آنکھوں کی مدد سے اب ایسے افراد کی نشاندہی کی جاسکے گی جو ایک عام وٹامن کی کمی کے خطرے سے دوچار ہوتے ہیں۔
ایک تحقیق کے مطابق آنکھوں کے ایک نئے ٹیسٹ سے پتہ چلا ہے کہ آنکھ کی مختصر ویڈیو کی مدد سے خون کی کمی (انیمیا) کی تشخیص ممکن ہوسکتی ہے، کیونکہ تحقیق سے معلوم ہوا کہ اس طریقے سے لوگوں کے سرخ خون کے خلیات ریڈ بلڈ سیل کی مقدار کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔
سائنسی جریدے نیچر میں شائع ہونے والی اس تحقیقی مقالے میں سائنسدانوں کا کہنا تھا کہ انہوں نے لوگوں کی آنکھوں کی سفیدی کی 10 سیکنڈ کی ویڈیوز ریکارڈ کیں جن کے ذریعے خون کی باریک نالیوں کا تجزیہ کیا گیا۔
سوئی کے بغیر استعمال کی جانے والی اس تکنیک کے دوران 200 سے زائد شرکا پر مشتمل ایک آزمائش میں 80 فیصد سے زیادہ مواقع پر خون کی کمی کا درست اندازہ لگایا گیا۔
برطانیہ میں خون کی کمی کی تشخیص کے لیے اس وقت خون کے ٹیسٹ طبی معیار (کلینیکل اسٹینڈرڈ) سمجھے جاتے ہیں، تاہم بہت سے لوگ انہیں تکلیف دہ اور بعض اوقات بہت زیادہ وقت کے صرف ہونے کے مترادف سمجھتے ہیں
اس نئی تحقیق کے نتائج سے مستقبل میں خون کی کمی کی تشخیص کا عمل آسان ہو سکتا ہے، لیکن محققین نے ابھی خبردار کیا ہے کہ یہ ٹیکنالوجی روایتی خون کے ٹیسٹوں کا مکمل متبادل نہیں بن سکتی۔ تاہم، ان کا کہنا ہے کہ یہ ایک ابتدائی اسکریننگ ٹول کے طور پر استعمال ہو سکتی ہے، جو ایسے افراد کی نشاندہی کرے جنہیں مزید تفصیلی خون کے ٹیسٹ کروانے کی ضرورت ہو۔
آکسفورڈ آئی اسپتال برطانیہ کی ماہر امراضِ چشم ڈاکٹر کرسٹائن کیرے کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ اس ٹیکنالوجی کی ممکنہ افادیت یہ ہو سکتی ہے کہ اس کے ذریعے مریضوں کی بغیر کسی تکلیف دہ طریقہ کار کے طویل مدت تک بار بار نگرانی کی جا سکے گی یا ایسے مریضوں کی ابتدائی مرحلے میں نشاندہی کی جا سکے جنہیں مزید طبی جانچ کی ضرورت ہو۔ واضح رہے کہ ڈاکٹر کرسٹائن اس تحقیق میں شامل نہیں تھیں۔
خون کی کمی میں مبتلا افراد کے جسم میں ان کی ضروریات کے مطابق کافی سرخ خون کے خلیات موجود نہیں ہوتے۔ خون کے سرخ خلیات میں موجود ہیموگلوبن پھیپھڑوں سے آکسیجن لے کر جسم کے مختلف بافتوں اور اعضا تک پہنچاتا ہے۔ انیمیا پیدا ہونے کی تین بنیادی وجوہات ہیں۔ جن میں جسم کافی مقدار میں سرخ خون کے خلیات پیدا نہیں کر رہا ہوتا، سرخ خون کے خلیات معمول سے زیادہ تیزی سے ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو جاتے ہیں یا پھر کسی وجہ سے جسم سے زیادہ مقدار میں خون ضائع ہو جاتا ہے۔
نیشنل انسٹیٹیوٹ فار ہیلتھ اینڈ کیئر ایکسیلینس برطانیہ کے مطابق کسی بھی وجہ سے ہونے والی خون کی کمی دنیا کی تقریباً 30 فیصد آبادی کو متاثر کرتی ہے۔ آئرن کی کمی، جو خون کی کمی کی سب سے عام وجہ ہے، دنیا بھر میں تقریباً ایک ارب افراد کو متاثر کرتی ہے۔
سائنسدان اب بڑے اور زیادہ متنوع گروہوں پر مشتمل تحقیق کا ارادہ رکھتے ہیں، جن میں آئرن کی کمی سے ہونے والی خون کی کمی کے مریض بھی شامل ہوں گے، کیونکہ اس تحقیق میں ان کی نمائندگی کم تھی۔ وہ اپنے طریقہ کار کی بار بار جانچ بھی کرنا چاہتے ہیں تاکہ اپنے نتائج کی تصدیق کر سکیں اور انہیں مزید وسعت دے سکیں۔