہم سیاہ فام جارج فلائیڈ کے مقدمے میں دیکھ سکتے ہیں، جس میں پولیس افسر کو قاتل قرار دے کر گرفتار کر لیا گیا۔ یہ فیصلہ 'احتساب، تو ثابت ہوا مگر بے انصافی کا کلچر نہ بدل سکا۔ آج بھی امریکا میں سیاہ فاموں کو حقارت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے، جہاں سیاہ فام آ کر بس جائیں سفید فام وہ جگہ چھوڑنے کو ترجیح دیتے ہیں۔ چناں چہ اصل ضرورت ااس متعصب کلچر کو بدلنے کی ہے،جو بدلا نہیں جا سکا ہے۔

اسی طرح صدر ٹرمپ کے پہلے اور اب کے دور ِاقتدار میں میکسیکو کی دیوار سے لے کر تارکین وطن پر پابندی تک، ہراسانی کے سخت الزامات سے لے کر نسل پرستی بڑھانے تک کیا کچھ سامنے نہ آیا، مگر اس طاقت ور شخصیت کے خلاف کیا کارروائی ہوئی؟ یورپ میں بھی کم و بیش ایسی ہی صورت حال ہے۔ اسی طرح یہ سوال بھی کیا جاتا ہے کہ کیا بھارت کی عدالتوں میں مسلمانوں کے خلاف ظلم و ستم کے مقدمات کے فیصلے میرٹ پر ہوتے ہیں؟

بابری مسجد کا فیصلہ دیکھ لیں، کئی سال لٹکتا رہا اور آخر کار فیصلہ مسلمانوں کے مکمل خلاف آیا۔چناں چہ اگر یہ کہا جائے کہ انصاف کے دہرے معیار اور دو قانون کی روایت کسی نہ کسی صورت میں ہر ریاست میں موجود ہے تو کسی حد تک یہ غلط نہ ہوگا۔

قوانین اور انسانی معاشرہ

قوانین اور عدل و انصاف کا نظام انسانی وجود کے ساتھ چلا آ رہا ہے۔ قرونِ وسطیٰ کے ادوار میں بادشاہوں کےحکم اور فرمان سلطنت کا قانون اور ان کےدربار ہی عدالت کا درجہ رکھتے تھے۔ مگراس وقت قوانین صرف رعایا تک محدود ہوتے تھے، یعنی وہ بادشاہوں کے لیے نہیں ہوتے تھے۔

پھر 1215ء میں میثاقِ حقوق، یعنی میگنا کارٹاتحریری طور پر سامنے آیا جس میں عوامی قوانین کی تشکیل و نفاذ پر زور دیا گیا اوربہ تدریج ایسے قوانین بنے جنہوں نے دنیا کا نظام بدل دیا، جیسے 1689ء میں Bill of Rights آیا جس میں عوامی و پارلیمانی حقوق حاصل ہوئے اورAct of Settlementآیا جس کے بعد ظلم و ستم کا خاتمہ ہوا۔

قدیم ریاستوں کی مضبوطی کا ایک رازیہ بھی تھا کہ وہاں عدل و انصاف اور قانون کی بالادستی کا بول بالا رہا۔ برصغیر بھی جب نوآبادیاتی نظام کا حصہ بنا تو انگریزوں نے اپنی مضبوط انتظامی طاقت اور درست قانونی و عدالتی نظام کی مدد سے یہاں ٹھوس ریاستی رِٹ اور بہتر طرزِ حکم رانی قائم کی۔

پھر 1948ء میں آنے والے UN Declaration of Human Rightsکی شق نمبر سات کے مطابق تمام ریاستوں کو اس کا پابند بنا دیا گیا کہ قانون کے سامنے سب برابر ہیں اور قانون رنگ، نسل، رتبے، عہدے، سب سے بالاتر ہو کرہر ایک پر یک ساں انداز میں لاگو ہوگا۔

ڈاکٹر مجاہد کامران کی عدالت میں پیشی
ڈاکٹر مجاہد کامران کی عدالت میں پیشی

قانون کی حکم رانی

موجودہ دور میں 'قانون کی حکم رانی‘ کا مفہوم سمجھنا ہو تو معروف برطانوی قانون دانTom Bingham کی کتاب Rule of Law اس ضمن میں یوں راہ نمائی کرتی ہے:’’اگر ریاست میں یہ آٹھ چیزیں موجود ہوں ‘ یعنی قانون تک باآسانی رسائی، قانون کے سامنے برابری، قانونی اختیارات کا صحیح استعمال، صوابدید کے بے غرض استعمال سے اجتناب، مقدمات میں شفافیت، عوامی مسائل و تنازعات کا جلد از جلد اور احسن حل، انسانی حقوق کی بالادستی اور عالمی قوانین کی پاس داری، تو وہاں قانون کی حکم رانی کی صورت حال بہتر کہلاتی ہے۔

مگر 'قانون کی حکم رانی یقینی بنانے میں عدلیہ کا کردار دیگر اداروں سے زیادہ ہوتاہے۔ عدلیہ آئین کی تشریح کرتی ہے اور قانون کی محافظ ہے۔ چناں چہ کسی بھی ریاست میں عوام و حکم راں کا عدلیہ کے ساتھ اعتماد و اعتبار کا رشتہ ہوتا ہے اور یہی رشتہ قانون کی حکم رانی کی اساس ہے۔

لوگ سوال کررہے ہیں

انمول عرف پنکی کی گزشتہ دنوں عدالت میں پیشی کی وڈیو دیکھنے کے بعد لوگ برملا یہ کہہ رہے ہیں کہ پاکستان میں ہر شخص خود کو قانون سے بالاتر سمجھتا ہے۔ جس کا جو جی چاہتا ہے کرتا رہتا ہے۔ اچھے برے کی کوئی تمیز نہیں۔ کوئی قانون نظر آتا ہے اور نہ ہی کوئی قانون داں اور قانون پر عمل درآمد کرانے والا۔ کسی قسم کی قانونی و ریاستی گرفت نہیں رہی۔

سب اپنی ہی پالیسیوں پر گام زن ہیں۔ قانون بنانے والے، یعنی منتخب نمائندے خود اپنے بنائے ہوئے قوانین کی پاس داری نہیں کرتے۔ قانون کو صرف اپنے مفادات کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ یہاں تک کہ ذاتی مفادات کی بنا پر اُس پارلیمان پر لعنت بھی بھیجتے ہیں جس میں بیٹھنے کے لیے کروڑوں روپے خرچ کر کے وہ منتخب ہوتے ہیں۔ عدلیہ و قانونی اداروں پر جملے کستے ہیں۔ پھر خود ہی عدلیہ کو بحال کرانے کا کریڈٹ لیتے ہیں۔ اگر فیصلہ اپنے خلاف آجائے تو اسی عدلیہ سے نالاں دکھائی دیتے ہیں۔

لوگوں کا کہنا ہے کہ قانون داں، یعنی وکلاء، قانون کی دھجیاں اڑانے سے باز نہیں آتے، بلکہ بہت سے غیر قانونی کاموں میں آگے آگے ہوتے ہیں۔ پولیس والے خود کو قانون سے بالاتر سمجھتے ہیں۔ وہ قانون پر عمل کرانے کی بجائے قانون کو پامال کرکے جعلی مقابلے کرتے ہیں ، مجرموں کی پشت پناہی کرتے ہیں اور کم زوروں کے خلاف انہیں قانون کی تمام دفعات یاد آجاتی ہیں۔

سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر ایک دوسرے سے پوچھا جارہا ہے کہ یہ کیسا ملک ہے جہاں ریاستی ملازم خود کو مالک سمجھتے ہیں اور عوام کو غلام۔ کسی قانون کی کوئی گرفت نہیں۔ گرفت ہے تو غنڈہ گردوں، منشیات فروشوں کی، سیاست دانوں، جاگیرداروں، بزنس ٹائیکونز، امراء اور بڑے افسروں کی۔ یہ سب قانون سے بالاتر ہیں۔

ان کے لیے کوئی قانون نہیں اور نہ ہی قانون کی پاس داری کا سوال۔ یہ سب قانون کی آڑ میں غیر قانونی کھیل کھیلتے رہتے ہیں۔ عام لوگوں کو جعلی مقابلوں میں ماردیا جاتا ہے اور بڑے بڑے مجرم عدالتوں میں پیشی کے موقعے پر بھی اپنی شان دکھا جاتے ہیں۔ یہ ان کا معمول ہے۔ ایسا برسوں سے ہوتا آ رہا ہے۔ ایسا تب تک ہوتا رہے گا جب تک قانون کے رکھوالےخود قانون کی پاس داری نہ کرنے لگیں۔

ہمارا نظامِ عدل

ہمارا نظام عدل منہگا،بہت پے چیدہ اور صبر آزما ہے۔ مقدمات میں تاریخ پہ تاریخ کا کلچر اور فراہمیِ انصاف میں تفریق نے نظام عدل کو کھوکھلا کردیا ہے۔ معمولی مقدمات میں سزا پانے والے کئی سال قید میں گزارنے کے بعد بے گناہ ثابت ہوتے ہیں۔ لیکن اصل مجرم اپنی طاقت کے بل بوتے پر آزاداور دندناتے پھرتے ہیں۔

جب کم زور کو ہتھکڑیاں لگا کر کٹہروں میں پیش کیا جائے اور طاقت ور کو سرکاری پروٹوکول کے ساتھ تو ایسے دہرے معیار میں اس نظام کا مقدر کیا ہوگا؟یہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں۔ یہ ہی وجہ ہے کہ آج دنیا بھر میں سِول جسٹس سسٹم کی رینکنگ میں پاکستان بہت نیچے ہے۔

اساتذہ کی ہتھکڑی میں پیشی اور موت

ہم بھول جاتے ہیں، لیکن تاریخ کبھی کچھ نہیں بھولتی۔ وہ ہمیں بتاتی ہے کہ پاکستان میں اس طرح کے واقعات کوئی نئی بات نہیں ہیں۔ تاریخ ہمیں یاد دلاتی ہے کہ اکتوبر 2018 میں بھی کچھ ایسا ہی ہوا تھا۔ اس وقت سپریم کورٹ میں اس وقت کے ڈائریکٹر جنرل نیب، لاہور، سلیم شہزاد، نے پنجاب یونیورسٹی کے سابق وائس چانسلر، ڈاکٹر مجاہد کامران اور دیگر پروفیسرز کو ہتھکڑیاں لگانے پر سپریم کورٹ سے معافی مانگی تھی۔

یہ تیرہ اکتوبر کی بات تھی۔ اس وقت کے چیف جسٹس پاکستان، جسٹس ثاقب نثار نے ایک روز قبل پنجاب یونیورسٹی کے سابق وائس چانسلر، ڈاکٹر مجاہد کامران اور دیگر پروفیسرز کو ہتھکڑیاں لگا کر لاہور کی احتساب عدالت میں پیش کرنے کا از خود نوٹس لیا تھا جس کی سماعت سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں ہوئی تھی۔ چیف جسٹس نے ڈی جی نیب لاہور اور ڈی آئی جی آپریشنز، پولیس کو عدالت میں پیش ہونے کا حکم دیا تھا جس پر وہ عدالت کے روبرو پیش ہوئے تھے۔

ڈی جی نیب لاہور کی عدالت میں پیشی کے موقع پر چیف جسٹس پاکستان جسٹس ثاقب نثار نے اساتذہ کو ہتھکڑیاں لگانے پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ آپ نے کس قانون کے تحت اساتذہ کی تضحیک کی؟ اس پر ڈی جی نیب نے کہا تھا کہ اپنے اقدام پر معافی مانگتے ہیں۔

اس موقعے پر جسٹس ثاقب نثار نے ڈی جی نیب سے مکالمہ کیا تھا کہ آپ اساتذہ سمیت پوری قوم سے معافی مانگیں ورنہ آپ کے خلاف بھی مقدمہ درج کراکے ہتکھڑیاں لگا کر عدالت میں پیش کرتے ہیں، نیب نے سوائے لوگوں کی تضحیک کے کوئی کیس حل نہیں کیا، آپ کو لوگوں کی تذلیل کرنے اور پگڑیاں اچھالنے کا ٹھیکہ ملا ہوا ہے، اگر آپ کام نہیں کر سکتے تو چھوڑ دیں، آپ کو بھی ہتھکڑیاں لگواتا ہوں آپ مقدمے میں اپنی ضمانتیں کراتے پھریں گے۔

چیف جسٹس کی برہمی پر ڈی جی نیب آبدیدہ ہوگئے تھے، جس پر جسٹس ثاقب نثار نے کہاتھا کہ اپنی باری آئی ہے تو آپ کی آنکھوں میں آنسو آگئے ہیں۔ ڈی جی نیب نے عدالت کو بتایا کہ ڈاکٹر مجاہد کامران کو حفاظتی خدشات کے پیش نظر ہتھکڑیاں لگائیں، ان سے اور دیگر اساتذہ سے خود جاکر معافی مانگ لی ہے۔

اس موقعے پر چیف جسٹس پاکستان نے ریمارکس دیے تھے کہ ہتھکڑی ڈاکٹر مجاہد کامران اور پروفیسرز کی موت ہے، میں استاد کی بے حرمتی برداشت نہیں کروں گا۔ جسٹس ثاقب نثار نے مزید کہا تھا کہ جنہیں ہتھکڑیاں لگائیں یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے آپ کے بچوں کو تعلیم دی، رات وڈیو دیکھ کر چیئرمین نیب کو فون کیا، انہوں نے لاعملی کا اظہار کیا اور کہا ڈی جی نیب لاہور آپ کو مطمئن کریں گے۔

دوسری جانب چیئرمین نیب، جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال نے بھی واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے ڈی جی نیب لاہور کو معاملے کی فوری انکوائری کا حکم دے دیا تھا۔ چیئرمین نیب کا کہنا تھا کہ واضح احکامات کے باوجود اساتذہ کو ہتھکڑیاں کیوں لگائی گئیں، واقعے کے ذمے داروں کے خلاف قانون کے مطابق سخت کارروائی کی جائے۔

واضح رہے کہ نیب نے11اکتوبر کو پنجاب یونیورسٹی کے سابق وائس چانسلر مجاہد کامران کو مبینہ طور پر یونیورسٹی میں خلافِ ضابطہ بھرتیوں اور بے ضابطگیوں کے الزام میں حراست میں لیا تھا۔ مجاہد کامران کو احتساب عدالت کے جج، نجم الحسن کی عدالت میں پیش کیا گیا تھا، جس کے بعد عدالت نے مجاہد کامران سمیت 6 ملزمان کو 10 روزہ جسمانی ریمانڈ پر نیب کے حوالے کردیا تھا۔

اس وقت پنجاب یونیورسٹی کے سابق وائس چانسلر کو ہتھکڑیاں لگاکر عدالت میں پیش کرنے پر سوشل میڈیا پر کافی لے دے ہوئی تھی، جس پر چیف جسٹس پاکستان نے ازخود نوٹس لیا تھا۔

اسی برس دسمبر کے مہینے میں ایک ایسی تصویر ذرائع ابلاغ کے ذریعے سامنےآئی تھی جس نے بہت سے ذہنوں کو بُری طرح جھنجھوڑ دیا تھا۔ وہ تصویر ایک استاد، پروفیسر محمد جاوید کی اسپتال میں موجود لاش کی تھی جس کے ہاتھ میں بعد از مرگ بھی ہتھکڑی لگی ہوئی تھی۔

اس تصویر پر بھی ہنگامہ برپا ہوا تھا کہ آخر یہ فیصلہ کس لال کتاب کو دیکھ کر کیا جاتا ہے کہ کسے ہتھکڑی پہنانی ہے اور کسے ہتھکڑی سے مبرا قرار دینا ہے۔ ایک طرف بیمار پروفیسر کو اسپتال میں بھی ہتھکڑی سے نجات نہیں ملتی اور وہ اسی عالم میں دنیا سے رخصت ہو جاتا ہے اور دوسری طرف جو ہشاش بشاش ملزم ہیں، انہیں بغیر ہتھکڑی کے پورے اعزاز کے ساتھ عدالت میں پیش کیا جاتا ہے۔

اس وقت کے صوبہ پنجاب کے آئی جی جیل خانہ جات نے یہ بات بڑی آسانی سے کہہ دی تھی کہ علاج کے لیے اسپتال لائے جانے والے ہر زیر حراست ملزم یا حوالاتی کو ہتھکڑی لگائی جاتی ہے، مگر لوگ پوچھتے رہے کہ ایک بڑے سیاست داں کو کو بھی جیل سے احتساب عدالت لایا جاتا ہے، مگر ان کے دونوں ہاتھ ہتھکڑی کے بوجھ سے آزاد ہوتے ہیں۔ ایسا کیوں ہے؟ اس سوال کا جواب کسی کے پاس نہیں تھا۔

لوگوں نے اس وقت یہ سوال کیا تھا کہ اگر پروفیسر جاوید دل کے عارضے میں مبتلا تھے تو کیا ان کے بھاگ جانے کا زیادہ ڈر تھا کہ انہیں اسپتال کے بیڈ پر بھی ہتھکڑی لگا کر لٹایا گیا تھا؟ کیا پہرے پر سنتری بٹھا کر کام نہیں چلایا جا سکتا تھا؟ کیا جیل کے عملے کو اتنا شعور بھی نہیں ہوتا کہ ملزم کی طبی حالت کا اندازہ ہی لگا سکے؟ اگر وہ دل کے عارضے میں مبتلا تھے تو ان کا طبی معائنہ کیوں نہیں کرایاگیا تھا؟ کیا یہ سہولت صرف بڑے سیاست دانوں کو حاصل ہے کہ ان کے لیے ایک ڈاکٹر نہیں، بلکہ مکمل طبی بورڈ بنائے جاتے ہیں؟

اُس وقت ایک استاد کی بے بسی کی حالت میں موت کے تصور نے معاشرے کو ہلا کر رکھ دیاتھا۔ اس وقت بھی سوالات اٹھے تھے کہ چلیں مان لیتے ہیں کہ قانون ہتھکڑی لگانے کی اجازت دیتا ہے۔ یہ بھی تسلیم کر لیتے ہیں کہ قانون میں یہ کہیں نہیں لکھا کہ ایک استاد بدعنوانی کرے اور پکڑا جائے تو اسے ہتھکڑی نہیں لگائی جا سکتی، مگر یہ جو آئے روز شرم ناک مناظر نظر آتے ہیں جن میں صاف لگ رہا ہوتا ہے کہ پولیس اور نیب والے اپنی صوابدید پر کسی کو ہتھکڑی لگاتے ہیں اور کسی کو نہیں لگاتے۔

ان کی موجودگی میں عوام کیسے مان لیں کہ سب سے یک ساں سلوک ہوتا ہے۔ اس وقت پورا سوشل میڈیا راؤ انوار کی وڈیوز اور تصاویر سے بھرا پڑا تھا۔ وہ جس طرح پولیس کی حراست میں پیشی پر آتے تھے، کوئی نہیں کہہ سکتا تھا کہ وہ ملزم تھے، وہ تو ایک بادشاہ کی طرح کپڑے جھاڑتے ہوئے بکتر بند گاڑی سے نکلتے تھے۔ پولیس والے انہیں سیلوٹ مارتے تھے اور مکمل پروٹوکول کے ساتھ انہیں عدالت تک لے جایا جاتا تھا۔

ہتھکڑی: قانون کیا کہتا ہے؟

پاکستان کے قانون میں ملزم کو ہتھکڑی لگانا ایک حسّاس معاملہ ہے اور یہ ہر کیس میں خودکار طور پر جائز نہیں ہوتا۔ عدالتوں نے اس ضمن میں واضح اصول طے کیے ہیں، خاص طور پر PLD 1994 SC 513 اور بعد کے فیصلوں میں۔

ہتھکڑی لگانا کب جائز ہے؟

٭ملزم کو ہتھکڑی صرف درج ذیل حالات میں لگائی جا سکتی ہے:

فرار ہونے کا واضح خدشہ ہو۔٭اگر پولیس کے پاس ٹھوس وجوہات ہوں کہ ملزم بھاگ سکتا ہے۔٭ملزم خطرناک یا عادی مجرم ہو۔ جیسے کہ سنگین جرائم (قتل، ڈکیتی وغیرہ) میں ملوث ہو یا ماضی میں فرار ہو چکا ہو٭خود یا دوسروں کے لیے خطرہ ہو٭اگر ملزم کے رویّے سے تشدد یا نقصان کا اندیشہ ہو٭عدالت کی اجازت یا ہدایات موجود ہوں٭بعض صورتوں میں عدالت خود ہتھکڑی لگانے کی اجازت دیتی ہے۔

کب ناجائز سمجھا جاتا ہے؟

ہتھکڑی لگانا غیر قانونی تصور ہوگا اگر: ٭محض معمول یا عادت کے طور پر لگائی جائے۔٭بغیر کسی وجہ یا خطرے کے لگائی جائے٭ملزم کے وقار اور بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہو۔

اہم اصول

ہتھکڑی لگانا ایک آخری حل (last resort) ہونا چاہیے٭پولیس کو وجہ ریکارڈ کرنا ضروری ہے٭عدالت اس عمل کا جائزہ لے سکتی ہے۔

ہتھکڑی لگانا ضروری نہیں

ملزم اگر عورت ہو یا نابالغ بچہ ہو تو اسے عدالت میں پیش کرتے ہوئے ہتھکڑی نہیں لگائی جاتی۔ خواتین پولیس اہل کار ہاتھوں سےاسے پکڑے رہتی ہیں۔

البتہ سلیپنگ ڈریس میں بھی نہیں لایا جاتا اور ملزمہ کو اس طرح تو بالکل بھی نہیں لایا جاتا کہ اُسے دیکھ کر یوں محسوس ہو جیسے وہ عدالت کے معائنے پر آئی ہے۔

اسپیشل ایڈیشن سے مزید