• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

کبھی کسی ماں کے قریب بیٹھ کر اُس کی آنکھوں میں جھانک کر دیکھیے وہ ماں جو اپنے ایسے بچے کو سینے سے لگائے بیٹھی ہو جو نہ دنیا کو دیکھ سکتا ہے، نہ آوازوں کو سن سکتا ہے، نہ قدموں پر چل سکتا ہے، نہ جذبات کو اُس طرح بیان کر سکتا ہے جیسے ہم کرتے ہیں۔ اُس کی خاموش آنکھوں میں ایک پوری کہانی بسی ہوتی ہے۔

ایسی کہانی جس میں ٹوٹے خواب بھی ہیں، ادھورے ارمان بھی، اور ایک ایسی محبت بھی جو ہر حد، ہر شرط اور ہر توقع سے آزاد ہو چکی ہوتی ہے۔ یہ بچے محض اسپیشل نہیں ہوتے، یہ اپنے والدین کے لیے ایک مسلسل امتحان ہوتے ہیں۔ ایسا امتحان جس کا نہ کوئی وقفہ ہے، نہ کوئی چھٹی، نہ کوئی اختتام۔ اور اس امتحان میں سب سے آگے کھڑی ہوتی ہے ایک ماں جو آہستہ آہستہ اپنی ذات سے خالی ہو کر صرف ماں رہ جاتی ہے جو اُس کی دنیا سمٹ کر صرف اپنے بچے تک محدود ہو جاتی ہے۔

نہ اُسے دن کا ہوش رہتا ہے نہ رات کا، نہ نیند اُس کی آنکھوں میں اترتی ہے نہ سکون اُس کے دل میں ٹھہرتا ہے۔ وہ جاگتی ہے تو اپنے بچے کے لیے، سوتی ہے تو بھی اُسی کے خیال میں۔ اُس کی ہنسی، اُس کی باتیں، اُس کے خواب سب کچھ کہیں پیچھے رہ جاتے ہیں۔ وہ خود کو بھول کر اپنے بچے کی ضرورت بن جاتی ہے، مگر کرب کی یہ کہانی صرف گھر کی چار دیواری تک محدود نہیں رہتی۔ باہر ایک اور دنیا اُس کی منتظر ہوتی ہے۔

ایک ایسی دنیا جہاں لوگ ہمدردی کے نام پر تجسّس کرتے ہیں، محبت کے پردے میں سوالوں کے تیر چلاتے ہیں اور لاعلمی میں ایسے جملے کہہ جاتے ہیں جو دل کو چیر دیتے ہیں ’’ اس کا علاج کیوں نہیں کرواتے، باہر لے جائیں، تمھارے شوہرکے تو تعلقات ہیں، شاید ٹھیک ہو جائے۔ یہ ایسا کیوں ہے‘‘؟ یہ سوال بظاہر سادہ ہوتے ہیں، مگر ایک ماں کے دل پرزخم پر نمک چھڑکنے کے مترادف ہوتے ہیں۔ کون ماں باپ ایسے ہیں جو اپنے بچے کے لیے ہر ممکن دروازہ نہ کھٹکھٹاتے ہوں، اپنے لختِ جگر کے لیے معجزہ نہیں چاہتے ہوں۔

مگر کچھ حقیقتیں ایسی ہوتی ہیں جنہیں بدلا نہیں جا سکتا، صرف قبول کیا جا سکتا ہے اور یہی قبولیت سب سے بڑا امتحان ہوتی ہے۔وقت کے ساتھ یہ والدین ایک عجیب سی خاموشی سیکھ لیتے ہیں۔ وہ اپنے ٹوٹے خوابوں کو دل کے کسی کونے میں دفن کر دیتے ہیں۔والدین کی ذمّہ داری یقیناً بہت بڑی ہوتی ہے۔ ایسے بچّوں کی پرورش عام بچّوں سے مختلف اور زیادہ صبر آزما ہوتی ہے۔

انہیں خصوصی توجہ، تربیت، علاج اور سب سے بڑھ کر محبت کی ضرورت ہوتی ہے۔ ایک باپ، جو دن بھر کی تھکن کے بعد گھر آتا ہے، جب اپنے اسپیشل بچّے کے چہرے پر مسکراہٹ دیکھتا ہے تو اُس کی ساری تھکن اتر جاتی ہے۔ ایک ماں، جو دن رات اپنے بچّے کی دیکھ بھال میں مصروف رہتی ہے، دراصل صبر اور ایثار کی ایک جیتی جاگتی مثال ہوتی ہے۔ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ اکثر والدین دل ہی دل میں اپنے خوابوں کے بکھرنے کا غم لیے جیتے ہیں۔

وہ سوچتے ہیں کہ اگر اُن کا بچّہ نارمل ہوتا تو شاید ڈاکٹر، انجینئر یا پائلٹ بنتا، مگر وقت کے ساتھ وہ یہ سیکھ لیتے ہیں کہ اصل کامیابی عہدوں اور پیشوں میں نہیں، بلکہ اُس محبت میں ہے جو وہ اپنے بچّے کو دیتے ہیں اور اُس چھوٹی سی مسکراہٹ میں ہے جو اُنہیں جینے کا حوصلہ دیتی ہے۔

ان کے بچے ڈاکٹر، انجینئر، پائلٹ بنیں،یہ سب خواب دھندلا جاتے ہیں، اور اُن کی جگہ ایک نئی خواہش لے لیتی ہے:“ میرا بچہ خوش رہے بس۔ اور پھر ایک دن ایسا آتا ہے جب وہ ایک چھوٹی سی مسکراہٹ میں اپنی پوری دنیا دیکھ لیتے ہیں۔ بچے کا ایک لمحاتی قہقہہ، ایک بےساختہ لمس، ایک معصوم نظر، یہ سب اُن کے لیے کسی بڑی کامیابی سے کم نہیں ہوتا۔

وہ سیکھ لیتے ہیں کہ اصل خوشی بڑے خوابوں کی تکمیل میں نہیں، بلکہ چھوٹے لمحوں کی قدر میں چھپی ہوتی ہے۔یہ بچے واقعی مختلف ہوتے ہیں،مگر کمزور نہیں۔ ان کے دل آئینے کی طرح صاف ہوتے ہیں،نہ ان میں لالچ ہوتا ہے، نہ نفرت، نہ خود غرضی۔ یہ نہ کبھی حساب مانگتے ہیں، نہ کبھی چھوڑ کر جانے کی دھمکی دیتے ہیں۔ یہ بس محبت کرتے ہیں بے لوث، بے غرض، مکمل محبت۔اور شاید یہی وجہ ہے کہ یہ بچے اپنے والدین کو بھی بدل دیتے ہیں۔ وہ انہیں صبر سکھاتے ہیں، برداشت سکھاتے ہیں، اور سب سے بڑھ کر،محبت کا اصل مفہوم سکھاتے ہیں۔

اسپیشل بچوں کے والدین دراصل اس دنیا کے وہ خاموش ہیروز ہیں جن کی جدوجہد اکثر نظروں سے اوجھل رہتی ہے، مگر ان کی عظمت ہر اُس دل پر واضح ہوتی ہے جو احساس کی روشنی رکھتا ہے۔ ان کے چہروں پر تھکن کی ہلکی سی پرچھائیں ضرور دکھائی دیتی ہیں، لیکن ان کی آنکھوں میں ایک عجیب سی چمک بھی ہوتی ہے ایک یقین، ایک استقامت اور ایک خاموش دعا کہ، شاید اُن کی یہ مسلسل قربانی ضائع نہیں جائے گی۔

حقیقت یہ ہے کہ ایسی قربانیاں کبھی رائیگاں نہیں جاتیں، کیونکہ یہ بچے بظاہر ایک آزمائش ضرور ہوتے ہیں، مگر اسی آزمائش کی تہہ میں ایک ایسی رحمت پوشیدہ ہوتی ہے جو ہر کسی کے نصیب میں نہیں لکھی جاتی۔ یہ وہ نعمت ہے جو صبر، محبت اور بے لوث خدمت کے ذریعےوالدین کو روحانی طور پر بلند کر دیتی ہے۔ وہ اپنے آپ کو ان خوش نصیب لوگوں میں شمار کرتے ہیں جنہیں قدرت نے اس امتحان کے ساتھ ساتھ اپنی خاص رحمتوں کا امین بھی بنایا ہے۔

وہ اُن نعمتوں کو محسوس کرتے ہیں جو اس آزمائش کے پردے میں عطا کی گئی ہیں اور دل کی گہرائیوں سے اپنے رب کا شکر ادا کرتے ہیں کہ اس نے ہمیں صبر، حوصلہ اور محبت کے اس راستے کا مسافر بنایا ہے۔ بس یہی کہا جا سکتا ہے کہ اسپیشل بچّے معاشرے کا کمزور نہیں، بلکہ حساس ترین طبقہ ہیں۔ اگر ہم نے انہیں قبول کر لیا، سہارا دے دیا اور محبت دے دی تو یہ بچّے ہمارے معاشرے کو زیادہ انسان دوست، زیادہ مہربان اور زیادہ خوبصورت بنا سکتے ہیں۔

اسپیشل ایڈیشن سے مزید