روبینہ یوسف
ممتا کا عالمگیر تصور شدتِ چاہت، خیال اور جذباتی اوصاف میں گندھا ہے۔ ماں محض ایک خدمت گذار نہیں بلکہ خاموش مقتدرہ ہے جو اخلاقیات اور اقدار کی تشکیل کرتا ہے۔ اس کاطرزِ عمل نسلوں کے نفسیاتی رویّوں کا تعین کرتا ہے۔ ماں کی دعا مشکلات سے لڑنے کا وہ ناقابلِ تسخیر اعتماد ہے جو اولاد کو غیر متزلزل یقین عطا کرتا ہے۔ معاشرہ ماں سے صرف پیار کی توقع رکھتا ہے۔
اس کے اندر چھپا ہوا غصّہ ایک مسلمہ حقیقت ہے۔ وہ ہمیں زندگی دیتی ہے، مگر جب وہ خود رخصت ہوتی ہے تو دائمی جدائی کا مفہوم واضح ہو جاتا ہے۔ بڑی شخصیات کی زندگیوں میں ان کی ماؤں کی تربیت یہ بتاتی ہے کہ عظیم ذہن کےپیچھے انہی کی سوچ بولتی ہے۔ سائنس نے یہ ثابت کیا ہے کہ جینیاتی طور پر ماں کا حصہ صرف ڈی این اے تک محدود نہیں بلکہ وہ ’’مائٹوکونڈریا ‘‘(Mitochondria) کے ذریعے توانائی کا تسلسل بھی فراہم کرتی ہے۔
بحرانوں کی صورت میں انسان ہمیشہ ایک پناہ گاہ ڈھونڈتا ہے۔ اس کا وجود مضبوط ترین حفاظتی حصار فراہم کرتا ہے۔ یعنی قدم قدم پر ماں کا رویّہ اس کے فکری توازن اور بقائے باہمی کے غیر محسوس مگر پختہ اصول، نسلوں کی تربیت بن جاتے ہیں۔ اس کا وجود بچے کے لیے دنیا کا پہلا آئینہ ہوتا ہے ۔ یہ مثل تومشہور ہے کہ، ماں کی گود بچے کی پہلی درسگاہ ہوتی ہے۔ وہ صرف ایک بچے کی پرورز نہیں کرتی ،ایک ذہن کی تشکیل کرتی ہے ۔اس کے اپنے ادھورے خواب اور سماجی جبر ایک ایسی کڑی بن جاتا ہے جو نسل در نسل بچے کے وجود میں اس کو منتقل کرتی چلی جاتی ہے۔
ماں کا رشتہ اولاد کے لیے جڑوں کی حیثیت رکھتا ہے۔ فرد جس قدر اس سے کٹتا ہے وہ کائنات کے سرد اور بے رحم پھیلاؤ میں خود کو اکیلا محسوس کرتا ہے۔ ماں کا وجود ایسی دہلیز ہے ،جس کو چھوڑ کر تنہائی کی اذیّت کو دعوت دینا ہے۔ ماں کا تخلیقِ عمل کائنات کے بِگ بینگ کی ایک ادنیٰ سی مثال ہے، جس طرح کائنات ایک نقطے سے پھیل کر لامتناہی وسعتوں میں بکھر گئی اسی طرح ایک ماں کا وجود تقسیم در تقسیم کے عمل سے گزر کر نئی زندگیوں کو جنم دیتا ہے۔ ہر نئی زندگی اپنی بنیاد سے دوری کا نام ہے۔
جب ہم زمین کو ماں کہتے ہیں تو لاشعوری طور پر اس سکونِ قلب کی تلاش میں ہوتے ہیں جو ہمیں شعور کی بیداری سے پہلے حاصل تھا۔ یومِ مادر کا منانا کسی جذباتی خراجِ عقیدت کا اظہار نہیں بلکہ اس اعتراف میں ہے کہ انسان اپنے اصل میں ٹوٹا ہوا ستارہ ہے جو اپنی مرکزیت سے محروم ہو چکا ہے ۔ماں کا رشتہ ہمیں ایسے وقت کی یاد دلاتا ہے جب ہم ہونے اور نہ ہونے کے درمیان موجود تھے۔
عام طور پر ممتا کو صرف جذباتیت اور نگہداشت کے پیرائے میں دیکھا جاتا ہے، مگر علمی اور عمرانی نقطۂ نظر سے ماں دراصل وقت کی تجسیم ہے جو ماضی کے بکھرے ہوئے دھاگوں کو حال کے کپڑے میں بنتی چلی جاتی ہے۔ وہ اپنے لمس اپنی لوریوں، اپنی وراثت سے کہانیوں حتّٰی کہ روزمرّہ کے چھوٹے چھوٹے معاملات کے ذریعے ایک ایسی ثقافت منتقل کرتی ہے جسے کسی درسگاہ میں نہیں سیکھا جا سکتا ۔یہ زبانی تاریخ، اورل ہسٹری کا وہ مستند ترین ذریعہ ہے جو کسی قوم کے لاشعور کو زندہ رکھتا ہے۔
ماں جب بہادر اور علمی شخصیات کے قصّے یا گزرے زمانے کی تلخ و شیری یادیں بچے کو سناتی ہے تو وہ دراصل گمشدہ وقت کی وسعتوں سے بچوں کو جوڑ رہی ہوتی ہے ۔یہ سوچ ایک طویل انسانی سلسلے کا حصّہ بن جاتی ہے۔ عمومی طور پر وقت کو تین حصوں میں تقسیم کیا جاتا ہے۔ ماضی، حال اور مستقبل ،مگر ماں کے وجود میں یہ تینوں زمانے ایک اکائی بن جاتے ہیں۔ وہ اپنے اسلاف کے ماضی کی امین، اپنی اولاد کی حال کے پاسدار اور ان کی تربیت کے ذریعے مستقبل کی معمار ہے۔
وہ اولاد کو بتاتی ہے ہم کون ہیں؟ کہاں سے آئے ہیں اور ہماری خاندانی روایات کیا ہیں؟ اس طرح وہ ہماری ذات میں داخلی آئینہ تیار کرتی ہے ،جس میں دیکھ کر ہم اپنی ذات کا ادراک کرتے ہیں۔ بطنِ مادر وہ واحد ریاست ہے جہاں انا کا وجود نہیں ہوتا۔ اپنی پوری زندگی میں سب سے محفوظ ترین عرصہ ایک بچے کا اس کی ماں کا پیٹ ہے، جہاں نہ بھوک کا خوف ہے نہ شناخت کا بحران اور نہ ہی خارجی دنیا کی ستم آرائیاں۔
ماں ایک مکمل وجودی کیفیت کا نام ہے۔ ہر تہوار ماں کے دم سے ہی سجتا ہے۔ بچوں کی بلکہ گھر بھر کی شاپنگ، گھر کی تزئین و آرائش ،نت نئے پکوان یہ سب ایک ماں ہی کر سکتی ہے، شادیوں کی بات ہوتو ایک کامیاب شادی کی پلاننگ ماں سے بڑھ کر کوئی نہیں کر سکتا۔ گھر اگر ایک کھیتی ہے تو ماں اس کی باغبان ہے۔
سب سے دلچسپ بات یہ ہے کہ ماں اولاد کی ہر عمر میں دوست ہوتی ہے۔ سب سے صائب مشورہ دینے والی، اولاد کا دکھ خود میں سمو کر مسکرانے والی، اسے یوں ہی تو ماواں ٹھنڈیاں چھاواں نہیں کہا گیا ہے۔ لفّاظی اور جذباتیت سے ہٹ کر دیکھا جائے تو اس کی ایک شفقت آمیز نظرہی ہمیں بہت معتبر بنا جاتی ہے۔
جب کہیں کٹھن مقامات پر سب ساتھ چھوڑ جائیں تو یہی ثابت قدمی سے ہمارا ساتھ دیتی ہے۔ تھکتی نہیں، اکتاتی نہیں، ہمت نہیں ہارتی، خود کانٹوں میں اُلجھ کر اولاد کے لیے اپنے دامن میں ہمیشہ پھول رکھتی ہے ۔ جب ماں نہیں رہتی تو اس کے ہاتھوں سے چھوئی گئی اشیاء مقدس تبرک کا رخ ڈھال لیتی ہیں۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ماں جدا ہو کر بھی ہماری زندگی میں اپنے لمس کے طور پر شامل رہتی ہے۔