تاریک رات میں وہ ٹیرس پر تنہا کھڑی کسی گہری سوچ میں گُم تھی معمول سے ہٹ کر آج موسم بہت اُداس تھا۔ فروری کی ہلکی سرد رات نے اسے بہت کچھ سوچنے پر مجبور کر دیا تھا۔ اس کی سوچوں کا مرکز وہ لوگ تھے جنہیں وہ جانتی تک نہیں تھی، علم تھا تو بس اتنا کہ وہ درس و تدریس کے پیشے سے وابستہ تھا لیکن اس پیشے میں اسے درس سے زیادہ کمائی کے طریقے نظر آئے اور پھر وہ کر دکھایا جس کے بارے میں سوچ کر ہی کپکپاہٹ طاری ہو جائے، اُس نے اپنے ساتھ کچھ طلبا کو بھی شامل کر لیا تھا۔
زیادہ نمبر کی خواہش، میرٹ لسٹ میں جگہ بنانا، تعلیم کے بعد بنا تگ ودو کے ملازمت کی آس نے بہت سی معصوم بچیوں کا مستقبل تاریک کر دیا، ایسا کیوں ہوا، اور کیوں ہوتا ہے، یہیں پر آکر اس کے دماغ کی سوئی اٹک گئی، وہ یہ ماننے کو تیار ہی نہ تھی کہ، ایسا بھی ہوتا ہے۔
چند سال قبل اُس کی ایک دوست نے کالج کی تیسری منزل سے کود کر اپنی زندگی ختم کر لی تھی، جس کے بارے میں کہا گیا کہ، کالج کے چند طلبا اُسے دھمکیاں دیتے تھے، اُسے وقتا فوقتا فون پر ہراساں کرتے، جب اُس نے خاموشی اختیار رکھی تو بلیک میل کر کے اُسے اتنا خوفزدہ کیا کہ ایک دن کالج کی چہار دیواری میں ہی زندگی کو خداحافظ کہہ دیا۔
وہ کوئی عام اور کمزور لڑکی نہیں تھی جو کسی کے بہکاوئے میں آکر خوف زدہ ہو جاتی، اس کی آنکھوں کا سرد پن دیکھ کر سب اُس سے اُلجھنے سے گریز کرتے تھے، آخر ایسا کیا ہوا کہ زندگی سے منہ موڑ لیا۔ اُس کے دنیا سے جانے کے بعد پتا چلا، اُسے ہراساں کیا جارہا تھا، امتحان میں میرٹ پر کامیابی کا لالچ دے کراُسے جال میں پھنسایا جارہا تھا۔ ایسے میں اُس نے اس جہاں سے جانے کا فیصلہ کرلیا اور ہم میں سے کوئی کچھ نہ کر سکا۔
ہمیں ہراسمنٹ کے خلاف آواز اُٹھانی ہو گی،ورنہ کل کوئی اور طالبہ اپنے ادھورے خواب دل میں لئے، کچھ کہے سنے بنا دنیا سے چلی جائے گی، پھر احتجاج ہوگا، آوازیں بلند ہوں گی، مگر کچھ نہ ہوگا، جس کا اندازہ چند ہفتے قبل میڈیکل کالج کی ایک اور طالبہ فہمیدہ کی خودکشی سے ہوا، اُس کی زندگی کی ڈور ٹوٹنے کی وجہ بھی ہراسمنٹ تھی، گرچہ اُس نے صورت حال سے والدین کو آگاہ کیا تھا، انہوں نے کالج انتظامیہ سے شکایت کی لیکن کچھ نہ ہوا، ہوتا بھی کیسے جب اساتذہ ہی اُسے ہراساں کر رہے تھے۔ خودکشی کرنے سے قبل فہمیدہ نے اپنے گھر والوں سے کہا تھا،
’’میں مرجاؤں گی مگر تم میرا کیس لڑنا چپ نا ہوجانا‘‘۔
یہ ایک گُھٹی ہوئی چیخ تھی، رُکا ہوا آنسو، دبی ہوئی سسکی تھی۔
فہمیدہ کا آخری پیغام ’’میری موت کے بعدمیرا بدلہ لیا جائے‘‘۔ اس کا تھکا ہوا احتجاج ہے جو ہر سال ٹاپ کرتی تھی، مگر اس کالج کے ایک استاد اور چند ساتھی طلبہ کی جانب سے جس طرح وہ ہراسکی کا شکار تھی، اُس نے اُسے سوچنے پر مجبور کردیا کہ اپنی زندگی اپنے ہاتھوں ختم کرکے ہی اس اذیت سے آزاد ہو سکتی ہوں۔ کہا جاتا ہے کہ، ہراسمنٹ کے علاوہ اس سے40 ہزار روپوں کا تقاضہ بھی کیا گیا، جس کا ذکر اُس نے اپنی بہن، دوست اور والدہ سے کیا، والد کو بھی بتایا، جنہوں نے کالج انتظامیہ سے شکایت کی۔
ملزمان با اثر تھے شکایت کی خبر ملنے پر اسی پروفیسر اور دو طلبا نے اسے کمرے میں بند کر کے مزید ہراساں کیا،نہ جانے اُس پر کیا بیتی، کیا کچھ سہا، آخر کو تھی تو لڑکی، تھک گئی، ہمت ہار گئی، کوئی راستہ نظرنہ آیا تو خود کشی کرلی۔ آج ’’ما ئیں سوال کررہی ہیں کہ ، تعلیمی اداروں میں طالبات کی ’’خود کشی‘‘ کا سلسلہ کب رکے گا، انصاف کے دروازے کب کُھلیں گے؟
اُمید کیسے دم توڑتی ہے۔ روشن آنکھوں کے خواب کیسے بکھر جاتے ہیں۔ وہ جسے ڈاکٹر بن کر لوگوں کے دکھوں کا مداوا کرنا تھا ، وہ اپنے دکھوں کا بوجھ نا اٹھا سکی اور ہمت ہار بیٹھی… سوچیں وہ کونسی انتہا ہوگئی جب ایک باہمت حوصلہ مند قابلِ طالبہ اپنی زندگی کے خاتمے کا ارادہ کرے مگر فہمیدہ نے خود کشی نہیں کی، اسے قتل کیا گیا ہے، جو اس کے استاد نے، کالج کے طلبا نےکیا۔ اس سماج کے با اثر بدبودار کرداروں نے کیا، جو استاد اور طالب علم کے مقدس رشتے پر ایک سوالیہ نشان ہے۔
ذہنی آلودگی کا شکار یہ قاتل دوستی یا فون پر بات کرنے کی دھمکیاں دیتے ہیں ’’ہماری بات مان لو ورنہ نتائج کے لیے تیار ہو جاؤ‘‘ جیسے حربے استعمال کرتے، ناکامی کی صورت میں لڑکیوں کو بدنام کرتے ہیں۔ یہ ایک طالبہ مستقبل کی ڈاکٹر کی خود کشی نہیں بلکہ یہ ہمارے تعلیمی نظام اور بوسیدہ سماجی ڈھانچے کی خود کشی ہے۔
یہ ہمارے اخلاقی اقدار کی خود کشی ہے۔ یہ ایک دل دہلادینے والا واقعہ ہے، جس نے ہمارے تعلیمی نظام ،معاشرتی رویوں اور ادارہ جاتی ذمے داریوں پر سوال کھڑے کردیئے ہیں ۔تعلیمی ادارے صرف علم دینے کے مراکز نہیں بلکہ ایک محفوط ماحول فراہم کرنے کے بھی ذمہ دار ہوتے ہیں، جب یہی ادارے خوف اور دباؤ کا باعث بن جائیں تو نتائج خطرناک ہوتے ہیں۔ فہمیدہ ہی کے کالج میں پہلے بھی دو طالبات کی پُراسرار موت ہوچکی ہے۔
ذرا سوچیں، سندھ کی سرزمین کے وہ تعلیمی ادارے، وہ جامعات جہاں علم کے چراغ روشن ہوتے ہیں۔ چمکتے چہروں والے طلبا کی آنکھوں کے روشن خوابوں کو تعبیر ملتی ہے،وہ آج خوف، ذہنی اذیت اور خاموش چیخوں کی پناہ گاہیں بن چکے ہیں۔ پچھلے چند برسوں میں کتنی ہی بیٹیاں جن میں نمرتا کماری، نائلہ رند، نوشین کاظمی اور اب فہمیدہ لغاری، روشن مستقبل کی اُمید لے کر ان درسگاہوں میں داخل ہوئیں، مگر زندہ واپس نا آسکیں۔
ہر بار ایک نئی کہانی، نیا زخم، نئی تکلیف اور ہر بار وہی پرانابہانہ ’’خود کشی‘‘ کی ہے۔ سوال یہ ہے کہ، کیا ہر کہانی واقعی خود کشی ہے یا اس بے رحم نظام کی جانب سے قتل ہے، تاکہ سچ چھپ جائے۔ حقیقت میں یہ نظام سچ چھپانے کا عادی ہوچکا ہے۔ یہ وہ ماحول ہےجہاں ہراساں کرنا معمول بنتا جارہا ہے، جہاں طاقتوروں کے جرم چھپائے جاتے ہیں، کمزور کی گردن پر پیر رکھا جاتا، ان کی آوازوں کو دبایا جاتا ہے۔
نجانے کتنی فہمیدائیں اس قطار میں کھڑی انصاف کے لیے اپنی باری کا انتظار کرتے کرتے دنیا سے چلی گئیں، جس کا آغاز اُمید اور انجام خود کشی ٹھہرا۔یہ چند طالبات نہیں ہیں، یہ ہماری بیٹیاں ہیں ،ان کے خون کا حساب کون دے گا۔ انصاف کے دروازے کب کُھلیں گے، خاموشی کب ٹوٹے گی، آخر کب یہ سلسلہ رکے گا۔ کب پولیس اور انتظامیہ طاقتوروں کے چنگل سے آزاد ہوکر بروقت فریادی کی مدد کرے گی۔ اور ظلم کا شکار لوگوں کو آواز اٹھانے پر خاموش نہیں کیا جائے گا۔
کوئی بتلائو کہ ہم بتلائیں کیا۔ ایک سوال یہ بھی ہے کہ کیا ہم اپنی بچیوں کو خود کشی کرنے دیں اور صرف والدین سے ہمدردی کریں، کبھی ہراسمنٹ کے خلاف آواز اٹھائیں گے بھی یا نہیں، اس سے بچاؤ اور مقابلے کیلئے کچھ سوچیں گے،کوئی تدبیر اور ساتھیوں سے گفت و شیند کریں گے،ایسے واقعات کی روک تھام کیلئے کچھ نہ کچھ توعملی اقدامات کرنے ہوں گے۔
ہراسمنٹ صرف جسمانی نہیں ذہنی، جذباتی اور نفسیاتی بھی ہوتا ہے۔ نامناسب، تضحیک آمیز رویہ، دھمکیاں، اختیارات کا ناجائز استعمال کسی بھی طالب علم کو اندر سے توڑ سکتا ہے۔ تعلیمی اداروں میں جہاں اساتذہ کو رہنما اور محافظ سمجھا جاتا ہے وہاں اگروہ ہی طاقت کا غلط استعمال کریں گےتو طالب علم کیلئے ان کے خلاف آواز اُٹھانا بھی مشکل ہوجائے گا اور ایسا ہی ہو رہا ہے۔
ہمارے معاشرے میں خاموشی، بھی ایک بہت بڑا مسئلہ ہے۔ اکثر متاثرہ فرد بدنامی کے خوف، مستقبل کے خدشات یاعدم اعتماد کی وجہ سے شکایت نہیں کرتے۔ یہ خاموشی ہراساں کرنے والے کو مزید مضبوط بنادیتی ہے۔
ہراسمنٹ سے بچاؤ کیلئے سب سے زیادہ ضروری ہے بچوں اور والدین کے درمیان گہرا مضبوط تعلّق ہو، اس کے بعد جو اقدامات ضروری ہیں انہیں ذیل میں ملاحظہ کریں۔
٭ ذاتی آگہی اور پہچان…طلبہ کو چاہئے کہ وہ ہراسمنٹ کی اقسام جیسے جسمانی، زبانی آن لائن اور نفسیاتی ہیں،ان کو سمجھیں کیونکہ جب انہیں معلوم ہوگا کہ کون سا رویہ غلط ہے تو وہ بروقت رد عمل دے سکیں گے۔
٭حدود قائم کریں… اپنے لئے واضح حدود قائم کریں۔ اگر کوئی شخص نامناسب بات یا رویہ اختیار کرے تو اعتماد کے ساتھ ’’نہیں‘‘ کہیں خاموش نا رہیں۔٭ شواہد کو محفوظ رکھیں… اگر کوئی ہراس کررہا ہے تو پیغامات، ای میل، کال ریکارڈ یا دیگر ثبوت محفوظ رکھیں۔٭ فوری رپورٹ…قابل اعتماد استاد یا اعلیٰ انتظامیہ کو فوری آگاہ کریں۔٭ سپورٹ سسٹم مضبوط بنائیں… والدین، دوستوں اور قابلِ اعتماد افراد سے بات کریں، بات کرنے سے ذہنی بوجھ کم ہوتا ہے اور جذباتی مدد ملتی ہے۔ کسی بھی صورتحال کو اکیلے نا جھیلیں، بہت مشکل ہو تو سوشل میڈیا کا استعمال کریں۔
٭ذہنی صحّت کا خیال رکھیں… ہراسمنٹ کا اثر ذہنی صحّت پر بہت زیادہ ہوتا ہے۔ کاونسلنگ، تھراپی یا ماہر نفسیات سے مدد لینا سمجھداری ہے تاکہ ذہنی دباؤ کا مقابلہ کرسکیں۔ ٭ ادارہ جاتی اصلاحات۔ اداروں میں اینٹی ہراسمنٹ کمیٹی کا قیام ہونا چاہئے۔ انتظامیہ کو چاہئے کہ وہ اس معاملےمیں سخت پالیسی بنائیں۔ اساتذہ کی تربیت بھی ضروری ہے ،تاکہ انہیں اپنی حدود اور ذمہ داریوں کی خبر ہو… ٭ پاکستان میں ہراسمنٹ کے خلاف قوانین موجود ہیں طلبا کو چاہئے کہ وہ اپنے قانونی حقوق سے واقف ہوں، تاکہ قانونی مدد لے سکیں۔٭ اجتماعی شعور… میڈیا، تعلیمی اداروں اور معاشرتی راہنماؤں کو اس مسئلے پر بات کرنا چاہئے تاکہ ’’خاموشی‘‘ ختم ہو اور متاثرہ فرد کو حوصلہ ملے۔ہر طالب علم کو ایک محفوظ باعزت اور پُر امن ماحول فراہم کرنا صرف اداروں کا نہیں ہم سب کا فرض ہے تاکہ ہمارے بچے روشن مستقبل کی جانب بڑھنے کے بجائے کہیں پیچھے نا رہ جائیں۔ آگے بڑھیں، آگہی اور شعور پھیلائیں، ساتھ اپنے بچوں کی حفاظت میں اپنا حصہ ڈالیں۔