• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

حبیب الدین جنیدی

یکم مئی ،مزدوروں کا عالمی دن، اس کی تاریخ بتاتی ہے کہ 19 ویں صدی کے آخر میں امریکہ اور یورپ میں صنعتی انقلاب اپنے عروج پر تھا مگر محنت کشوں کے حالات انتہائی ابتر تھے ، ان سے مسلسل سولہ، سولہ گھنٹے کام لیا جاتا تھا،مزدور قوانین تک نہیں تھے، استحصالی نظام اپنی بدترین شکل میں مزدور طبقے پر مسلط تھا۔

ان حالات کے خلاف مزدور تنظیموں نے ایک مشترکہ مطالبہ پیش کیا اور وہ تھا کہ، آٹھ گھنٹے کا م ،آٹھ گھنٹے آرام اور آٹھ گھنٹے سماجی مصروفیات، اس مطالبے پر زور دینے کے لیے امریکہ بھر میں یکم مئی 1886 کو مزدوروں کی تحریک شروع ہوئی،جس کا زیادہ زور امریکا کے شہر شکاگو میں تھا۔

مزدوروں کی اس تحریک نے پوری دنیا پر زبردست اثرات مرتب کیے، محنت کشوں اور ان کی طاقت کو عالمی طور پر تسلیم کیا گیا، متعدد انقلابی پارٹیوں نے اس تحریک کے مقاصد کو اپنا نصب العین قرار دیا، یوں یہ تحریک عالمی تحریک بن گئی۔ 

پاکستان میں بھی مزدور تحریک اور ان کی قائدین نے محنت کشوں کے حقوق کے لیے طویل جدوجہد کی ، قید و بند کی صعوبتیں برداشت کیں، ملک کے متعدد چھوٹے بڑے شہروں میں مزدوروں نے اپنی پوری طاقت کے ساتھ ظالمانہ سرمایہ دارانہ نظام کے خلاف جدوجہد کی۔ دور آمریت میں ٹیکسٹائل مل ملتان کے مزدوروں کی جدوجہد کو ھمیشہ یاد رکھا جائے گا، جہاں ریاستی قوت نے پرامن ہڑتالی مزدوروں پراندھا دھند فائرنگ کی، جس کے نتیجے میں درجنوں بے گناہ شہید ہوئے۔

کراچی اور دیگر شہروں میں بھی مختلف ادوار میں محنت کشوں کی طاقت کو توڑنے کے لیے ان پر لاٹھی چارج کیا گیا، گولیاں برسائی گئی، جھوٹے مقدمات قائم کر کے ان کو جیلوں میں بھی ڈالا گیا، مگر ان مظالم کے باوجود محنت کش اپنے حقوق کے لیے ڈٹے رہے اور آج بھی ڈٹے ہوئے ہیں۔

صنعتوں، ہوم بیسڈ خواتین ورکرز، بے زمین کسانوں اور پاور سیکٹر کے محنت کشوں نے بھی اپنے حقوق کے تحفظ کے لیے بے مثال جدوجہد کی، مزدور قوانین مرتب کرنے میں بھی اُن کا بہت عمل دخل ہے۔ محنت کشوں کے حقوق کے لیے قانون سازی اور ان پر عمل درآمد کے لیے ادارے قائم کیے جانے کے حوالے سے شہید ذوالفقار علی بھٹو کا تاریخی اور سنہری دور تھا۔

بھٹو شہید نے ای او بی ائی سمیت متعدد فلاحی ادارے قائم کیے پاکستان میں پہلی نمائندہ سہ فریقی کانفرنس کے انعقاد کا سھرابھی شہید ذوالفقار علی بھٹو کے سر جاتا ہے قومی صنعتی تعلقات کمیشن این آئی آر سی کا ادارہ بھی انہوں نے قائم کیا۔ پیپلز لیبر بیورو کے قیام کا فیصلہ شہید بے نظیر بھٹو نے کیا۔

آج کے حالات کا جائزہ لیا جائے تو بحیثیت مجموعی محنت کش طبقہ انتہائی کسمپرسی کی زندگی بسر کر رہا ہے ۔ ٹریڈ یونین تحریک شدید زوال کا شکارہے۔ ایک معروف مزدور رھنما کرامت علی مرحوم کے بقول ’’صرف ایک فیصد مزدور ٹریڈیونین کا حصہ ہیں۔ ہزاروں ٹریڈیونین اور سیکڑوں مزدور فیڈریشن کی موجودگی کے باوجود بھی محنت کشوں کی قومی سطح پر کوئی بھی نمائندہ نہیں ھے‘‘۔

آبادی کے لحاظ سے مزدوروں کی تعداد تقریبا آٹھ کروڑ ہے مگران کا کوئی بھی ایک نمائندہ سینٹ اف پاکستان، قومی اسمبلی یا صوبائی اسمبلی میں نہیں ہے۔ پرائیویٹ سیکٹر میں پاکٹ یونینز کی بھرمار ہے، پرائیویٹ سیکٹرکے اداروں میں کہا جاتا ہے کہ ٹریڈ یونین کے قیام پر غیر اعلانیہ پابندی عائد ہے۔

مزدور قوانین پر عملدرآمد کی صورتحال تشویش ناک ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ پرائیویٹ سیکٹر کے 80 فیصد اداروں میں حکومت کی مقرر کردہ غیر ہنرمند کارکنوں کے لیے کم از کم 40 ہزار روپے ماھانہ تنخواہ ادا نہیں کی جاتی۔ سوشل سیکیورٹی ای او بی ائی اور ورکرز ویلفیر بورڈ کی سہولیات سے لاکھوں مزدور محروم ہیں۔

سال 2024 میں ائی ایل او کی جانب سے مزدور قوانین کو یکجا کرنے کی غرض سے سندھ اور پنجاب کے محکمہ محنت کو لیبر کوڈ 2026 کے نام سے ایک ڈرافٹ پیش کیا گیا، اس کوڈ کے بارے میں مزدور تنظیموں کے شدید تحفظات ہیں۔ صوبہ پنجاب میں اس پر قانون سازی کر لی گئی ھے جس کی وہاں کی مزدور تنظیموں کی جانب سے شدید مخالفت کی جارہی ہے۔ صوبہ سندھ میں بھی اس کوڈ پر بامقصد سہ فریقی مذاکرات کا سلسلہ جاری ہے، جس میں صوبائی وزارت محنت مزدوروں اور مالکان صنعت کے نمائندگان بھرپور حصہ لے رہے ہیں۔

قوی امید ہے کہ سندھ میں جو بھی قانون سازی ہوگی وہ اتفاق رائے سے ہوگی ، گو کہ مزدور اور ملازمت پیشہ طبقہ آج بھی اس معاشرے کی سب سے بڑی طاقت ہے مگرہماری کمزوری یہ ہے کہ ہم غیر منظم اور ٹکڑوں میں بٹے ہوئے ہیں۔ مزدور تنظیموں کو کم از کم ایجنڈے پر متفق ہونا چاہیے تاکہ ان کروڑوں افراد کی جن کی وہ نمائندگی کرتے ہیں ان کے مسائل اور مطالبات کو پوری قوت کے ساتھ اٹھایا جا سکے۔ دیکھیں کہ کب ہم کو یہ دن دیکھنے کو نصیب ہوتا ہے۔

اسپیشل ایڈیشن سے مزید